رسول اللہ ص کی شادیوں سے متعلق مستشرقین کے اعتراض کا جواب
▪️ کیا رسولِ اسلام ﷺ کی متعدد شادیاں معاذ اللہ (نقل کفر کفر نباشد) شہ/وت پر/ستی کی علامت تھیں؟
📜 رسولِ اسلام ﷺ شہ/وت پر/ست نہیں تھے۔ آپ ﷺ کی زیادہ تر شادیاں عمر کے آخری حصے میں ہوئیں اور ان کے پسِ پشت سماجی و سیاسی مقاصد یا بے سہارا خواتین کی کفالت اور حمایت جیسے عوامل تھے۔
قرآن نے بھی ’’مکمل عدل‘‘ کی شرط عائد کرکے تعددِ ازدواج کو عملاً بہت مشکل بنا دیا ہے۔
📚 An Interpretation of Islam، ص 67–68
یہ کتاب Laura Veccia Vaglieri (لورا ویکیا واگلیری) کی لکھی ہوئی ہے، جو ایک اطالوی مستشرق اور اسلام کی محقق تھیں۔ کتاب کا اصل نام An Interpretation of Islam ہے۔
یہ کتاب پہلی بار 1957ء میں شائع ہوئی تھی اور تقریباً 87 صفحات پر مشتمل ہے۔
یعنی یہ اقتباس کسی مسلمان مصنف کا نہیں بلکہ ایک غیر مسلم اطالوی مصنفہ کی کتاب کا ہے۔
۔
نبی ﷺ کی بعض عورتوں سے شادی سیاسی بنیادوں پر تھی۔
… اور اس طرح ہمارے لیے یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ یہ سب صرف سیاسی اور دینی مقاصد کے لیے تھا…
یہ بات ہمیں سمجھاتی ہے کہ آپ کی زیادہ تر شادیاں قریش (جو عرب کی سردار قوم تھی) میں ہوئیں؛ اور یہ دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے بھی تھیں۔
چنانچہ آپ نے جویریہ بنت حارث (جو بنی مصطلق کے سردار کی بیٹی تھیں) اور صفیہ بنت حیی (جو بنی نضیر کے سردار کی بیٹی تھیں) سے شادی کی تاکہ ان کی قوموں کا اسلام ممکن ہو سکے، نہ کہ ان کے حسن کے اثر کی وجہ سے جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں۔
اسی طرح رسول ﷺ نے امِ سلمہ سے شادی کی، جو ایک مسلمان عورت تھیں جن کے شوہر اسلام کے دفاع میں شہید ہو گئے تھے، تاکہ ان کے دل کو تسلی دی جائے اور ان کو ان کے شوہر کے بدلے اجر دیا جائے۔
اسی طرح آپ نے حفصہ بنت عمر سے بھی شادی کی تاکہ ان کے دل کو خوش کیا جا سکے…
اور جہاں تک زینب بنت جحش کا تعلق ہے تو ان سے رسول ﷺ کی شادی تشریعی (قانونی) مقاصد کے لیے تھی، کیونکہ عرب جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کو حرام سمجھتے تھے، اور اسے حقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح سمجھتے تھے۔
اس کے علاوہ رسول ﷺ نے زینب سے شادی ان کی عزت و کرامت کی حفاظت کے لیے بھی کی۔
📚 تاریخ اسلام
Gallery
Tap any image to view full screen