حضرت عائشہ نے خود "ام المؤمنین" کے مفہوم کی وضاحت فرمائی
حضرت عائشہ نے خود "ام المؤمنین" کے مفہوم کی وضاحت فرمائی
اہل سنت مؤرخ محمد بن سعد اپنی سند سے روایت نقل کرتے ہیں:
حدثنا : هشام أبو الوليد الطيالسي ، حدثنا : أبو عوانة ، عن فراس ، عن عامر ، عن مسروق : أن إمرأة قالت لعائشة : يا أمه. فقالت : لست بأمك ، أنا أم رجالكم.
مسروق بیان کرتا ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ سے کہا : اے میری ماں! تو انہوں نے جواب دیا : میں تمہاری ماں نہیں ہوں بلکہ میں صرف تمہارے مردوں کی ماں ہوں۔
(طبقات الکبریٰ، جلد8، صفحہ51، طبع دار الکتب العلمیة)
ابوبکر بہیقی نے اپنی کتاب میں ایک باب باندھا جو یوں ہے:
"بَابُ مَا خُصَّ بِهِ مِنْ أَنَّ أَزْوَاجَهُ أُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنِينَ، وَأَنَّهُ يَحْرُمُ نِكَاحُهُنَّ مِنْ بَعْدِهِ عَلَى جَمِيعِ الْعَالَمِينَ"
باب: "یہ بھی نبیؐ کا خاصہ ہے کہ امہات المومنین سے نکاح کے بعد باقی تمام لوگوں کیلئے آپؐ کی وفات کے بعد ان سے نکاح کرنا حرام"۔
اس باب میں ابوبکر بہیقی طبقات الکبری کی روایت کو اپنی سند سے یوں نقل کرتے ہیں:
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي قِمَاشٍ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فراسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لَهَا: يَا أُمَّهْ، فَقَالَتْ: " أَنَا أُمُّ رِجَالِكُمْ لَسْتُ بِأُمِّكِ ".
(سنن الکبریٰ، جلد8، صفحہ575/577، رقم13422 اردو)
اس کتاب کے محقق اسلام منصور عبد الحمید نے اس روایت کی سند کو "صحیح" کہا ہے۔
(سنن الکبریٰ، جلد7، صفحہ111، رقم13422، طبع دار حدیث قاھر مصر)
لہذا حضرت عائشہ کے اس اثر سے انہوں نے خود اس لفظ "ام المومنین" کی تشریح کردی کہ یہاں ماں سے مراد یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ان کا نکاح کسی بھی مرد سے حرام ہوگا جس طرح ایک مرد کا اپنی حقیقی ماں سے نکاح کرنا حرام ہے۔ یہی فہم حافظ ابوبکر بہیقی نے بھی اس اثر سے لیا۔
تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری
ترتیب: عبداللہ امامی