واقعہ قرطاس کے خلاف ایک روایت کا تحقیقی جائزہ
واقعہ قرطاس کے خلاف ایک روایت کا تحقیقی جائزہ
قارئین کرام! اہل سنت کے بعض علماء جب واقعہ قرطاس کے حوالے سے حضرت عمر بن خطاب کے مؤقف کا دفاع کرنے میں علمی طور پر ناکام ہو جاتے ہیں، تو وہ مسند احمد بن حنبل میں موجود ایک ایسی روایت پیش کرتے ہیں جسے وہ "دلیل دفاع" کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
روایت ملاحظہ فرمائیں:
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى الرَّاسِبِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِطَبَقٍ يَكْتُبُ فِيهِ مَا لَا تَضِلُّ أُمَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ، قَالَ: فَخَشِيتُ أَنْ تَفُوتَنِي نَفْسُهُ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَحْفَظُ وَأَعِي. قَالَ: " أُوصِي بِالصَّلاةِ، وَالزَّكَاةِ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ".
حضرت علیؑ بیان کرتے ہیں کہ نبیؐ نے مجھے ایک تختی لانے کا حکم دیا تاکہ آپ اس میں ایسی ہدایات لکھ دیں جن پر عمل کرنے سے آپ کے بعد امت گمراہ نہ ہو سکے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو میں کاغذ لینے چلا جاؤں اور پیچھے سے نبیؐ کی روح پرواز کر جائے۔ اس لئے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہؐ! آپ مجھے زبانی بتا دیجیے میں اسے یاد رکھوں گا تو آپؐ نے فرمایا : میں نماز، روزہ اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔
(مسند احمد، جلد1، صفحہ353، رقم693 اردو)
اس روایت کو پیش کر کے بعض سنی علماء یہ دعویٰ کرتے ہیں:
حضرت علیؑ نے وہی وصیت زبانی سن لی تھی جو رسول اللہؐ لکھوانا چاہتے تھے، اس لیے حضرت عمر کا کہنا کہ "ہمارے لیے قرآن کافی ہے" کوئی بڑی مخالفت نہیں۔
ہم کہتے ہیں :
اولاً: روایت کی سند ضعیف ہے۔
اس روایت میں ایک راوی نعیم بن یزید ہے جو "مجہول الحال" ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسند احمد کے محقق شیخ شعیب الأرنؤوط (حنفی) نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا۔
(المسند، جلد2، صفحہ105، رقم 693 طبع مؤسسة الرسالة)
پاکستان کے اہل حدیث عالم غلام مصطفی ظہیر امنپوری نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔
(وفاة النبيؐ النسائي مع شرح وتحقیق، صفحہ88، اسلامک بک کمپنی لاہور)
یعنی خود اہل سنت کے دو محققین اس روایت کو ناقابلِ اعتماد قرار دے چکے ہیں۔
ثانیاً: بالفرض اگر اس روایت کو تسلیم بھی کر لیا جائے تب بھی حضرت امیر المومنین علیؑ کا نبی اکرمؐ سے زبانی وصیت سن لینا حضرت عمر کے موقف کو ہرگز درست نہیں ٹھہراتا کیونکہ:
1: رسول اللہؐ خود لکھوانا چاہتے تھے۔ زبانی وصیت اور تحریری وصیت میں فرق ہوتا ہے، بالخصوص جب بات امت کی گمراہی سے بچانے کی آخری نصیحت کی ہو۔
2: حضرت عمر کا کہنا تھا:
"إنّ الرجل ليهجر! حسبنا كتاب الله!"
یعنی یہ شخص (نعوذ باللہ) ہذیان بک رہا ہے، ہمارے لیے قرآن کافی ہے۔
(صحیح مسلم، جلد5، صفحہ260، رقم 4233 اردو)
یہ جملہ نہ صرف ادبِ نبویؐ کے منافی ہے، بلکہ ایک واضح انکار ہے اس ارادے کا جو رسول اللہؐ خود تحریر کروانا چاہتے تھے۔
نتیجہ:
1: مسند احمد کی پیش کردہ روایت سند کے لحاظ سے ضعیف ہے۔ حتیٰ کہ اہل حدیث عالم نے بھی اس روایت کو ناقابلِ حجت تسلیم کیا۔
2: دلالتاً بھی یہ روایت حضرت عمر بن خطاب کے موقف کے دفاع میں کارآمد نہیں، کیونکہ وہ نبیؐ کے حکم کو ترک کرنے کے مرتکب ہوئے۔
تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری
ترتیب : عبداللہ امامی