علی ع مولود کعبہ
⚠️ عمریہ کی طرف سے پیش کی جانے والی ایک پرانی اور فرسودہ شبہ یہ ہے کہ مولودِ کعبہ امیرالمومنین علیہ السلام نہیں بلکہ ایک شخص حکیم بن حزام ہے، جو مشر/ک تھا،
اور اب عمریہ خود مشرکین کے دفاع پر اتر آئے ہیں!!
ہم پہلے حکیم بن حزام کی شخصیت کا جائزہ لیتے ہیں، پھر اس روایت کو بیان کریں گے جسے عمریہ نے اپنے دعوے کی بنیاد بنایا ہے۔
▪️ ذہبی نے سیر اعلام النبلاء (جلد 3، ص 44–45) میں اور ابن حجر نے الاصابہ (جلد 2، ص 98) میں حکیم بن حزام کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ مشر/ک تھا، برسوں رسولِ خدا ﷺ کے خلاف جنگ کرتا رہا، جنگِ بدر میں بھی شامل تھا، اور اس نے اسلام قبول نہیں کیا مگر فتحِ مکہ (8 ہجری) کے سال۔
اسلام لانے کے بعد وہ مؤلَّفۃ القلوب میں شمار ہوا، یعنی اسے مال دے کر مسلمانوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کروایا جاتا تھا۔
حکیم بن حزام کی ماں بھی ان لوگوں میں سے تھی جو جنگِ بدر میں کفار و مشرکینِ قریش کے ساتھ مل کر رسولِ خدا ﷺ کے خلاف لڑے:
🗯 رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن فرمایا: جو شخص حکیم بن حزام کی ماں کو قید کرے، اسے چھوڑ دے۔
ایک انصاری نے اسے اس کی چوٹی سے پکڑ کر قید کیا تھا، جب اس نے نبی ﷺ کا اعلان سنا تو اسے چھوڑ دیا۔
📚 مراسیل ابی داود، جلد 1، ص 254
✔️ دوسری طرف حکیم بن حزام، زبیر کے خاندان کے ساتھ چچا زاد تھے، کیونکہ حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزی ہیں، اور زبیر کا خاندان بھی اسد بن عبدالعزی تک پہنچتا ہے، جو اہلِ بیت اور بنی ہاشم کا سخت دشمن تھا۔
چنانچہ ابن سعد الطبقات الکبری میں لکھتے ہیں:
📜 علی بن عیسیٰ بن عبد اللہ النوفلی نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے چچا اسحاق بن عبد اللہ سے، انہوں نے اپنے والد عبد اللہ بن الحارث سے روایت کی کہ:
جب بدر کا دن آیا تو قریش نے بنی ہاشم اور ان کے حلیفوں کو ایک خیمے میں جمع کیا، ان سے خوفزدہ ہوئے، اور ان پر سخت نگرانی کے لیے اپنے ہی لوگوں میں سے حکیم بن حزام کو مقرر کیا۔
📚 الطبقات الکبری، جلد 4، ص 11
❓❗️ سوال یہ ہے: کیا حکیم بن حزام کی وہ ماں، جو مشر/کہ تھی، جو رسولِ خدا ﷺ کے مقابل کھڑی ہوئی اور ان کے خلاف جنگ کرتی رہی، اس بات کی اہل ہو سکتی ہے کہ اللہ اسے اپنے گھر کعبہ میں ولادت کی اجازت دے؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ حکیم بن حزام، جو اہلِ بیت اور بنی ہاشم کا دشمن تھا، خانۂ خدا میں پیدا ہوا ہو؟؟؟؟
♦️ اب آتے ہیں مخالفین کی دلیل بننے والی روایت کی طرف؛ پہلے روایت نقل کرتے ہیں، پھر اس کا جواب:
1⃣
ابو بکر محمد بن احمد بن بالویہ نے ہمیں خبر دی، انہوں نے ابراہیم بن اسحاق حربی سے، انہوں نے مصعب بن عبد اللہ سے روایت کی—انہوں نے حکیم بن حزام کا نسب بیان کیا اور یہ اضافہ کیا کہ اس کی ماں فاختہ بنت زہیر بن اسد بن عبدالعزی تھی، اور اس نے حکیم کو کعبہ میں جنم دیا۔ وہ حاملہ تھی، اسے کعبہ کے اندر دردِ زہ ہوا، وہیں اس نے بچے کو جنم دیا، پھر اسے ایک چمڑے کے فرش پر اٹھایا گیا اور زمزم کے حوض کے پاس اس کے نیچے کے کپڑے دھوئے گئے۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد کعبہ میں کوئی پیدا نہیں ہوا۔
