شبهہ نواصب:
کہتے ہیں کہ مرحوم علامہ طہرانی کہتے ہیں ابن اعثم کوفی شیعہ ہے۔ 🟥❌
جواب ✅
👇👇👇👇👇
علامہ بزرگ طہرانی نے نقل کیا کہ
📜 ۸۱۱ : تاریخ ابن اعثم (الکوفی)، وہ ابو محمد احمد بن اعثم الاخباری المؤرخ المتوفی حدود سنہ ۳۱۴، اس کا ترجمہ اور تاریخ 👈 یاقوت نے بھی معجم الادباء میں لکھی اور کہا (کان شیعیا) 👉👉 اور اس کی کتابوں میں سے (الفتوح) کا ذکر کیا جو ایام الرشید تک پہنچتی ہے جو سنہ ۱۹۳ میں فوت ہوا، اور کتاب التاریخ جو ایام المامون المتوفی سنہ ۲۱۸ سے شروع ہو کر ایام المقتدر تک ہے جو سنہ ۳۲۰ میں قتل ہوا، اور ذکر کیا کہ اس نے دونوں کتابیں دیکھی ہیں اور امکان ظاہر کیا کہ مصنف نے دوسری کو پہلی کا ذیل بنایا۔
📚 کتاب: الذریعہ مصنف: آقا بزرگ الطہرانی جلد ۳ صفحہ ۲۲۱
👈 یعنی علامہ یاقوت حموی سنی مذہب کی کتاب معجم الادباء سے نقل کر رہے ہیں کہ ابن اعثم شیعہ ہے، نہ کہ یہ ان کی اپنی رائے ہو، اور پھر اسی متن کے بعد علامہ آقا بزرگ طہرانی اپنی رائے بیان کرتے ہیں جو علامہ مجلسی کے قول بحار الانوار میں ہے کہ یہ اہل سنت کی تواریخ میں سے ہے نہ کہ شیعہ کی۔
📜 👈👈 (اقول) اما کتابہ الاول المعبر عنہ بـ "الفتوح" فہو من مآخذ کتاب البحار؟ وعدہ العلامۃ المجلسی فی آخر الفصل الاول المنعقد لذکر المآخذ 👈👈 من کتب تواریخ العامۃ قال (وتاریخ الفتوح للاعثم الکوفی وتاریخ الطبری وتاریخ ابن خلکان)
📚 کتاب: الذریعہ مصنف: آقا بزرگ الطہرانی جلد ۳ صفحہ ۲۲۱
تم جماعت سقیفہ آ کر علما کے کلام کو تلبیس کرتے ہو اور جس تدلیس کا تم نے ارتکاب کیا اس کا دفاع بھی نہیں کر سکے۔
اور علمائے شیعہ نے بھی تصریح کی ہے کہ وہ علمائے اہل سنت میں سے ہے۔ مرحوم شوشتری نے کتاب المجالس المؤمنین میں اسے علمائے اہل سنت شافعی کے طور پر متعارف کرایا ہے۔
1️⃣ در تاریخ احمد بن اعثم کوفی کہ شافعی مذہب......
📚 مجالس المؤمنین صفحہ ۲۷۷
2️⃣ علامہ مجلسی بھی اس کا نام علمائے اہل سنت کے زمرے میں لاتے ہیں۔
📜 وقد نورد من کتب اخبارہم للرد علیہم، او لبیان مورد التقیۃ، او لتایید ما روی من طریقنا: مثل ما نقلناہ عن صحاحہم الستۃ، وجامع الاصول لابن الاثیر،...... وتاریخ الفتوح للاعثم الکوفی، وتاریخ الطبری، وتاریخ ابن خلکان
اہل سنت کی کتب روائی سے مطالب نقل کرتے ہیں تاکہ ان کے عقائد رد کریں یا تقیہ کا مورد ہو... جیسے صحاح ستہ اور تاریخ ابن اعثم کوفی
📚 بحار الانوار جلد ۱ صفحہ ۲۵
3️⃣ از مورخان مشہور عامہ / ایسا ہی مرعشی میں ہے۔
📜 اعظم: «از مورخین مشہور عامہ»۔ یاقوت حموی نے ابن اعثم کو مورخ شیعی جانا لیکن قاضی شہید، نور اللہ شوشتری (رہ)، نے اسے شافعی مذہب شمار کیا ہے۔
📚 فرحۃ الغری (فارسی) السید عبد الکریم بن طاووس (مترجم: مجلسی) صفحہ ۱۷۷
4️⃣ قول صاحب مجالس المؤمنین انہ کان شافعی المذہب قال ما تعریبہ: فی تاریخ احمد بن اعثم الکوفی الذی کان شافعی المذہب
📚 اعیان الشیعۃ السید محسن الامین جلد ۲ صفحہ ۴۸۱
5️⃣ وایّد ذلک احمد بن اعثم الکوفی الشافعی فی الفتوح،
📚 السقیفۃ ام الفتن الدکتور جواد جعفر الخلیلی صفحہ ۶۸ اور ابو بکر بن ابی قحافۃ علی الخلیلی صفحہ ۳۱۵
6️⃣ رواہ من العامۃ: احمد بن اعثم الکوفی (۶) (المتوفی ۳۱۴)
📚 کتاب: الہجوم علی بیت فاطمۃ (ع) مصنف: عبد الزہراء مہدی صفحہ ۱۵۲
🔺 ان موارد کے علاوہ خود کتاب سے بھی واضح ہے کہ احمد بن اعثم مصنف الفتوح اہل سنت سے ہے اور صرف حضرت علی علیہ السلام سے محبت کی وجہ سے اسے تشیع کا الزام دیا گیا ہے!!!
