میت پر نوحہ و ماتم کرنا حضرت عائشہ اور باقی صحابیات کی سنت ہے
میت پر نوحہ و ماتم کرنا حضرت عائشہ اور باقی صحابیات کی سنت ہے
اہل سنت کا دعویٰ ہے کہ فوت شدگان پر رونا، ماتم اور نوحہ کرنا جائز نہیں لیکن جب ہم حضرت عائشہ کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم پر یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ خود اور اس وقت کی باقی صحابیات اس کو جائز سمجھتی تھی۔
امام احمد بن حنبل نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے:
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَفِي دَوْلَتِي لَمْ أَظْلِمْ فِيهِ أَحَدًا فَمِنْ سَفَهِي وَحَدَاثَةِ سِنِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قُبِضَ وَهُوَ فِي حِجْرِي ثُمَّ وَضَعْتُ رَأْسَهُ عَلَى وِسَادَةٍ وَقُمْتُ أَلْتَدِمُ مَعَ النِّسَاءِ وَأَضْرِبُ وَجْهِي
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال میری گردن اور سینہ کے درمیان اور میری باری کے دن میں ہوا تھا ، اس میں میں نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا ، لیکن یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی کہ میری گود میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا اور پھر میں نے ان کا سر اٹھا کر تکیہ پر رکھ دیا اور خود عورتوں کے ساتھ مل کر رونے اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی ۔
(مسند احمد، جلد11، صفحہ633، رقم26880 اردو)
مسند أحمد کے محقق شعیب الارنؤط اس حدیث کی سند کو حَسن قرار دیتے ہیں۔
(مسند أحمد، جلد43، صفحہ369، رقم26348، ط مؤسسة الرسالة)
ابو یعلی نے بھی اس روایت کو اپنی سند سے نقل کیا ہے:
حدثنا : جعفر بن مهران ، حدثنا : عبد الأعلى ، حدثنا : محمد بن اسحاق ، حدثني : يحيى بن عباد بن عبد الله ابن الزبير ، عن أبيه عباد ، قال : سمعت عائشة ، تقول : مات رسول الله صلی الله علیه وسلم بين سحري ونحري وفي بيت لم أظلم فيه أحدا ، فمن سفهي وحداثة سني أن رسول الله صلی الله علیه وسلم قبض وهو في حجري ، ثم وضعت رأسه على وسادة ، وقمت التدم مع النساء وأضرب وجهي.
(مسند ابو یعلی، جلد3، صفحہ640، رقم4568)
ابن ہشام نے بھی اس کو اپنی سیرت کی کتاب میں نقل کیا ہے۔
قال ابن اسحاق : وحدثني : يحيى بن عباد بن عبد الله ابن الزبير ، عن أبيه عباد ، قال : سمعت عائشة ، تقول : مات رسول الله (ص) بين سحري ونحري وفى دولتي ، لم أظلم فيه أحدا ، فمن سفهي وحداثة سني أن رسول الله (ص) قبض وهو في حجري ، ثم وضعت رأسه على وسادة ، وقمت التدم مع النساء ، وأضرب وجهي.
(سیرت ابن ھشام، جلد3، صفحہ264 اردو)
محمد بن سعد نے بھی اپنی سند سے اس روایت کو نقل کیا ہے:
أخبرنا : محمد بن عمر ، حدثني : عبد الله بن عبد الرحمن بن يحنس ، عن زيد بن أبي عتاب ، عن عروة ، عن عائشة ، قالت : توفي رسول الله (ص) بين سحري ونحري وفي دولتي ولم أظلم فيه أحدا فعجبت من حداثة سني أن رسول الله (ص) قبض في حجري فلم أتركه على حاله حتي يغسل ، ولكن تناولت وسادة فوضعتها تحت رأسه ، ثم قمت مع النساء أصيح والتدم،۔
(طبقات الکبریٰ، جلد1، حصہ دوم، صفحہ222 اردو)
اس روایت میں جو لفظ حضرت عائشہ نے استعمال کیا ہے وہ «التدم» ہے۔
غریب الحدیث کے عالم ابن اثیر جزری نے اسکی توضیع یوں بیان کی ہے :
والالتدام : ضرب النساء وجوههن في النياحة،،،۔
«التدام» اسکا معنی ہے عورتوں کا اپنے چہرے کو مارنا جب وہ نوحہ کرتی ہیں۔
ومنه حديث عائشة " قبض رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وهو في حجري ، ثم وضعت رأسه على وسادة وقمت ألتدم مع النساء وأضرب وجهي " .
