Back to ادارہ البلاغ مکتب اہل بیت ع

کیا اس امت میں غیر نبی ملائکہ کو دیکھ اور ان سے کلام کر سکتا ہے؟

کیا اس امت میں غیر نبی ملائکہ کو دیکھ اور ان سے کلام کر سکتا ہے؟

 

قارئین کرام! اکثر اوقات جب ہمارا عقیدہ کہ آئمہ علیہم السلام محدث (یعنی وہ ہستیاں جو ملائکہ کی آواز سننے اور ان سے ہم کلام ہونے کی قدرت رکھتی ہیں) ہیں پیش کیا جاتا ہے تو اہل سنت حضرات اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں، اور بعض اسے نبی کے علاوہ ممکن ہی نہیں سمجھتے۔ ان کا اعتراض ہوتا ہے کہ "نبوت" کے بعد یہ درجہ کسی کے لیے ثابت کرنا جائز نہیں۔

 

مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراض صرف تعجب پر مبنی ہے، علمی نہیں ہے۔ بلکہ اہل سنت کے مسلمہ مصادر میں ایسی متعدد روایات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امت کے عام افراد (جو نہ نبی تھے اور نہ امام) فرشتوں کو دیکھ بھی سکتے تھے اور ان سے ہم کلام بھی ہو سکتے تھے۔

 

چنانچہ اہل سنت کے معروف محدث ابوبکر ابن ابی الدنیا (م281ھ) نے کتاب التواضع والخمول میں ایک قابلِ توجہ روایت ذکر کی ہے:

 

حدثنا محمد بن عبد الوهاب حدثنا يعقوب القمي عن جعفر بن أبي المغيرة عن سعيد بن جبير عن بن عباس قال عاد رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا من الأنصار فلما دنا من منزله سمعه يتكلم في الداخل فلما دخل عليه لم ير أحدا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم سمعتك تكلم غيرك قال يا رسول الله لقد دخلت الداخل اغتماما بكلام الناس مما بي من الحمى فدخل علي رجل ما رأيت رجلا قط بعدك أكرم مجلسا ولا أحسن حديثا منه قال ذاك جبريل وإن منكم رجالا لو أن أحدكم أقسم على الله عز وجل لأبره

 

عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار میں سے ایک آدمی کی عیادت کو گئے۔ جب وہ انکے گھر کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے اسکو گھر کے اندر سے بات کرتے ہوئے سنا۔ جب وہ گھر کے اندر داخل ہوگئے تو وہاں کسی اور کو نہیں پایا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا کہ میں نے تم کو کسی سے بات کرتے ہوئے سنا، تو اس (انصاری) نے جواب دیا : اے اللہ کے رسولؐ! میں اندر داخل ہوگیا تھا کیونکہ میں لوگوں کی باتوں سے پریشان ہوگیا تھا میرے بخار کی وجہ سے تو ایک آدمی میرے پاس آیا اور میں نے ایسا معزز شخض کسی مجلس میں نہیں دیکھا اور ایسا بہترین کلام کرنے والا بھی نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا۔ وہ آپ کے سامنے آدمی تھا۔ اگر آپ میں سے کوئی بھی اللہ کی قسم اٹھائے گا تو وہ اسکی تعظیم کرے گا۔

 

حاشیہ پر محقق نے لکھا ہے کہ ابن حجر ہیثمی نے اسکی اسانید کو حسن قرار دیا ہے۔

 

(کتاب التواضع الحمول، صفحہ98، رقم2، طبع دار الاعتصام)

 

اس روایت کو امام اہلسنت ہیثمی (م 807ھ) نے بھی امام طبرانی (م 360ھ) کی کتاب معجم سے نقل کیا ہے:

 

16536 - وعن ابن عباس قال : عاد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - رجلا من الأنصار ، فلما دنا من منزله سمعه يتكلم في الداخل ، فلما استأذن عليه دخل ، فلم ير أحدا ، فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : " سمعتك تكلم غيرك " . فقال : يا رسول الله ، لقد دخلت الداخل اغتماما بكلام الناس مما بي من الحمى ، فدخل علي رجل ما رأيت رجلا بعدك أكرم مجلسا ، ولا أحسن حديثا منه . قال : " ذاك جبريل ، وإن منكم لرجالا لو أن أحدهم يقسم على الله لأبره " .

 

رواه البزار والطبراني في الكبير والأوسط ، وأسانيدهم حسنة .

 

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، جلد20، صفحہ650/651، رقم16495 طبع دار المنہاج)

 

قابلِ غور نکتہ:

 

1: وہ انصاری کوئی نبی نہ تھا۔

2: اسے حضرت جبرائیلؑ کی زیارت ہوئی اور اس نے ان سے گفتگو بھی کی۔

3: یہ واقعہ اُمتِ محمدیہ میں پیش آیا، سابقہ امتوں میں نہیں۔

4: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تصدیق کی کہ وہ جبرئیل تھے، اور اسے ملامت نہیں کیا۔

 

نتیجہ: 

 

لہذا جب اہل سنت کی معتبر روایات کے مطابق ایک عام انصاری صحابی حضرت جبرائیل علیہ السلام کی زیارت کر سکتا ہے اور ان سے گفتگو بھی کر سکتا ہے، تو پھر آئمہ اہل بیت علیہم السلام جیسی معصوم، مطہر، اور الہی منتخب شخصیات کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ "محدث" ہیں اور فرشتوں سے ہم کلام ہو سکتے ہیں، کسی بھی اعتبار سے محلِ اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ 

یہ عقیدہ نہ تو عقل کے خلاف ہے، نہ قرآن کے، اور نہ ہی اہل سنت کے اصولِ حدیث کےخلاف ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراضات تعصب پر مبنی ہوتے ہیں، علمی اصولوں پر نہیں۔

 

تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری

ترتیب: عبداللہ امامی