کیا امام حسینؑ پر ماتم کرنا شیعہ روایات کے مطابق حرام ہے؟
کیا امام حسینؑ پر ماتم کرنا شیعہ روایات کے مطابق حرام ہے؟
قارئین کرام! اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ علماءِ اہل سنت ہماری کتب سے ایسی احادیث نقل کرتے ہیں جن سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ کسی کی وفات پر سوگ یا ماتم کرنا جائز نہیں ہے۔
ایسے ہی اہل حدیث عالم حافظ زبیر علی زئی (م 2013ء) نے اپنی کتاب "تحقیقی اصلاحی اور علمی مقالات" میں شیعہ مصادر سے دو روایات نقل کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ماتم اور سوگ منانا اہل تشیع کے نزدیک بھی ناجائز ہے۔
موصوف اپنی کتاب میں بعنوان "شیعہ کی دو روایتیں" باب باندھتے ہیں اور اس میں لکھتے ہیں :
1: ابو عبد اللہ ( جعفر صادق رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ضرب المسلم يده على فخذه عند المصيبة إحباط لأجره .
"مسلمان کا مصیبت کے وقت اپنی ران پر ہاتھ مارنا اس کے اجر ( عمل ) کو ضائع کر دیتا ہے"۔ (فروع الکافی ج3 ص224 رقم4)
اس روایت کی سند شیعہ اصول پر صحیح ہے۔ نیز یہ روایت وسائل الشیعہ (2/660-661) اور بحار الانوار (79/89) پر بھی موجود ہے۔
(بحوالہ ماتم جی شرعی حیثیت |سندی| از ڈاکٹر عبد الحفیظ سموں)
2: سیدنا علی ؓ کی طرف منسوب کتاب ” نہج البلاغہ ” میں لکھا ہوا ہے کہ سیدنا علی ؓ نے فرمایا :
ومن ضرب يده على فخذه عند مصيبة حبط أجره.
” اور جو شخص مصیبت کے وقت اپنی ران پر ہاتھ مارے , اس کا عمل اکارت ( ضائع ہو ) جاتا ہے (ص493 فقرہ144, دوسرا نسخہ ص894)
ان روایات کی روشنی میں شیعہ فیصلہ کریں کہ وہ کس راستے پر جا رہے ہیں ؟
(تحقیقی اصلاحی اور علمی مقالات، جلد6، صفحہ419، طبع الکتاب انٹرنیشنل دھلی ہندوستان)
الجواب :
قارئین کرام! محقق زبیر علی زئی صاحب نے سب سے پہلے جس روایت سے استدلال کیا ہے اگرچہ اسکی سند صحیح ہے جیسا کہ انہوں نے کہا ہے اور ہمارے علماء نے بھی باقاعدہ ان احادیث سے مصیبت کے وقت رانوں پر ہاتھ مارنے کی کراہت ثابت کی ہے جیسا کہ محدث حر عاملیؒ (م1104ھ) نے اپنی کتاب میں اس پر یوں باب باندھا ہے :
باب ۸۱ : تأكد كراهة ضرب المصاب يده على فخذه
باب نمبر81 : مصیبت زدہ آدمی کے لیے ران پر ہاتھ مارنے کی شدید کراہت
(مسائل الشریعہ ترجمہ وسائل الشیعہ، جلد2، صفحہ306، کتاب الطہارۃ، ابواب الدفن)
اس کے بعد انہوں نے جو دوسری روایت نہج البلاغہ سے نقل کی ہے تو وہ سند کے لحاظ سے مرسل ہے پس جب سند میں ضعف ہے تو اس سے استدلال کرنا درست نہیں ہے۔
قارئینِ کرام! ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ جن دو روایات سے ماتم کی ممانعت پر استدلال کیا جا رہا ہے، ان کا متن عمومی ہے۔ جبکہ دیگر صحیح اور معتبر احادیث سے یہ ثابت ہے کہ امام حسینؑ پر غم و ماتم کو اس عمومی ممانعت سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
ملاحظہ فرمائیں:
شیخ طوسی (م 460ھ) نے ایک طویل روایت نقل کی ہے اس میں نقل ہوا ہے :
حدثنا محمد بن محمد، قال: حدثنا أبو القاسم جعفر بن محمد بن قولويه (رحمه الله)، قال: حدثني أبي، قال: حدثني سعد بن عبد الله، عن أحمد بن محمد ابن عيسى، عن الحسن بن محبوب الزراد، عن أبي محمد الأنصاري، عن معاوية بن وهب، قال: كنت جالسا عند جعفر بن محمد (عليهما السلام) إذ جاء شيخ قد انحنى من الكبر، فقال: السلام عليك و رحمة الله و بركاته. فقال له أبو عبد الله: و عليك السلام و رحمة الله و بركاته،،،،،،،،،، و قال (عليه السلام ) : كل الجزع و البكاء مكروه سوى الجزع و البكاء على الحسين (عليه السلام).
