حدیثِ ثقلین اور امام علیؑ سے اسکی تشریح
حدیثِ ثقلین اور امام علیؑ سے اسکی تشریح
شیخ صدوقؒ اپنی کتاب معانی الاخبار میں سنداً روایت نقل کرتے ہیں:
حدثنا أحمد بن زياد بن جعفر الهمداني قال: حدثنا علي بن إبراهيم بن هاشم عن أبيه عن محمد بن أبي عمير عن غياث بن إبراهيم عن الصادق جعفر بن محمد عن أبيه محمد بن علي عن أبيه علي بن الحسين عن أبيه الحسين بن علي عليه السلام قال: سئل أمير المؤمنين عليه السلام عن معنى قول رسول الله صلى الله عليه وآله انى مخلف فيكم الثقلين كتاب الله وعترتي من العترة؟ فقال: انا والحسن والحسين والأئمة التسعة من ولد الحسين تاسعهم مهديهم وقائمهم لا يفارقون كتاب الله ولا يفارقهم حتى يردوا على رسول الله صلى الله عليه وآله حوضه.
غیاث بن ابراہیم کا بیان ہے کہ امام صادق ؑ نے اپنے آباء کرام ؑ کی سند سے امام حسین ابن علی ؑ سے بیان کیا کہ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب ؑ سے رسول الله ؐ کے اس قول " إني مخلف فيكم الثقلين كتاب الله وعترتي" اس میں عترت سے کون مراد ہے؟ تو حضرت امیر المومنین علي بن ابیطالب ؑ نے فرمایا: (عترتي سے مراد) میں، حسن ؑ، حسین ؑ اور حسین ؑ کی اولاد سے نو آئمہ ہوں گے، جن میں نواں مہدی و قائم (عجل اللہ فرجہ الشریف) ہوگا، یہ سب کتابِ خدا سے جدا نہ ہونگے اور نہ ہی کتابِ خدا ان سے جدا ہوگی، یہاں تک کہ حوض (کوثر) پر وارد ہونگے ۔
(معانی الاخبار، صفحہ133 ناشر الکساء پبلشر)
شیخ احمد ماحوزی حفظہ اللہ اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیتے ہیں۔
(النصوص علی اھل الخصوص، صفحہ147/138)
آیت اللہ شیخ آصف محسنی ؒ کے نزدیک بھی اس روایت کی سند معتبر ہے۔
(معجم الاحادیث المعتبرہ، جلد2، صفحہ128)
چونکہ یہ روایت ان دو متضاد رجالی مناہج (یعنی شیخ احمد ماحوزی کے متساہل اور شیخ آصف محسنیؒ کے متشدد منہج) دونوں کے معیار کے مطابق معتبر قرار پاتی ہے، لہٰذا اس کی صحت پر کسی بھی زاویے سے اعتراض کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری
ترتیب: عبداللہ امامی