Back to ادارہ البلاغ مکتب اہل بیت ع

امام علیؑ کا سیرتِ شیخین سے انکار، اور اہلِ سنت سے 12 سوال

امام علیؑ کا سیرتِ شیخین سے انکار، اور اہلِ سنت سے 12 سوال

 

حافظ ابنِ حجر نے امام علی علیہ السلام کے متعلق کہتے ہیں:

 

وكان أحد الشورى الذين نص عليهم عمر، فعرضها عليه عبد الرحمن بن عوف، وشرط عليه شروطا امتنع من بعضها، فعدل عنه إلى عثمان فقبلها، الخ

 

وہ ان میں سے ایک تھے جنہیں عمر نے (خلافت کے لیے) شوریٰ میں نامزد کیا تھا، اور عبدالرحمن بن عوف نے ان کے سامنے خلافت کی پیشکش کی اور ان پر کچھ شرائط عائد کیں جن میں سے بعض کو امام علیؑ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا(یعنی سیرت ابوبکر وعمر سے انکار کیا) ، جس پر عبدالرحمن بن عوف نے عثمان کی طرف رجوع کیا اور عثمان نے ان شرائط کو قبول کر لیا۔

 

(الاصابة، جلد4، صفحہ465 اردو ترجمه)

 

ابنِ حجر نے ان شرائط کا ذکر نہیں کیا جنہیں امام علی علیہ السلام نے قبول کرنے سے انکار کیا، لیکن احادیث اور تاریخی مصادر میں اس کا ذکر موجود ہے۔

 

ابن شبہ نمیری نے اپنی کتاب "تاریخ المدینة المنورة" میں صحیح سند کے ساتھ ایک طویل روایت نقل کی ہے جس میں سے مطلوبہ حصہ نقل کر رہے ہیں:

 

وحدثنا محمد قال، حدثنا موسى بن عقبة قال، حدثنا نافع أن عبد الله بن عمر رضي الله عنه أخبره ………… فقال عبد الرحمن: ………… ودعا عليا فقال: عليك عهد الله وميثاقه لتعملن بكتاب الله وسنة رسوله وسيرة الخليفتين من بعده. قال: أرجو أن أفعل وأعمل بمبلغ علمي وطاقتي. ودعا عثمان فقال له مثل ما قال لعلي. قال:نعم. فبايعه. فقال علي: " حبوته حبو دهر " ليس هذا أول يوم تظاهرتم فيه علينا " فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون " والله ما وليت عثمان إلا ليرد الامر إليك، ……۔

 

نافع، عبداللہ ابنِ عمر سے نقل کرتے ہیں عبداللہ بن عمر کہتے ہیں: عبدالرحمن بن عوف نے امام علی علیہ السلام کو بلایا اور کہا:

 ہم تم سے عہد لیتے ہیں کہ تم کتاب اللہ، سنت رسولؐ اور دونوں خلفاء (حضرت ابوبکر و عمر) کی سیرت پر عمل کرو گے۔ امام علی علیہ السلام نے جواب دیا: میں اپنے علم اور قوت (الہی) کے مطابق عمل کروں گا۔ 

پھر (عبدالرحمان بن عوف نے) عثمان کو بلایا اور اس سے بھی یہی کہا جو امام علی علیہ السلام سے کہا تھا، تو عثمان نے کہا: ہاں (میں ان شرائط کو قبول کرتا ہوں)، اور اس (عبدالرحمن بن عوف) نے (اسکی) بیعت کر لی۔ 

اس پر امام علی علیہ السلام نے کہا: تم نے اسے عمر بھر کا تحفہ دیا۔

 

«ليس هذا أول يوم تظاهرتم فيه علينا»

 

اور فرمایا: یہ پہلا دن نہیں جب تم نے ہمارے خلاف سازش کی۔

 

پھر امام علی علیہ السلام نے سورہ یوسف کی یہ آیت پڑھی: "اور اللہ تمہارے بیان کے مقابلہ میں میرا مددگار ہے"۔ (سورة يوسف آية 18)

 

اللہ کی قسم! تم نے عثمان کو خلافت صرف اس لیے دی ہے کہ وہ تمہیں واپس لوٹا دے گا۔

 

(تاریخ المدینہ لابن شبہ، جلد3، صفحہ924/930) 

 

یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح ہے، اور ہم ذیل میں اس کی سند کے راویوں کا مختصر تحقیقی جائزہ پیش کرتے ہیں تاکہ ان کی ثقاہت و اعتماد کو واضح کیا جا سکے۔

 

پہلا راوی: محمد

 

یہاں محمد سے مراد "محمد بن جعفر بن ابو کثیر" ہیں، ان کو حافظ ابن حجر ثقہ قرار دیتے ہیں۔

 

(تقریب التہذیب، جلد2، صفحہ66، رقم5784 ناشر مکتبه رحمانیه)

 

دوسرا راوی: موسى بن عقبة 

 

حافظ ابن حجر ان کے متعلق لکھتے ہیں:

