Back to ادارہ البلاغ مکتب اہل بیت ع

حضرت عمر بن خطاب و سنی حضرات کے اجماعی عقیدہ پر ابنِ عمر کا تعجب

حضرت عمر بن خطاب و سنی حضرات کے اجماعی عقیدہ پر ابنِ عمر کا تعجب

 

قارئین کرام! اُمت میں سب سے بڑا اختلاف "خلافت" پر ہے اُور ایسا بھی نہیں کہ یہ اختلاف فقط شیعہ اور سنی کے درمیان ہے۔ اگر آپ تھوڑا پیچھے چلے جائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہمارے اختلاف صحابہ کے اختلافات کے آگے کچھ بھی نہیں، اگر آپ کو کبھی وقت ملے تو "سقیفہ" میں پیش آنے والے واقعات کو پڑھیں یا بعد میں رونما ہونے والے مظالم کو پڑھیں آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ وہاں کیا کیا ہوا تھا!!!

 

شیعہ مکتبِ فکر خلافت کے متعلق درج ذیل دو بنیادی عقائد رکھتا ہے:

 

١: خلافت کا تعین اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، نہ کہ انسانوں کے مشورے یا اجماع سے۔

 

٢: دین کو بغیر خلیفہ و امام کے چھوڑ دینا نہ صرف غیر عقلی ہے بلکہ یہ خدا، رسول اکرمؐ و آلِ رسولؑ پر ایک سنگین تہمت بھی ہے۔

 

یہی وجہ ہے کہ ہم سنی عقیدہِ خلافت پر تعجب کرتے ہیں اور اسے عقل و منطق کے خلاف قرار دیتے ہیں، اب سوال یہ ہے کیا یہ فقط شیعہ کا نظریہ ہے ؟

 

تو جواب آئے گا نہیں! بلکہ یہ تعجب تو حضرت عمر بن خطاب کے بیٹے حضرت عبداللہ ابن عمر نے بھی اپنے باپ پر اور اُن (اہل سنت) تمام لوگوں پر کیا ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔

 

آئیے صحیح مسلم کی روایت ملاحظہ کیجیے:

 

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقَالَتْ: أَعَلِمْتَ أَنَّ أَبَاكَ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا كَانَ لِيَفْعَلَ، قَالَتْ: إِنَّهُ فَاعِلٌ، قَالَ: فَحَلَفْتُ أَنِّي أُكَلِّمُهُ فِي ذَلِكَ، فَسَكَتُّ حَتَّى غَدَوْتُ وَلَمْ أُكَلِّمْهُ، قَالَ: فَكُنْتُ كَأَنَّمَا أَحْمِلُ بِيَمِينِي جَبَلًا حَتَّى رَجَعْتُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ،(١) فَسَأَلَنِي عَنْ حَالِ النَّاسِ وَأَنَا أُخْبِرُهُ، قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ لَهُ: إِنِّي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ مَقَالَةً، فَآلَيْتُ أَنْ أَقُولَهَا لَكَ، زَعَمُوا أَنَّكَ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ، وَإِنَّهُ لَوْ كَانَ لَكَ رَاعِي إِبِلٍ، أَوْ رَاعِي غَنَمٍ، ثُمَّ جَاءَكَ وَتَرَكَهَا رَأَيْتَ أَنْ قَدْ ضَيَّعَ(٢) فَرِعَايَةُ النَّاسِ أَشَدُّ، (٣) قَالَ: فَوَافَقَهُ قَوْلِي،(٤) فَوَضَعَ رَأْسَهُ سَاعَةً، ثُمَّ رَفَعَهُ إِلَيَّ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْفَظُ دِينَهُ، وَإِنِّي لَئِنْ لَا أَسْتَخْلِفْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَخْلِفْ، وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَدِ اسْتَخْلَفَ»، قَالَ: فَوَاللهِ، مَا هُوَ إِلَّا أَنْ ذَكَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَعْدِلَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا، وَأَنَّهُ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ

 

سالم نے ابن عمر سے بیان کیا ، کہا : میں حفص کے پاس گیا ، انہوں نے کہا : کیا تم کو علم ہے کہ تمہارے والد کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کر رہے؟ میں نے کہا : وہ ایسا نہیں کریں گے ۔ وہ کہنے لگیں : وہ یہی کرنے والے ہیں ۔ ابن عمر نے کہا میں نے قسم کھائی کہ میں اس معاملے میں ان سے بات کروں گا، پھر میں خاموش ہو گیا حتی کہ صبح ہو گئی اور میں نے ان سے اس معاملے میں بات نہیں کی تھی ، اور مجھے ایسا لگتا تھا جیسے میں نے اپنے دائیں ہاتھ میں پہاڑ اٹھایا ہوا ہے ( مجھ پر اپنی قسم کا بہت زیادہ بوجھ تھا ) (١) آخر کار میں واپس آیا اور ان کے پاس گیا ، انہوں نے مجھ سے لوگوں کا حال دریافت کیا ، میں آپ کو حالات سے باخبر کرنے لگا ، پھر میں نے ان سے کہا : میں نے لوگوں سے ایک بات سنی تھی اور وہ سن کر میں نے قسم کھائی کہ وہ میں آپ سے ضرور بیان کروں گا ۔ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ کسی کو اپنا جانشیں نہیں بنائیں گے اور بات یہ ہے کہ "اگر آپ کا کوئی اونٹوں یا بکریوں کا چرواہا ہو اور وہ آپ کے پاس چلا آئے اور ان کو ایسے ہی چھوڑ دے تو آپ یہی کہیں گے کہ اس نے ان کو ضائع کر دیا ہے( ٢) سو لوگوں کی نگہبانی تو اس سے زیادہ ضروری ہے (٣) عمر کو میری رائے ٹھیک معلوم ہوئی" (٤) انہوں نے گھڑی بھر سر جھکائے رکھا ، پھر میری طرف سر اٹھا کر فرمایا : بلاشبہ اللہ اپنے دین کی حفاظت فرمائے گا اور اگر میں کسی کو جانشیں نہ بناؤں تو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو جانشیں مقرر نہیں کیا تھا اور اگر میں کسی کو جانشیں بناؤں تو ابوبکر نے جانشیں بنایا تھا ۔ابنِ عمر نے کہا : اللہ کی قسم! جب عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر کا ذکر کیا تو میں نے جان لیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے سے کبھی نہیں ہٹیں گے اور وہ کسی کو جانشیں بنانے والے نہیں۔

 

(صحیح مسلم، جلد5، صفحہ118، حدیث رقم 4714)

 

روایت کے نکات و نتائج:

 

١: حضرت عبداللہ ابنِ عمر کے نزدیک خلافت ایک بنیادی مسئلہ تھا۔ وہ اتنے فکرمند تھے کہ قسم کھا لی کہ وہ اس بارے میں اپنے والد حضرت عمر سے ضرور بات کریں گے۔

 

٢: بے ولی و نگہبان جانور بھی ضائع سمجھے جاتے ہیں تو پھر انسانوں کے لیے رہبر و رہنما کا تعین کس قدر اہم ہونا چاہیے؟

 

٣: حضرت عمر کو بھی اپنے بیٹے کی بات معقول لگی یعنی وہ اس دلیل سے متفق تھے کہ خلیفہ مقرر کرنا عقلاً درست عمل ہے۔

 

٤: حضرت عمر کا فیصلہ "نہ مقرر کرنے" کا تھا، محض اس بنیاد پر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی کسی کو نامزد نہیں کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے عدمِ تعین تھا، یا تعین کسی اور طریقے سے ہو چکا تھا؟

(یہی وہ نکتہ ہے جہاں شیعہ و سنی مؤقف جدا ہو جاتے ہیں)

 

تحریر و ترتیب : عبداللہ امامی