مزید ثبوت:
⭕️ ابوبکر پر ترضی اور اسے صدیق کا لفظ دینا ⭕️
1️⃣ ذکر وفات 👈 ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ 👉 قبل فتح دمشق
📚 الفتوح لابن اعثم جلد ۱ صفحہ ۶۸
⭕️ عمر و عثمان پر ترضی ⭕️
2️⃣ عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان وعلی بن ابی طالب 👈 رضی اللہ عنہم 👉
📚 الفتوح لابن اعثم جلد ۱ صفحہ ۶۸
⭕️ عمر بن خطاب پر ترضی ⭕️
3️⃣ فقال عمر 👈 رضی اللہ عنہ 👉: نعم لا حظ فی الاسلام
📚 الفتوح لابن اعثم جلد ۲ صفحہ ۳۲۷
⭕️ خالد بن ولید پر ترضی ⭕️
4️⃣ ذکر ابتداء مسیر 👈 خالد بن الولید رضی اللہ عنہ 👉 من ارض الیمامۃ الی ارض العراق
📚 الفتوح لابن اعثم جلد ۱ صفحہ ۷۲
⭕️ عبد الرحمن بن عوف پر ترضی ⭕️
5️⃣ ثم ان عبد الرحمن بن عوف 👈 رضی اللہ عنہ 👉 قام فقال
📚 الفتوح لابن اعثم جلد ۱ صفحہ ۸۰
⭕️ عثمان پر ترضی ⭕️
6️⃣ فقال عثمان بن عفان 👈 رضی اللہ عنہ 👉: انی اری
📚 الفتوح لابن اعثم جلد ۱ صفحہ ۸۰
⭕️ مغیرہ بن شعبہ پر ترضی ⭕️
7️⃣ ذکر عزل حذیفۃ بن الیمان وولایۃ 👈 المغیرۃ بن شعبۃ رضی اللہ عنہما 👉
📚 الفتوح لابن اعثم جلد ۲ صفحہ ۳۴۶
⭕️ عائشہ پر ترضی ⭕️
8️⃣ ثم حمل علی اعواد المنایا یراد بہ الی بیت 👈 عائشۃ رضی اللہ عنہا 👉 لیدفن
📚 الفتوح لابن اعثم جلد ۲ صفحہ ۳۳۰
⭕️ ابی عبیدہ پر ترضی ⭕️
9️⃣ فلما ورد کتاب عمر علی 👈 ابی عبیدۃ رضی اللہ عنہما 👉
📚 الفتوح لابن اعثم جلد ۱ صفحہ ۲۲۲
⭕️ عبد اللہ بن عمر پر ترضی ⭕️
🔟 واقبل 👈 عبد اللہ بن عمر 👉 بن الخطاب رضی اللہ عنہم
📚 الفتوح لابن اعثم جلد ۶ صفحہ ۳۴۳
صرف یہی ۱۰ موارد ان سینکڑوں ترضیوں میں سے ذکر کیے جو اس کتاب میں ہیں۔
🤔 کیا وہ شخص جو ابوبکر، عمر، عثمان، عائشہ، مغیرہ بن شعبہ اور خالد بن ولید پر ترضی کرتا ہے شیعہ ہو سکتا ہے؟
بدر_علی
invisibleislam