Back to ادارہ البلاغ مکتب اہل بیت ع

یوم غدیر اور تکمیل دین کی روایت: ایک معتبر حدیث کی سند و دلالت کا تحقیقی جائزہ

یوم غدیر اور تکمیل دین کی روایت: ایک معتبر حدیث کی سند و دلالت کا تحقیقی جائزہ

 

خطیب بغدادی (م 463ھ) نے اپنی کتاب تاریخِ بغداد میں ایک روایت سنداً نقل یوں کی ہے:

 

عن أبي هريرة قال: من صام يوم ثمان عشرة من ذي الحجة كتب له صيام ستين شهرا، وهو يوم غدير خم لما أخذ النبي صلى الله عليه وآله بيد علي بن أبي طالب، فقال: «ألست أولى بالمؤمنين من أنفسهم؟» قالوا: بلى يا رسول الله. قال: «من كنت مولاه فعلي مولاه» فقال عمر بن الخطاب: بخٍ بخٍ لك يا ابن أبي طالب، أصبحت مولاي ومولى كل مسلم، فأنزل الله: ﴿اليوم أكملت لكم دينكم﴾.

 

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جس نے ذوالحجہ کی اٹھارہ تاریخ کو روزہ رکھا، اس کے لیے ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ یہ وہ دن تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر خم کے مقام پر حضرت علیؑ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: کیا میں مؤمنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ صحابہ نے جواب دیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! تو آپؐ نے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں، اس کا علیؑ مولا ہے۔

اس پر حضرت عمر بن خطاب نے کہا: مبارک ہو! مبارک ہو! اے ابن ابی طالبؑ! آپ میرے اور ہر مسلمان کے مولا بن گئے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «اليوم أكملت لكم دينكم» (آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا)۔

 

(تاریخ بغداد، ج8، ص284، ط دار الکتب العلمیة، بیروت)

 

روایت کی سند اور اس پر اعتراضات کا علمی تجزیہ:

 

اسکی سند بلکل صحیح ہے لیکن پھر بھی بعض نواصب اس پر دو راویوں کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں کہ ان پر جرح کی گئی ہے۔

 

1: مطر الوراق

 

صحیح مسلم کے راوی اور جمہور کے نزدیک ثقہ ہیں۔

 

ابن حجر عسقلانی نے مطر الوراق کے بارے میں یوں لکھا ہے : 

 

"صدوق کثیر الخطاء" راوی ہے اور عطاء سے اس کی روایت ضعیف ہے۔

 

(تقریب التہذیب، جلد2، صفحہ188، رقم6699)

 

شمس الدین ذہبی اس کے متعلق لکھتے ہیں: 

 

مطر بن طھمان الوراق، ثقہ تابعی، یہ عطا سے روایت کرتا ہے۔ ابن سعد نے کہا : اسکی احادیث میں ضعف ہے۔ احمد بن حنبل و ابن معین نے اسکی عطاء سے روایات کو خاص طور پر ضعیف قرار دیا۔

 

(المغنی فی الضعفاء، جلد2، صفحہ411، رقم6284، طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)

 

یہی وجہ ہے کہ ابن رجب الحنبلی نے اپنی کتاب میں مطر الوراق کو ان رواة میں شامل کیا جو کسی خاص استاد سے روایت کرنے میں ضعیف ہوتے ہیں: 

 

مطر بن طھمان الوراق

 

احمد بن حنبل و یحیی بن معین نے خاص اسکی عطاء سے روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔ احمد بن حنبل نے کہا : یہ مضطرب الحدیث ہے عطا سے نقل کرنے میں۔

 

(شرح العلل، صفحہ657/658، طبع دار الملاح للطباعة والنشر)

 

پس مطر الوراق بذاتِ خود ثقہ ہے۔ عطاء سے اس کی روایات محلِ نظر ہیں، جبکہ اس روایت (جس ہم نے نقل کیا) میں عطاء موجود نہیں، لہٰذا یہاں اس پر اعتراض باطل ہے۔

 

2: شھر بن حوشب

 

صحیح مسلم کا راوی ہے اور اکثر محدثین کے نزدیک ثقہ ہے۔

 

پاکستان کے محقق زبیر علی زئی نے انکے متعلق یوں نقل کیا:

 

شھر بن حوشب : 

 

النووی نے کہا : اس پر ایک جماعت نے جرح کی ہے لیکن اکثر نے توثیق کی ہے۔ (المجموع شرح مھذب ۱ /۳۷۰)

 

حافظ ابن حجر نے کہا : یہ جمہور کے نزدیک مقبول ہے۔ (الامالی مطلقہ ۱/۷۵)

 

عراقی نے کہا : اسکو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔ (التقید و الایضاح صفحہ ۵۱)

 

یہ اقوال نقل کرنے کے بعف حافظ زبیر علی زئی لکھتے : 

 

حق النووی کے ساتھ ہے شھر بن حوشب کے متعلق کہ اسکو اکثر یا جمہور نے ثقہ قرار دیا ہے۔

 

(مقالات، جلد3، صفحہ355/356)

 

پس شہر بن حوشب کو بھی جمہور نے قابلِ اعتماد قرار دیا ہے، لہٰذا روایت کی سند پر کوئی مؤثر اعتراض باقی نہیں رہتا۔

 

الحمد للہ! نتیجتاً یہ روایت یا تو صحیح ہے یا کم از کم حسن لذاته ہے۔ اس پر ناصبیت یا تعصب کی بنیاد پر کیے گئے اعتراضات رجالی معیار پر پورے نہیں اترتے۔

 

اس روایت کو محقق ملت علامہ عبدالحسین الامینی نے اپنی کتاب الغدیر میں بھی نقل کیا ہے اور اسکے تمام رجال کی توثیق کی ہے۔

 

(غدیر قرآن، حدیث اور ادب کی روشنی میں، جلد1، صفحہ429 اردو)

 

خلاصہ:

 

1: یومِ غدیر کی اہمیت پر یہ روایت ثابت و معتبر ہے۔

2: روایت کے تمام راوی جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ یا مقبول ہیں۔

3: سند میں کوئی جرح مفسر یا قطعی ضعف موجود نہیں۔

4: اس روایت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یوم غدیر پر حضرت علیؑ کی ولایت کے اعلان کے بعد آیتِ "أکملت لکم دینکم" نازل ہوئی، جو اس دن کی شرعی تکمیلیت کو ظاہر کرتی ہے۔

 

تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری

ترتیب: عبداللہ امامی