روایت کی مکمل عبارت یہ ہے:
’’عروہ بن عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے ابو جعفر محمد بن علی علیہما السلام سے تلواروں کی آرائش کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی تلوار کو آراستہ کیا تھا۔ میں نے عرض کیا: کیا آپ انہیں ’’صدیق‘‘ کہتے ہیں؟ تو وہ ایک دم اچھل کر کھڑے ہوئے، قبلہ رُخ ہوئے اور فرمایا: ہاں! صدیق! ہاں! صدیق! ہاں! صدیق! پس جو شخص انہیں صدیق نہ کہے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی کسی بات کو سچا نہ کرے۔‘‘
📚 کشف الغمہ، اربلی، جلد 2، صفحہ 360
ایک بار پھر مخالفین اپنی تدلیس کے ساتھ ہمارے سامنے آ گئے ہیں! وجہ یہ ہے کہ اس روایت کو کتاب ’’کشف الغمہ‘‘ کے مصنف نے ان روایات کے مجموعے میں نقل کیا ہے جو انہوں نے ابن الجوزی کی کتاب ’’صفوة الصفوة‘‘ سے نقل کی ہیں، اور ابن الجوزی انہی کے علماء میں سے ہیں۔
شیعہ عالم نے خود اس بات کی صراحت صفحہ 359 پر کرتے ہوئے لکھا ہے:
📜 ’’شیخ ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد بن الجوزی نے اپنی کتاب صفوة الصفوة میں کہا ہے...‘‘
اس کے بعد انہوں نے ابن الجوزی کی نقل کردہ روایات بیان کرنا شروع کیں، اور انہی میں یہ روایت بھی شامل تھی۔
لہٰذا یہ روایت اہلِ خلاف کے طریق سے منقول ہے، اور اس کا راوی عروہ بن عبد اللہ بن قشیر بھی انہی کے راویوں میں سے ہے۔ تو پھر اس روایت کو ہمارے خلاف دلیل کے طور پر کیسے پیش کیا جا سکتا ہے، جبکہ یہ شیعہ طرق سے وارد ہی نہیں ہوئی بلکہ اربلی نے محض ان کے مصادر سے نقل کرتے ہوئے اسے اطلاع، مطالعے اور تحقیق کے لیے ذکر کیا ہے؟!
کیونکہ ہمارے بہت سے علماء نے ان تمام روایات کو جمع کیا ہے جو ہمارے ائمہ علیہم السلام کی طرف منسوب کی گئی ہیں، حتیٰ کہ ان روایات کو بھی جو مخالفین کی کتابوں میں موجود تھیں، تاکہ ان کا مطالعہ، تحقیق اور چھان بین کی جا سکے۔ محض کسی کتاب میں ایسی روایات کو نقل کر دینا ان کی صحت کو تسلیم کرنے کے مترادف نہیں ہوتا۔
والسلام۔
#بدر_علی
Gallery
Tap any image to view full screen