بنو امیہ کے دور میں اہلِ عراق کا مذہب
بنو امیہ کے دور میں اہلِ عراق کا مذہب
ابوبکر بن ابی شیبہ (متوفی ۲۳۵ھ) اہل سنت کے جلیل القدر محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے كتاب الايمان میں امام طاووس (تابعی) سے ایک نہایت اہم اور فکری لحاظ سے چونکا دینے والا اثر نقل کیا ہے:
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: "عَجَبًا لِإِخْوَانِنَا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ يُسَمَّوْنَ الْحَجَّاجَ مُؤْمِنًا! ".
طاؤوس بیان کرتا ہے کہ مجھے اپنے عراقی بھائیوں پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ حجاج (جیسے شخص) کو مومن کہتے ہیں۔
ناصر الدین البانی نے اس اثر کے بارے میں یوں لکھا :
"هذا الأثر وما بعده من الآثار الثلاثة صحيحة".
یہ اثر اور اس کے بعد آنے والے تین آثار صحیح ہیں۔
(کتاب الایمان، صفحہ39، رقم95 طبع المکتب الاسلامی)
حجاج بن یوسف ثقفی بنو اُمیہ کا گورنر اور شدید ترین ناصبی تھا، جس کے ظلم، فسق اور اہل بیتؑ دشمنی کی گواہی خود اہلسنت کے معتبر مؤرخین اور محدثین نے دی ہے۔ اگر اُس دور میں اہلِ عراق جیسے اہم اسلامی خطے کے عوام اُسے «مؤمن» کہہ رہے تھے تو یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بنو اُمیہ کی ناصبی سیاست نے اہل عراق کے مذہبی مزاج کو کس قدر متاثر کر دیا تھا۔ اس طرزِ فکر سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اُس زمانے میں اہل عراق کا عمومی مذہبی رجحان کس نہج پر تھا؟
تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری
ترتیب: عبداللہ امامی