📌 پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں غیر مسلم محققین کی رائے:
▪️ ڈیوڈ سیموئل مارگولیوتھ اپنی کتاب میں رسول اللہ ﷺ کی انسانیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قدیم خرافات کے خاتمے کا سبب بننے والے اقدامات کیے۔ آپ ﷺ جانوروں کا بہت احترام کرتے تھے اور جو لوگ اپنے اونٹوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے، انہیں سرزنش فرماتے۔ آپ ﷺ نے جانوروں کے ساتھ کیے جانے والے تمام ظالمانہ اور بے رحمانہ سلوک کی جڑیں کاٹ دیں اور ان کے لیے قابلِ احترام حقوق مقرر کیے۔
✍🏻 وہ لکھتے ہیں:
📜 ’’آپ ﷺ کی انسانیت کا دائرہ مخلوقات کی نچلی سطح تک بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ﷺ نے زندہ پرندوں کو تیراندازوں کے لیے نشانہ بنانے سے منع فرمایا اور ان لوگوں کو سرزنش کی جو اپنے اونٹوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے۔ قدیم خرافات سے وابستہ احمقانہ اور ظالمانہ رسوم آپ ﷺ نے ختم کر دیں۔ اب کسی مردہ اونٹ کو اس کی قبر کے ساتھ نہیں باندھا جاتا تھا کہ وہ بھوک اور پیاس سے مر جائے۔ نظرِ بد کو دور کرنے کے لیے ریوڑ کے کسی مخصوص جانور کا خون بہانے کی رسم بھی ختم کر دی گئی۔ بارش کے حصول کے لیے گایوں کی دموں کے ساتھ جلتی ہوئی مشعلیں باندھنے کا عمل بھی ختم کر دیا گیا؛ گھوڑوں کی ایال اور دمیں نہیں کاٹی جاتیں اور گدھوں کو داغا نہیں جاتا تھا۔‘‘
📚 The Saying of Muhammad, Peace be upon Him — David Samuel Margoliouth، صفحہ 29
۔
📌 پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں غیر مسلم محققین کی رائے:
▪️برٹرام تھامس اپنی کتاب میں پیغمبر ﷺ کے پاکیزہ ذہن، سادہ طرزِ زندگی اور نیک سیرت کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غلاموں کے حالات اور ان کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے بہت کوشش کرتے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ ہجرت کرنے کی وجہ مکہ کے مشرکین کی طرف سے ہونے والی اذیت و تکلیف کو قرار دیتے ہیں۔
📗 وہ لکھتے ہیں:
📜 ’’آپ ﷺ کی اخلاقی تعلیمات ایک پاکیزہ اور بلند ذہن سے پھوٹتی تھیں، جو مذہبی جوش و جذبے سے معمور تھا۔ آپ ﷺ ایک ایسے واعظ تھے جنہیں مسلسل اذیت دی گئی اور مدینہ کی طرف ہجرت پر مجبور ہونا پڑا، جہاں آپ ﷺ کو سیاسی اقتدار حاصل ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ نیکی کے کاموں میں آپ ﷺ کی سخاوت اس قدر تھی کہ آپ ﷺ کا انتقال اس حال میں ہوا کہ آپ ﷺ مقروض تھے اور آپ ﷺ کی کچھ ملکیت ایک یہودی کے پاس رہن تھی، جن میں آپ ﷺ کی واحد ڈھال بھی شامل تھی، جس کے بدلے آپ ﷺ نے تین پیمانے کھانے کا اناج حاصل کیا تھا۔
📜 آپ ﷺ نہایت عاجزی کے ساتھ زندگی گزارتے تھے اور معمولی سے معمولی کام بھی اپنے ہاتھوں سے انجام دیتے تھے؛ خود آگ جلاتے، زمین پر جھاڑو دیتے، بھیڑوں کا دودھ دوہتے، اپنے کپڑوں میں پیوند لگاتے اور اپنے جوتے خود مرمت کرتے تھے۔ آپ ﷺ غلاموں کے حالات بہتر بنانے کے لیے کوشش کرتے تھے اور جو غلام بھی آپ ﷺ کو تحفے میں دیا جاتا، اسے آزاد کر دیتے تھے۔‘‘
📚 The Saying of Muhammad, Peace be upon Him — Bertram Thomas، صفحہ 28
۔
📌 حضرت محمد ﷺ کا اپنی رسالت پر اطمینان اور بلند خود اعتمادی:
▪️ بادشاہوں کو پیغامات بھیجنے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ محمد ﷺ کو اپنی ذات اور اپنی رسالت پر کس قدر غیر معمولی اعتماد اور اطمینان تھا۔ ایمان اور خود اعتمادی ایک عظیم قوت ہے اور اس نے بہترین نتائج پیدا کیے۔
▪️اسی طرح اسلام اپنے دائرے میں آنے والے تمام لوگوں کے لیے بھائی چارے اور مساوات کا پیغام بھی لے کر آیا تھا۔
▪️اس طرح لوگوں کے لیے ایک طرح کی جمہوریت وجود میں آتی تھی۔ اسلامی اخوت کا یہ پیغام یقیناً اُس زمانے کی زوال پذیر مسیحیت کے مقابلے میں نہ صرف عربوں بلکہ بہت سے دوسرے ممالک کے لوگوں کے لیے بھی، جہاں مسلمان پہنچے، بے حد کشش رکھتا تھا۔
📚 نگاہی بہ تاریخِ جہاں، جلد ۱، ص ۲۹۳
#بدر_علی
Gallery
Tap any image to view full screen