امام علی ابن ابی طالبؑ اس امت کے ہادی ہیں

 

امام ابو جعفر الطبری (المتوفی ۳۱۰ھ) نے سورہ رعد کی آیت «إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ» یعنی "تم بس ایک ڈرانے والے ہو اور ہر قوم کا ایک ہادی ہوتا ہے" کے ذیل میں لکھتے ہیں:

 

وقال آخرون: هو عليّ بن أبي طالب رضي الله عنه. * ذكر من قال ذلك:

٢٠١٦١- حدثنا أحمد بن يحيى الصوفي قال: حدثنا الحسن بن الحسين الأنصاري قال: حدثنا معاذ بن مسلم، بيّاع الهرويّ، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس قال: لما نزلت ﴿إنما أنت منذر ولكل قوم هاد﴾ ، وضع ﷺ يده على صدره فقال: أنا المنذر= ﴿ولكل قوم هاد﴾ ، وأومأ بيده إلى منكب عليّ، فقال: أنت الهادي يا عليّ، بك يهتدي المهتدون بَعْدي .

 

اور بعض مفسرین نے کہا: اس آیت میں (ہادی سے) مراد علی بن ابی طالبؓ ہیں۔

 

ان میں سے ایک قول یہ ہے:

 

حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی «إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ» یعنی "بے شک آپ تو صرف خبردار کرنے والے ہیں، اور ہر قوم کے لیے ایک ہدایت دینے والا ہے"، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر فرمایا:

"میں ہوں منذر (خبردار کرنے والا)"، پھر اپنے ہاتھ سے حضرت علی علیہ السلام کے کندھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "اور تم ہو علیؑ! ہدایت دینے والے، میرے بعد تمہارے ذریعے ہدایت پانے والے ہدایت پائیں گے"۔

 

(جامع البیان عن تاویل القرآن، جلد13، صفحہ442/443، طبع ھجر)

 

اس روایت کو ڈاکٹر احمد العمرانی (معاصر) نے اپنی تفسیر عبداللہ بن عباس میں الطبری اور ابن ابی حاتم سے نقل کیا ہے۔

 

(تفسیر عبداللہ بن عباس، جلد2، صفحہ898، رقم3971، طبع دار السلام ریاض سعودیہ)

 

اس روایت کو ابن حجر عسقلانی (المتوفی ۸۵۲ھ) نے صحیح بخاری کی شرح میں نقل کرنے کے ساتھ ساتھ اسکی سند پر " حسن " کا حکم لگایا۔ 

 

(فتح الباری، جلد8، کتاب التفسیر، صفحہ477، طبع دار السلام ریاض)

 

اس روایت کا ایک شاھد امام علی ابن ابی طالبؑ سے ملتا ہے جسکو امام حاکم نیساپوری (المتوفی ۴۰۵ھ) نے کتاب المستدرك میں نقل کیا ہے : 

 

أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ: {إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ} [الرعد: ٧] قَالَ عَلِيٌّ: «رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُنْذِرُ، وَأَنَا الْهَادِي.

 

عباد بن عبداللہ الاسدی سے روایت ہے کہ علیؑ نے اس آیت «إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ» یعنی "تم بس ڈرانے والے ہو، اس قوم کا ایک ہادی ہے"، کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ڈرانے والے ہیں اور میں ہادی ہوں۔

 

امام حاکم اس حدیث کو صحیح قرار دیتے ہیں: 

 

هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ 

 

اسکی سند صحیح ہے لیکن انہوں (بخاری و مسلم) نے اسکو نقل نہیں کیا۔ 

 

(المستدرک، جلد4، صفحہ260، رقم4646)

 

البتہ امام شمس الدین ذہبی (المتوفی ۷۴۸ھ) نے تعصب میں اس سند پر "کذب و وضع" کا دعویٰ کیا بلکہ اسکے لئے بد دعا کی جس نے اسکو وضع کیا ہے لیکن اس راوی کا نام لینے سے قاصر تھے کہ اس سند میں ایسا کون ہے جس نے یہ حدیث وضع کی ہوگی؟

حقیقت میں اس سند میں ایسا کوئی راوی نہیں جس پر کذب یا وضع کی تہمت لگائی گئی ہو۔ 

 

(المستدرک علی الصحیحین، جلد2، صفحہ140، رقم4646، طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)

 

تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری

ترتیب: عبداللہ امامی