اس امت کی دو مائیں اور ان میں واضح فرق
اس امت کی دو مائیں اور ان میں واضح فرق
قارئین کرام! اسلامی تاریخ کا ایک تلخ اور ناقابلِ انکار باب یہ ہے کہ خلافتِ امویہ کے دور میں امام علی بن ابی طالبؑ پر منبر و محراب سے منظم انداز میں سبّ و شتم کیا جاتا رہا، حتیٰ کہ یہ ناسزا کلمات خطبوں کا حصہ بن چکے تھے۔ اس سنگین فتنہ کے ردعمل میں صحابہ اور اہل بیتؑ کی طرف سے مختلف رویے سامنے آئے۔
خاص طور پر ازواجِ رسولؐ یعنی "امہات المؤمنین" کے طرز عمل میں نمایاں فرق نظر آتا ہے، اور یہی فرق حقیقت کی کئی پرتیں کھول دیتا ہے۔
حضرت ام سلمہؓ :
احمد بن حنبل نے اپنی کتاب فضائل الصحابہ میں ایک حدیث نقل کی ہے جو اس طرح ہے :
عن ابي عبد الله الجدلي قال دخلت على ام سلمة قال : ايسب رسول الله (ص) فيكم قلت : سبحان الله او معاذ الله ـ قالت : سمعت رسول الله (ص) يقول : من سب عليا فقد سبني .”
ابو عبداللہ جدلی روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت ام سلمہؓ کے یہاں داخل ہوا تو انہوں نے فرمایا : آپ کے یہاں کیوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دی جا رہی ہیں؟ میں نے جواب دیا: سبحان اللہ یا معاذ اللہ تو انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ جس نے علیؑ کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی۔
کتاب کے سلفی محقق استاد ڈاکٹر وصی اللہ عباس اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیتے ہیں۔
(فضائل الصحابہ، باب فضائل علی ابن ابی طالب، جلد2، صفحہ53، رقم1011، طبع دار ابن جوزی ریاض سعودیہ)
یعنی حضرت ام سلمہؓ نے علی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کو رسول اللہؐ کی شان میں گستاخی قرار دیا۔ اس سے ان کا نہ صرف حضرت علیؑ سے روحانی تعلق ظاہر ہوتا ہے بلکہ وہ حضرت علیؑ کو رسول اللہؐ کا عین آئینہ سمجھتی تھیں۔
یہ روایت نہ صرف عقیدت کی دلیل ہے بلکہ ایک علمی اور دینی مؤقف بھی ہے جو واضح کرتی ہے کہ حضرت علیؑ پر سبّ، خود رسول اللہؐ کی توہین کے مترادف ہے۔
حضرت عائشہ بنت ابی بکر :
احمد بن حنبل نے اپنی کتاب "المسند" میں ایک حدیث لائی ہے جو اس طرح ہے :
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ فَوَقَعَ فِي عَلِيٍّ وَفِي عَمَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ أَمَّا عَلِيٌّ فَلَسْتُ قَائِلَةً لَكَ فِيهِ شَيْئًا وَأَمَّا عَمَّارٌ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُخَيَّرُ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَرْشَدَهُمَا.
عطا بن یسار بیان کرتے ہے کہ ایک آدمی آیا اور جناب عائشہ کے سامنے علیؑ و عمارؓ کے بارے میں کچھ (بدکلامی) کرنے لگا تو حضرت عائشہ نے کہا : جہاں تک علیؑ کا معاملہ ہے میں انکے بارے میں کچھ کہ نہیں سکتی لیکن عمارؓ کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ جب بھی ان پر دو کام پیش کیے گئے تو انہوں نے ان میں سے صحیح کام کا انتخاب کیا۔
کتاب کے محقق شعیب الارنؤط اس حدیث کی سند کو مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیتے ہیں۔
(مسند احمد، مسند عائشہ، جلد11، صفحہ225، رقم25331 اردو)
یہ خاموشی ایک ایسے وقت میں تھی جب امام علیؑ پر منبروں سے سبّ ہو رہا تھا۔ امت کے ایک گروہ کو سکوتِ عائشہ سے جواز ملا کہ حضرت علیؑ پر تنقید کوئی ناجائز عمل نہیں۔ جبکہ حضرت ام سلمہؓ کا کلام واضح طور پر اس روش کی نفی کرتا ہے۔
تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری
ترتیب: عبداللہ امامی