رسول اللہ ص در کتب مستشرقین post-4
رسول اللہ ص در کتب مستشرقین post-4
رسول اللہ ص در کتب مستشرقین post-4
رسول اللہ ص در کتب مستشرقین post-4
رسول اللہ ص در کتب مستشرقین post-4
رسول اللہ ص در کتب مستشرقین post-4

📌 رسولِ اسلام ﷺ: صلح کے داعی اور اختلافات کو حل کرنے والے

 

▪️ محمد ﷺ کا پیغام رواداری اور امن قائم کرنے کے حوالے سے صرف حجاز کے اختلافات تک محدود نہیں تھا بلکہ وسیع تر خطے کے تنازعات سے بھی متعلق تھا۔

 

آپ ﷺ نے 614ء میں ایران کے ہاتھوں یروشلم پر قبضے کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان پیدا ہونے والی شدید دشمنی پر افسوس کا اظہار کیا۔ یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کی عبادت گاہوں پر حملے کرنے لگے اور ایک دوسرے کے ایمان کی حیثیت و اعتبار کو تسلیم کرنے سے انکار کرنے لگے۔

 

اس کے برعکس، محمد ﷺ نے مشترکہ مذہبی و کتابی ورثے اور ایک ہی خدا سے عقیدت کو مدنظر رکھتے ہوئے ادیان کے درمیان اتحاد کی دعوت دی۔

 

محمد ﷺ نے قرآن کی ایسی آیات تلاوت فرمائیں جو جنگ پسندی سے منع کرتی ہیں اور دشمن کی جانب سے پیش کی جانے والی صلح کی پیشکش قبول کرنے کی ذمہ داری عائد کرتی ہیں۔

 

📚 Muhammad: Prophet of Peace Amid the Clash of Empires — Juan Cole

 

📌 پیغمبر ﷺ: امن کے داعی اور یتیموں و فقراء کے حقوق کے حامی

 

▪️حضرت محمد ﷺ ایک انسان دوست اور امن پسند شخصیت تھے اور حملہ آوروں اور لٹیروں کی جارحیت و جرائم کے مخالف تھے۔ آپ ﷺ فقراء اور یتیموں کے حقوق کے حامی تھے، اور مسلمانوں میں سے جو شخص ان کی مدد نہیں کرتا تھا، آپ ﷺ اس کی مذمت کرتے تھے۔

 

📕 محمد ﷺ، جو بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے اور امن کے داعی تھے، غالباً ان سفاک لٹیروں کی تعظیم سے متفق نہ ہوتے جو بے گناہوں کو اپنا شکار بناتے تھے۔

 

قدیم زمانے کے آخری دور میں، مسیحیت کے غلبے سے قبل، مالدار مشرکین کے معابد اکثر "غریبوں کے لیے پناہ گاہ" کا کردار ادا کرتے تھے۔ غالباً کعبہ بھی اسی طرح کا ایک رفاہی کردار ادا کرتا تھا۔

 

کم از کم حضرت محمد ﷺ کی زندگی کے آخری دور میں آپ ﷺ ایسی آیات تلاوت فرمایا کرتے تھے جن میں یتیم کو دھکے دینے اور غریبوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہ دینے والے شخص کی مذمت کی گئی ہے۔

 

📚 MUHAMMAD: PROPHET OF PEACE AMID THE CLASH OF EMPIRES — JUAN COLE

 

📌 اتحاد اور اسلام کے فروغ کے لیے روایات و معاشرتی طریقوں سے استفادے میں رسولِ اکرم ﷺ کی حکمتِ عملی

 

مستشرقین کی کتاب سے

 

▪️ رسولِ اسلام ﷺ نے عرب معاشرے میں رائج اور قدیم روایات سے فائدہ اٹھایا، مثلاً خطابت کے مقابلوں سے، نیز۔ اسی طرح سیاسی نوعیت کی شادیوں کے ذریعے، مثلاً بنی مصطلق کے قبیلے کے سردار کی بیٹی اور خیبر کے یہودی رہنما کی بیٹی سے شادی کرکے، آپ ﷺ نے نہ صرف قبائلی اور سماجی روابط کو مضبوط کیا بلکہ قیدیوں کو آزاد کرکے اور قبائل کی وفاداری حاصل کرکے حکمت و تدبیر کے ساتھ، معاشرے میں پہلے سے تسلیم شدہ اقدار کے دائرے میں، اسلام کے اتحاد اور پھیلاؤ کی راہ ہموار کی۔

 

📚 The Early Islamic Conquests — Fred McGraw Donner

 

 

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6