اہل سنت مصادر سے کربلا کے فضائل
امام طبرانی نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے :
حدثنا : محمد بن عبد الله الحضرمي ، حدثنا : عثمان بن أبي شيبة ، ثنا : أبو الأعمش ، عن سلام أبي شرحبيل ، عن أبي هرثمة ، قال : كنت مع علي (ر) بنهري كربلاء فمر بشجرة تحتها بعر غزلان ، فأخذ منه قبضة فشمها ، ثم قال : يحشر من هذا الظهر سبعون الف يدخلون الجنة بغير حساب۔
ابو ہرثمہ سے روایت ہے کہ میں علی بن ابی طالبؑ کے ساتھ کربلا کے دو دریاوں کے پاس تھا۔ پس آپ ایک درخت کے پاس سے گزرے جس کے نیچے ہرن کی مینگنیاں تھیں۔ آپ نے اس سے ایک مٹھی بھری اور سونگھا، پھر فرمایا: اس زمین سے ستر ہزار ایسے لوگ اٹھیں گے جو بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل ہونگے۔
(معجم الکبیر، جلد2، صفحہ703، رقم2825، طبع مکتبة الاصالة والتراث للنشر والتوزیع)
نوٹ : نسخے میں تصحیف ہے کیونکہ ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب المصنف میں اسکو حدثنا (ابو) معاویہ حدثنا الاعمش عن سلام بن ابی شرجیل سے نقل کیا ہے۔
امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرمایا:
رواه الطبراني ورجاله ثقات.
اسکو طبرانی نے روایت کیا ہے اور اسکے تمام راوی ثقہ ہے۔
(مجمع الزوائد، جلد9، صفحہ222، رقم15126، طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)
نتیجہ: روایت کا مقامِ وقوع "کربلا" ہے، اور حضرت علیؑ کا اس زمین سے مخصوص خوشبو محسوس کرنا اور پھر اس زمین سے بغیر حساب جنتی لوگوں کی خبر دینا، ایک اخباری پیشن گوئی ہے جس کی عملی تفسیر واقعۂ کربلا کے بعد تاریخ میں نمایاں ہوتی ہے۔
اس روایت پر آشکالات کا تجزیہ :
پہلا اشکال: سلیمان بن مہران الاعمش ثقہ ہونے کے ساتھ ساتھ مدلس تھے ؟
جواب: ابن حجر نے انہیں طبقات المدلسین کے دوسرے طبقے میں رکھا ہے، جہاں معمولی تدلیس ہوتی ہے اور "عن" روایت قابل قبول ہوتی ہے۔
(طبقات المدلسین، صفحہ73، رقم: 2/55 طبع مکتبہ اسلامیہ لاھور پاکستان)
پس سلیمان بن مہران اعمش کا مدلس ہونا روایت کی صحت پر اثر نہیں ڈالتا۔
دوسرا اشکال: راوی سلام بن ابی شرجیل مجہول ہیں ؟
اگرچہ بعض کے نزدیک یہ مجہول ہیں، لیکن ابن حبان نے انہیں اپنی کتاب "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
(تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، جلد12، صفحہ292)
مزید برآں، ہیثمی نے بھی اس روایت کے رجال کو ثقہ کہا ہے۔ جو اس راوی (سلام بن ابی شرجیل) کے ثقہ ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
اسکے علاوہ باقی کسی بھی محدث سے اس پر کوئی جرح نہیں آئی ہے۔ لہذا یہ راوی ثقہ ہے۔
تیسرا اشکال: یہ متن میں منفرد حدیث ہے؟
جواب: نہیں، بلکہ اسی متن کی روایت معجم الاعرابی میں دوسری سند سے ہے جو الاعمش عن ابو اسحاق عن کثیر الضبی کے طرق سے ہے۔
بغیر حساب و کتاب والی کافی صحیح روایات اہل سنت کے یہاں موجود ہیں۔
محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی سند سے اس طرح بیان کیا ہے :
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ،،،".
عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت میں ستر ہزار لوگ جنت میں بغیر کسی حساب و کتاب کے جائیں گے۔
(صحیح بخاری، جلد6، صفحہ70، حدیث رقم6472 ترجمہ عبدالستار الحماد)
یہ روایت باقی صحابہ مثلاً ابوہریرہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔
اسحاق بن راھویہ نے اپنی سند سے ان سے نقل کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَهُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابِ قَالَ: فَقَالَ عُكَاشَةُ بْنُ مُحْصَنٍ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ، فَقَالَ آخَرُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ .
(مسند اسحاق بن راھویہ، صفحہ41، طبع انصار السنه پبلیکیشنز لاہور)
تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری
ترتیب: عبداللہ امامی