 

پانچویں طبقہ کا "ثقہ فقیہ مغازی کا امام" راوی ہے۔ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ ابن معین نے اسے قدرے کمزور کہا ہے۔

 

(تقریب التہذیب، جلد2، صفحہ223، رقم6992 ناشر مکتبه رحمانیه)

 

تیسرا راوی: نافع ( ثقة متفقہ علیہ) 

 

چوتھا راوی: عبداللہ ابن عمر (یہ صحابی ہیں)

 

اس روایت سے نکلنے والے نتائج:

 

١: عبدالرحمن بن عوف نے امام علیؑ سے مطالبہ کیا کہ وہ "کتاب اللہ، سنت رسول اور دونوں خلفاء حضرت ابوبکر وعمر کی سیرت" پر عمل کریں، حالانکہ شیخین کی سیرت بنیادی شریعت کے اصولوں میں سے نہیں ہے، اور نہ ہی قرآن یا سنت میں اس کا کوئی حکم آیا ہے۔

 

٢: امام علیؑ نے جواب دیا: " اپنے علم اور قوت کے مطابق عمل کروں گا"۔

اگر ایسا ہوتا جیسا کہ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ امام علیؑ شیخین کے ساتھ محبت اور رضاعت رکھتے تھے، تو وہ ان کی سیرت اور سنت پر عمل کرنے پر رضامند ہو جاتے، تو امام علیؑ نے عبدالرحمن بن عوف کو ہاں کیوں نہیں کہا کیوں خلفاء کی سیرت سے انکار کیا؟

 

٣: کیا وہ دونوں خلفائے رسول اور بہترین صحابہ نہیں تھے؟کیا وہ نبی کے منہج پر نہیں تھے؟ کیا ان کے ساتھ تعلقات ان کے پیروکاروں کے مطابق بہترین نہیں تھے؟

 

٤: اگر ایسا تھا، تو امام علیؑ نے ان کے منہج اور سیرت کے مطابق عمل کرنے سے کیوں انکار کیا؟ 

 

٥: اگر ان (حضرت ابوبکر وعمر) کی سیرت کتاب اللہ اور سنت نبویؐ کے مطابق تھی، تو اس شرط کو امام علیؑ نے کیوں رد کیا؟ 

 

٦: پھر، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی سیرت کتاب اور سنت کے قواعد کے مطابق نہیں تھی؟

 

٧: امام علیؑ کے الفاظ "یہ پہلا دن نہیں جب تم نے ہمارے خلاف سازش کی" کیا اس سے مراد یہ کہ شیخین اور صحابہ ان کے ساتھ مل کر ان کے اور اہل بیت کے خلاف سازش کرتے رہے؟ اور کیا امام علیؑ خود کو ان سے زیادہ حق دار نہیں سمجھتے تھے؟

 

٨: کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امام علیؑ اپنی صلح کے باوجود خود کو ان دونوں سے زیادہ حق دار سمجھتے تھے، جیسا کہ بخاری میں روایت کی گئی ہے کہ امام علیؑ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے چھ ماہ بعد صلح کی؟

 

٩: یقیناً، امام علیؑ کی جانب سے سیرتِ شیخین کو اختیار کرنے سے انکار اور بعض سازشی پہلوؤں کی نشان دہی، متعدد فکری سوالات کو جنم دیتی ہے جو خلفاء کے منہج پر ہیں۔

 

١٠: کیا اہلِ سنت کے نزدیک کوئی شخص محض اس بنیاد پر ملامت یا تنقید کا مستحق قرار پائے گا، اگر وہ امام علیؑ کی اقتداء میں سیرتِ شیخین کو رد کرے یا اس کا انکار کرے؟

 

١١: اور اگر ہم تیسرے خلیفہ (حضرت عثمان ابن عفان) کے معاملے پر غور کریں، تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ امام علیؑ نے ان کے قاتلین اور ان کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو اسلامی ریاستوں کا گورنر مقرر کیا، جیسا کہ محمد بن ابی بکرؑ اور مالک اشترؑ۔

 

نوٹ: محمد بن ابی بکرؑ کے عثمان کے قتل میں شامل ہونے کی تصدیق ایک صحیح سند روایت کے ساتھ ہوتی ہے۔

 

١٢: جبکہ فقہ کے مطابق ان قاتلوں سے قصاص لیا جانا چاہیے تھا، لیکن امام علیؑ نے عثمان کے خون کی ذرا برابر بھی پرواہ نہ کی اور قاتلین کو بغیر کسی قصاص کے مختلف علاقوں کا گورنر مقرر کر دیا۔

 

یہ جائز سوالات ہیں جو جوابات کے متقاضی ہیں، بلخصوص جب کچھ لوگ خلفاء کی تصویر کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور امام علیؑ کے ساتھ ان کی محبت اور مودت کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

تحقیق : استاذ مروان خليفات حفظہ اللہ تعالی

ترتیب : عبداللہ امامی