صحابی حضرت ابو طفیلؓ اور محدث ابن قتیبہ کی رائے
صحابی حضرت ابو طفیلؓ اور محدث ابن قتیبہ کی رائے
امام عبداللہ بن مسلم المعروف ابن قتیبہ (المتوفی ۲۷۶ھ) اپنی کتاب میں یوں لکھتے ہیں :
أسماء الغالية من الرافضة
أبو الطّفيل:
صاحب راية المختار، وكان آخر من رأى رسول الله -صلّى الله عليه وسلم- موتا.
و المختار ، و أبو عبد الله الجدلي ، و زرارة بن أعين ، و جابر الجعفي.
غالی رافضیوں میں سے بعض کے نام یہ ہیں:
ابو طفیل :
یہ مختار کے لشکر میں علمبردار تھا اور آخر میں فوت ہونے والا صحابی تھا۔
اسکے علاوہ ان میں مختار، ابو عبداللہ جدلی، زرارۃ بن آعین اور جابر الجعفی شامل ہیں۔
(المعارف ابن قتیبہ، صفحہ624، طبع دار المعارف بیروت لبنان)
اس عبارت سے حاصل ہونے والے اہم نکات:
1: ابن قتیبہ کے بیان کے مطابق ابو الطفیلؓ، جو ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، اُنہیں "غالی رافضی" شمار کیا گیا ہے۔
2: ابن قتیبہ نے ابو الطفیلؓ کو زرارہ بن أعینؒ اور جابر الجعفیؒ جیسے معروف شیعہ امامیہ راویوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، حالانکہ ان دونوں کا امامیہ تشیع سے وابستہ ہونا اظہر من الشمس ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک اہل بیت علیہم السلام سے عقیدت یا ان کے مکتب سے وابستگی ہی رفض و غلو کی علامت تھی۔
حضرت ابو الطفیلؓ کے امامی رافضی ہونے کی شہادت صرف مخالفین (یعنی اہل سنت کے متشدد محدثین جیسے ابن قتیبہ) ہی نہیں دیتے، بلکہ خود امامی شیعہ تراث میں بھی ان کی شخصیت کو ممدوح، معتبر اور اہل بیتؑ کے نزدیک معزز قرار دیا گیا ہے۔
روایت ملاحظہ فرمائیں:
حدثنا محمد بن مسعود، قال: حدثني علي بن الحسن بن علي بن فضال قال حدثني عباس بن عامر، عن أبان بن عثمان، عن شهاب بن عبد ربه قال قلت لأبي عبد الله عليه السلام: كيف أصبحت جعلت فداك؟ قال: أصبحت أقول، كما قال أبو الطفيل عامر بن واثلة:وان لأهل الحق لاشك دولة * على الناس إياها أرجي وأرقب قال: أنا والله ممن يرجي وسيرقب.
شہاب بن عبد ربہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا: "فداك نفسي! آپ نے صبح کیسی کی؟"
تو امامؑ نے فرمایا کہ میں ویسا ہی کہتا ہوں جیسے ابو الطفیل عامر بن واثلہؓ نے کہا تھا:
"یقیناً اہلِ حق کی ایک حکومت ہے جس کے ظہور کی میں اُمید بھی رکھتا ہوں اور انتظار بھی کرتا ہوں"۔
پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: "خدا کی قسم! میں بھی ان لوگوں میں سے ہوں جو اس (دولتِ حق) کی امید رکھتے ہیں اور اس کا انتظار کرتے ہیں"۔
(رجال ابو عمرو کشیؒ، جلد2، صفحہ111 مرکز نشر میراث علمی مکتب اھل بیتؑ)
تحریر: ڈاکٹر آصف حسین کشمیری
ترتیب: عبداللہ امامی