Back to ادارہ البلاغ مکتب اہل بیت ع

رافضی ہونے کی وجہ سے "امام بخاری" کا ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث ترک کرنا

رافضی ہونے کی وجہ سے "امام بخاری" کا ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث ترک کرنا

 

خطیب بغدادی نے اپنی سند سے نقل کیا ہے:

 

أخبرنا محمد بن أحمد بن يعقوب أخبرنا محمد بن نعيم الضبي قال سمعت أبا عبد الله بن الأحرم الحافظ وسئل لم ترك البخاري حديث أبي الطفيل عامر بن واثلة قال لأنه كان يفرط في التشيع.

 

ابو عبداللہ بن الاحرم حافظ سے پوچھا گیا کہ بخاری نے ابو طفیل عامر بن واثلہ سے کیوں احادیث ترک کی تھیں؟ تو انہوں نے جواب دیا : کیونکہ وہ شیعت میں حد سے زیادہ گزر گئے تھے (تشیع میں افراط)۔

 

(کفایة فی علم الروایة، صفحہ131)

 

اس روایت کو ابن رجنب حنبلی نے علل صغیر کی شرح میں بھی نقل کیا۔

 

(شرح العلل، جلد1، صفحہ55؟ طبع دار السلام)

 

ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری کے مقدمے میں تشیع و تشیع میں غالی کا فرق اس طرح بیان کرتے ہیں : 

 

هو محبة علي بن أبي طالب وتقديمه على الصحابة. من يفضل عليًا على أبي بكر وعمر، فهو غال في تشيعه ويسمى رافضياً.

 

تشیع کے معنی علیؑ سے محبت اور ان کو عمومی طور پر صحابہ پر افضلیت دینا اور تشئع میں غلو (افراط) کا مطلب علیؑ کو ابوبکر و عمر پر بھی افضلیت دینا اور اسکو رافضی بھی کہا جاتا ہے۔

 

(ھدی الساری، صفحہ459، طبع المکتبة السلفیة)

 

ابن حجر عسقلانی نے اپنی دوسری کتاب میں ابو طفیل عامر بن واثلہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابیوں میں شامل کیا۔ انہوں نے مسلم بن حجاج سے اس طرح نقل کیا : 

 

مات أبو الطفيل سنة مائة، وهو آخر من مات من أصحاب رسول الله . 

 

حضرت ابو طفیلؓ سن 100 ہجری میں وفات پا گئے، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے سب سے آخر میں وفات پانے والے صحابی تھے۔

 

(تہذیب التہذیب، جلد3، صفحہ354)

 

لہذا ثابت ہوا کہ حضرت ابو طفیلؓ (عامر بن واثلہ) صحابی ہونے کے ساتھ ساتھ پکے رافضی بھی تھے اور یہی وہ وجہ تھی کہ "امام بخاری" نے ان سے احادیث نہیں لی۔

 

نوٹ : کچھ لوگ اس پر یہ جواب دیتے ہیں کہ ابو طفیل کی ایک روایت صحیح بخاری میں موجود ہے۔ ہمارا جواب یوں ہے : 

 

جیسا کہ ابو عبداللہ بن الاحرم حافظ کے الفاظ سے واضح ہے کہ بخاری نے ابوطفیل کی روایات کو ترک کیا تھا مطلب جب پہلے صحیح بخاری میں ان سے ایک حدیث لی لیکن بعد میں ان سے روایات لینا ترک کیا۔

 

بخاری نے ابو طفیل سے صرف ایک جگہ حدیث لی اور وہ بھی تعلیقاً (مطلب اصل حدیث میں ابو طفیل نہیں ہے لیکن اسکے ساتھ نیچھے لکھا کہ یہ روایت اس سند سے بھی آئی ہے اور اس دوسری سند میں ابوطفیل ہے)۔ بخاری عموماً تعلیق میں ان راویوں سے احادیث لیتے تھے جن پر کلام ہوتا تھا جیسا کہ اوپر حضرت ابوطفیلؓ پر رافضیت کا الزام تھا۔

 

تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری

ترتیب: عبداللہ امامی