رسول اللهؐ کے وضو کرنے کا طریقہ
اہل سنت کے امام ابوبکر محمد بن عبداللہ (م 354ھ) نے اپنی سند کے ساتھ ایک روایت نقل کی ہے :
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِوُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَمَضْمَضَ مَرَّةً، مَرَّةً، وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً مَرَّةً، وَغَسَلَ وَجْهَهُ مَرَّةً، وَيَدَيْهِ مَرَّةً، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ ".
ہم سے محمد بن غالب نے بیان کیا، انہوں نے کہا، مجھے عبدالصمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا، ہمیں ورقاء نے زید بن اسلم سے، وہ عطا بن یسار سے، اور وہ ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عباسؓ نے فرمایا: کیا میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا طریقہ نہ بتاؤں؟
پھر انہوں نے (وضو کا طریقہ اس طرح بیان کیا کہ): رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ پانی سے کلی کرتے تھے، ایک مرتبہ پانی سے ناک کو دھوتے تھے، ایک مرتبہ چہرے اور ایک مرتبہ ہاتھوں کو دھوتے تھے، پھر سر اور پیروں کا مسح کیا کرتے تھے۔
کتاب کے محقق حلمی کاملا سعد عبدالہادی نے روایت پر "اسنادہ حَسن" کا حکم لگایا ہے
(كتاب الفوائد الشهير بالغيلانيات، جلد1، صفحہ363/364، رقم378 طبع دار ابن الجوزی ریاض)
نتیجہ : اس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کی ترتیب اور کیفیت اختصار اور اختیاری حالت میں بیان ہوئی ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسح علی الرجلین (پاؤں پر مسح کرنا) سنتِ نبویؐ میں شامل ہے، اور اہل تشیع کا عمل نہ صرف قرآن بلکہ صحیح سنت کے بھی عین مطابق ہے۔ پس جب روایت، قرآن، اور صحابی کا عمل تینوں یک زبان ہو جائیں، تو اس کی حجیت سے انکار دلیل کے بغیر ممکن نہیں۔
تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری
ترتیب: عبداللہ امامی