اہل سنت محدث ابوبکر بن ابی داود کا "حدیثِ طیر" پر عجیب اعتراض اور حافظ ذہبی کی اس پر گرفت
اہل سنت محدث ابوبکر بن ابی داود کا "حدیثِ طیر" پر عجیب اعتراض اور حافظ ذہبی کی اس پر گرفت
قارئین کرام! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ایک مشہور حدیث "حدیثِ طیر" ہے، جو امام علی علیہ السلام کی عظمت و فضیلت پر ایک روشن دلیل ہے۔ یہ حدیث اہل سنت کی کئی کتب میں مختلف اسانید کے ساتھ منقول ہے، اور اس کی صحت پر ہم پہلے ہی انگریزی میں ایک آرٹیکل لکھ چکے ہیں:
https://dhulfikarmashriqi.wordpress.com/2020/06/28/%F0%9F%92%90most-beloved-to-allah-swt-among-his-whole-creation-after-prophet-muhammad-pbuh-%F0%9F%92%90/amp/
چونکہ یہ حدیث امام علیؑ کی عظمت کو واضح کرتی ہے، لہٰذا بعض متعصب محدثین نے اس سے بچنے کے لیے عجیب و غریب تاویلات کیں۔ ان ہی میں امام ابو بکر بن ابی داود (م 316ھ) بھی شامل ہیں۔ ان کے بارے میں حافظ ذہبی سیر اعلام النبلاء میں یوں نقل کرتے ہیں:
قال أبو أحمدُ بنُ عَدِي سمعتُ عليَ بنَ عبدِ الله الداهري يقول: سألتُ ابنُ أبي داودٍ عن حديثِ الطيرِ فقال: إنْ صَحَّ حديثُ الطيرِ فنبوةُ النبيِّ صلي الله عليه وسلم باطلٌ لانَّه حُكِيَ عن حاجبِ النبيِّ صلي الله عليه وسلم خيانةً يعني أنساً وحاجبُ النبيِّ لا يكونُ خائناً.
علی بن عبداللہ داھری بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام ابن ابی داود سے حدیثِ طیر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا :
اگر حدیث طیر کو صحیح مانا جائے تو یہ لازم آتا ہے کہ حضرت انس بن مالک (جو نبیؐ کے خادم و رازدار تھے) نے خیانت کی، اور نبیؐ کا رازدار خائن نہیں ہو سکتا، لہٰذا حدیث طیر کو ماننا نبوتِ محمدی کی نفی کے مترادف ہے (نعوذ باللہ)۔
قارئین کرام! ابن ابی داود کے اس قول سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کس طرح یہ فضائل حضرت امیر المومنینؑ کے انکار کے لئے نبیؐ کی نبوت کا لحاظ تک نہیں رکھتے اس کے اس قول پر نقد حافظ ذہبی نے کیا، چنانچہ اس قول کو نقل کرنے کے بعد وہ یوں لکھتا ہے :
قلتُ هذه عبارةٌ رديئَةٌ وكلامٌ نحسٌ بل نبوةُ محمدٍّ صلي الله عليه وسلم حقٌ قطعيٌ إن صحَّ خبرُ الطيرِ وإن لم يَصِحْ وما وجه الإرتباطِ؟
میں کہتا ہوں: "یہ انتہائی گھٹیا اور نحوست زدہ بات ہے۔ نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت تو قطعی حق ہے، چاہے حدیثِ طیر صحیح ہو یا نہ ہو۔ اس حدیث کا نبوت سے کیا تعلق؟
مزید لکھتے ہیں:
هذا أنس قد خَدِمَ النبيَّ صلي الله عليه وسلم قبلَ ان يَحْتلِمَ وقبل جريانِ القلمِ فيجوز ان تكون قصة الطائر في تلك المدة. فرضنا انه كان محتلما ما هو بمعصومٍ من الخيانةِ بل فعل هذهِ الجنايةَ الخفيفةَ متأولاً ثم انه حَبَسَ علياً عن الدخول كما قيل. فكان ماذا والدعوةُ النبويةِ قد نُفِذَتْ واُسْتُجِيْبَتْ فلو حبسه أو رده مراتٍ ما بَقِي يَتَصَوّرُ ان يَدْخُلَ ويَأكلَ مع المصطفي سواهُ.
یہ حضرت انس بن مالک نبیؐ کا خادم تھا بلوغیت سے پہلے اور اسکے بعد بھی لہذا غالباً یہ واقعہ بلوغیت سے پہلے کا ہے۔ فرض کریں کہ یہ اس وقت بالغ تھا تو وہ خیانت سے معصوم کیسے ہو سکتا ہے بلکہ انہوں نے معمولی غلطی کی تاویلی طور پر، پھر انہوں نے حضرت علیؑ کو روکا اندر آنے سے جیسا کہ کہا جاتا ہے۔ لہذا نبیؐ کی دعوت اس سے کہاں رک گئی اگرچہ اس نے اسکو روکا یا اسکو بار بار نکالا اور اس میں کوئی صورت نہیں بچ جاتی ہے سوائے اس کے کہ رسول اللہؐ کے ساتھ یہ (پرندہ) صرف اس (علی بن ابی طالبؑ) نے کھایا۔
مزید لکھتے ہیں:
... وحديثُ الطير علي ضعفه فله طرق جمة وقد أفردتها في جزء ولم يثبت ولا انا بالمعتقد بطلانه وقد أخطأ ابن أبي داود في عبارته وقوله وله علي خطئه اجر واحد وليس من شرط الثقة ان لا يخطئ ولا يغلط ولا يسهو والرجل فمن كبار علماء الاسلام ومن أوثق الحفاظ رحمه الله تعالي.
حدیثِ طیر اگرچہ ضعیف ہے، لیکن اس کے متعدد طرق موجود ہیں، میں نے ان سب کو ایک جز میں جمع کیا ہے۔ یہ حدیث میرے نزدیک قطعی ثابت نہیں، مگر میں اسے باطل بھی نہیں مانتا۔ ابن ابی داود نے یہاں خطا کی، اور ایسے خطا پر ایک اجر ہے۔ ثقہ ہونا یہ شرط نہیں کہ کبھی غلطی نہ کرے۔ ابن ابی داود اسلام کے عظیم علما اور اوثق حفاظ میں سے تھے
(سیر اعلاء النبلاء، جلد13، صفحہ232/233، طبع مؤسسة الرسالة)
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ امام علیؑ کی فضیلت پر وارد شدہ احادیث سے فرار کی خاطر بعض اہل حدیث علما کتنی انتہا پر چلے گئے کہ نبوت کے اصول تک کو قربان کرنے کو تیار ہوگئے۔
تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری
ترتیب: عبداللہ امامی