یہ لفظ حضرت عائشہ کی اس روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات میرے حلق اور سینے کے درمیان ہوا۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر اٹھا کر تکیہ پر رکھ دیا اور خود باقی عورتوں کے ساتھ مل کر اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی۔
(النہایۃ فی غریب الحدیث، جلد4، صفحہ245 الناشر مکتبة الاسلامیة)
پاکستان کے معروف عالم غلام مصطفیٰ ظہیر امنپوری نے حضرت عائشہ کے نوحہ و ماتم کرنے پر موجود حدیث کو تو "حسن" تسلیم کیا ہے، مگر اس عمل کو "لاعلمی" پر محمول کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ان عورتوں کا یہ اقدام لاعلمی کی بنیاد پر تھا، جن میں حضرت عائشہ بھی شامل تھیں۔
(وفاۃ النبی نسائی مع شرح و تحقیق امنپوری، صفحہ116، طبع اسلامک بک کمپنی چہلم پاکستان)
اسی تاویل کو انجینئر محمد علی مرزا نے بھی اپنے ایک وڈیو بیان میں دہرایا ہے۔
ہم ان حضرات سے عرض کرتے ہیں:
اولاً: حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی گود میں وفات پانے کو اپنی کم عمری و جہالت پر محمول کیا نہ کہ ماتم کو، کیونکہ ماتم کرنا ایک اجتماعی عمل تھا جس میں دیگر صحابیات بھی شریک تھیں۔ ایسی صورت میں آپ صرف حضرت عائشہ کے فعل کو "لاعلمی" قرار دے کر باقی صحابیات کو کیسے بری الذمہ قرار دیں گے؟ اگر واقعی لاعلمی ہوتی، تو حدیث میں "جمع" کا صیغہ ہوتا۔
ثانیاً: جن خواتین نے یہ عمل کیا وہ عام جاہل عورتیں نہیں تھیں، بلکہ ازواجِ رسولؐ اور صحابیاتِ جلیلہ تھیں۔ کیا امنپوری صاحب اور مرزا صاحب یہ مان رہے ہیں کہ تمام صحابیات ایک ہی وقت میں جہالت و خطا پر متفق ہو سکتی ہیں؟
ثالثاً: یہ دعویٰ کرنا کہ حضرت عائشہ نے کم علمی میں ایسا کیا خود اہل سنت کی معتبر احادیث کے خلاف ہے۔
مثال کے طور پر حاکم نیشاپوری "المستدرك" میں ایک روایت نقل کرتے ہیں:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: «لَوْ جُمِعَ عِلْمُ النَّاسِ كُلِّهِمْ، ثُمَّ عِلْمُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَانَتْ عَائِشَةُ أَوْسَعَهُمْ عِلْمًا».
زہری بیان کرتے ہیں کہ اگر تمام لوگوں کا علم جمع کر لیا جائے، پھر ازواجِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم بھی جمع کیا جائے، تب بھی حضرت عائشہ سب سے زیادہ علم رکھنے والی ہوں گی۔
(المستدرک علی الصحیحین، جلد5، صفحہ527، رقم6734 اردو)
ذھبی نے حاشیہ میں لکھا کہ مسروق نے کہا کہ صحابہ میں مرد بھی اپنے اکثر سوالات حضرت عائشہ سے پوچھتے تھے اور پھر ان تمام آثار کی سند کو "صحیح علی شرط شیخین" قرار دیا۔
(المستدرك علی الصحیحین، جلد4، صفحہ12، رقم6734 ط دار الكتب العلمیة)
رابعاً: چوتھی دلیل جو امنپوری صاحب اور مرزا صاحب کی تاویل کی بنیادیں ہلا دیتی ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ نے نہ صرف رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے موقع پر ایسا کیا، بلکہ یہی عمل بعد ازاں اپنے والد حضرت ابوبکر کی وفات پر بھی دہرایا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ کوئی وقتی جہالت یا لاعلمی کا عمل نہ تھا، بلکہ شعوری اور اختیاری اقدام تھا۔
ملاحظہ فرمائیں، محمد بن سعد نے اپنی کتاب میں اس روایت کو یوں نقل کیا ہے:
أخبرنا عثمان بن عمر قال أخبرنا يونس بن يزيد عن الزهري عن سعيد بن المسيب قال لما توفي أبو بكر أقامت عليه عائشة النوح فبلغ عمر فجاء فنهاهن عن النوح على أبي بكر فأبين أن ينتهين فقال لهشام بن الوليد أخرج إلى ابنة أبي قحافة فعلاها بالدرة ضربات فتفرق النوائح حين، الخ۔
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر کا انتقال ہوا تو حضرت عائشہ نے ان پر نوحہ کروایا۔ یہ بات حضرت عمر کو پہنچی تو وہ آئے اور ان عورتوں کو نوحہ کرنے سے منع کیا، مگر وہ باز نہ آئیں۔ تو انہوں (حضرت عمر) نے ہشام بن ولید سے کہا: ابی قحافہ کی بیٹی کے پاس جاؤ۔ پس اس نے جا کر انہیں درّہ سے چند ضربیں ماریں، تو جب نوحہ کرنے والی عورتوں نے یہ منظر دیکھا تو منتشر ہو گئیں۔
(طبقات ابن سعد، جلد2، حصہ سوم، صفحہ42 اردو)
ابن حجر عسقلانی اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیتے ہیں:
"وصله ابن سعد في الطبقات بإسناد صحيح من طريق الزهري،"۔
(فتح الباری، جلد5، صفحہ93 ط دار المنہاج)
تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری
ترتیب: عبداللہ امامی