معاویہ بن وہب سے روایت ہے کہ ہم امام جعفر بن محمدؑ کے پاس بیٹھے تھے اور اسی وقت ایک بوڑھا آدمی انکے پاس آیا جسکی کمر بڑھاپے کی وجہ سے جھکی ہوئی تھی۔ اس نے آکر سلام کیا۔ آپؑ نے اسکا جواب دے کر اس بزرگ کو اپنے قریب بلایا،،،،،،،،،،،،[پھر یہ روایت آگے بڑھتی ہے اور] آخر میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
"ہر قسم کا جزع و فزع (بے صبری اور گریہ) اور رونا ناپسندیدہ ہے، سوائے امام حسین علیہ السلام پر جزع اور رونے کے (کہ وہ محبوب و پسندیدہ ہے)"۔
(امالی شیخ طوسی، جلد2، صفحہ46/49)
شیخ احمد ماحوزی حفظہ اللہ اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیتے ہیں:
وسنده صحیح رجاله ثقات أجلاء، أبو محمد الأنصاری، قال : عنه الثقتان الجیلان الیقطینی وابن عبد الجبار : وكان خیراً ۔
اس کی سند صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ (قابل اعتماد) اور جلیل القدر (بلند مرتبہ) ہیں۔ "أبو محمد الأنصاری" کے بارے میں کہا گیا ہے: دو جلیل القدر ثقہ راویوں، یعنی "الیقطینی" اور "ابن عبد الجبار" نے ان سے روایت کی ہے، اور وہ (أبو محمد الأنصاری) نیک سیرت انسان تھے۔
(النصوص علی اھل الخصوص، صفحہ149)
لہذا، یہ حدیث نہ صرف اس حقیقت پر روشن دلیل ہے کہ امام حسینؑ پر ماتم و گریہ ایک مشروع عمل ہے، بلکہ وہ عمومی روایات جن میں ماتم سے منع کیا گیا ہے، ان کی واضح تخصیص بھی اسی روایت سے ثابت ہوتی ہے۔ پس امام حسینؑ پر گریہ ان ممانعتوں سے مستثنیٰ ہے، اور یہ استثنا بذاتِ خود شرعی حجت رکھتا ہے۔
کوئی بھی طالب علم جو اصولِ فقہ سے ادنیٰ سی واقفیت رکھتا ہے، وہ اس اصول سے بخوبی آشنا ہوگا کہ جب دو روایات بظاہر باہم متعارض ہوں، ان میں سے ایک عام ہو اور دوسری میں تخصیص پائی جائے، تو اصولی طور پر خاص روایت کو عام پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ تخصیص والی روایت کا مفاد مقدم مانا جاتا ہے، اور عام روایت کو اس کے مطابق محدود کر دیا جاتا ہے۔
چنانچہ امامیہ کے معروف فقیہ شیخ محمد رضا مظفرؒ (م 1383ھ) اپنی کتاب میں یوں لکھتے ہیں :
لا يجوز العمل بالعام قبل الفحص عن المخصص
یہ جائز نہیں کہ کسی عام حکم پر عمل کیا جائے جب تک کہ اسکی تخصیص کا علم نہ ہو۔
(اصول الفقہ، صفحہ115)
یہ اصول نہ صرف امامیہ کے نزدیک مسلم و متفقہ ہے بلکہ اہل سنت کے اصول فقہ کی کتب میں بھی اس اصول پر اتفاق پایا جاتا ہے۔
اہل سنت محدث ابن حجر عسقلانی (م 852ھ) اپنی کتاب میں یوں لکھتے ہیں :
وان الخاص يقضي علي العام
بے شک خاص دلیل عام دلیل پر فوقیت رکھتی ہے.
(فتح الباری فی شرح الصحیح البخاری، جلد1، صفحہ120، رقم حدیث32)
سعودی عرب کے معروف عالم شیخ محمد بن صالح العثیمین (م 2001ء) نے بھی یہی بات فرمائی ہے :
يجب العمل بعموم اللفظ العام حتى يثبت تخصيصه
واجب ہے کہ عام حکم پر عمل کیا جائے الا کہ تخصیص ثابت ہو۔
(شرح الاصول من علم الاصول، صفحہ164)
خود حافظ زبیر علی زئی (م 2013ء) نے اپنی دوسری کتاب میں اس اصول سے جابجا استدلال کیا ہے۔
وہ یوں لکھتے ہیں :
خاص دلیل کے مقابلے میں عام دلیل پیش کرنا غلط ہے۔
پھر آگے انہوں نے کچھ مثالیں پیش کی ہیں جن میں ایک خاص حکم کو ایک عام حکم پر فوقیت دی جاتی ہے۔
(صحیح بخاری کا دفاع، صفحہ14)
لہٰذا یہ اصول ہمیں واضح طور پر بتاتا ہے کہ اگر ایک روایت کسی عمل سے عمومی طور پر منع کر رہی ہو اور دوسری روایت کسی خاص موقع یا شخصیت کو اس ممانعت سے مستثنیٰ کر رہی ہو، تو ہمیں خاص روایت کو ترجیح دینا ہوگی۔ اس لیے وہ احادیث جن میں عام طور پر ماتم سے منع کیا گیا ہے، انہیں امام حسینؑ پر گریہ و ماتم سے متعلق احادیث کے تحت محدود سمجھنا اصولِ فقہ کے مطابق ضروری ہے۔
تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری
ترتیب: عبداللہ امامی