2⃣
میں نے ابو الفضل حسن بن یعقوب کو یہ کہتے سنا کہ میں نے ابو احمد محمد بن عبد الوہاب کو یہ کہتے سنا کہ میں نے علی بن غنام عامری کو یہ کہتے سنا:
حکیم بن حزام کعبہ کے اندر پیدا ہوا؛ اس کی ماں کعبہ میں داخل ہوئی، اسے وہیں دردِ زہ ہوا اور اس نے اسی گھر میں بچے کو جنم دیا۔
📚 مستدرک الصحیحین، جلد 3، ص 482–483
3⃣
زبیر کہتے ہیں، اور مصعب بن عثمان نے مجھ سے بیان کیا:
حکیم بن حزام کی ماں، قریش کی چند عورتوں کے ساتھ کعبہ میں داخل ہوئی، وہ حکیم سے حاملہ تھی، کعبہ میں اسے دردِ زہ ہوا، ولادت جلدی ہو گئی، اسے ایک چمڑے کے فرش پر لایا گیا، اور اس نے حکیم بن حزام کو کعبہ میں اسی فرش پر جنم دیا۔
📖 جَمہرة نسب قریش و اخبارها، ص 77
🛗 مستدرکِ حاکم میں اس افسانے کے راوی دو ہیں: مصعب بن عبد اللہ اور علی بن غنام،
اور زبیر بن بکار کی کتاب میں اس افسانے کا راوی مصعب بن عثمان ہے۔
◻️▪️ مصعب بن عثمان:
عمریہ کے رجالی مصادر میں اس کا تعارف مجہول ہے۔ کتاب التبیین فی انساب القرشیین میں اس کے بارے میں یوں لکھا ہے:
“مصعب بن عثمان بن عروہ بن زبیر بن العوام”
📚 التبیین فی انساب القرشیین، ص 266
✅👎 اہلِ سنت کی رجالی کتب میں ہمیں اس راوی کی توثیق یا مدح کا کوئی معتبر ماخذ نہیں ملا، لہٰذا مصعب بن عثمان کی جہالت کی وجہ سے یہ روایت مردود ہے۔
ثانیاً، خود اہلِ سنت علماء کے اعتراف کے مطابق حکیم بن حزام کی ولادت عام الفیل سے 13 سال پہلے ہوئی تھی، جبکہ مصعب بن عثمان نے یہ واقعہ بلا سند نقل کیا ہے، اس لیے اس کی روایت مرسل ہے اور اس پر اعتماد کی کوئی حیثیت نہیں۔
◻️▪️ مصعب بن عبد اللہ:
ذہبی، ابن حجر اور دیگر عمری علماء نے اس بارے میں یوں کہا ہے:
1- اس کی وفات سنہ 236 ہجری میں ہوئی، جبکہ اس کی عمر 80 سال تھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی پیدائش سنہ 156 ہجری میں ہوئی۔
2- حکیم بن حزام عامِ فیل سے 13 سال پہلے پیدا ہوا تھا۔
3- عامِ فیل وہی سال ہے جس میں رسولِ اکرم ﷺ کی ولادت ہوئی، اور یہ ہجرت سے 53 سال قبل تھا۔
4- حکیم بن حزام کی وفات سنہ 54 ہجری سے 60 ہجری کے درمیان ہوئی۔
📚 تہذیب التہذیب، جلد 10، ص 147، شمارہ 311
📚 الاصابہ، جلد 1، ص 349
📚 الاستیعاب، جلد 1، ص 320
◻️▪️ علی بن غنام (بن عثام):
ذہبی اس راوی کے بارے میں یوں لکھتے ہیں:
مذکورہ راوی کا صحیح نام علی بن عثام بن علی العامری الکلابی، ابو الحسن الکوفی ہے، اور اس کی وفات سنہ 228 ہجری میں ہوئی۔
📚 سیر اعلام النبلاء، جلد 10، ص 571، شمارہ 198
💠 پہلے یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ حکیم بن حزام کی وفات سنہ 54 ہجری سے 60 ہجری کے درمیان ہوئی، لہٰذا ابنِ عثام کی حکیم سے روایت مرسل ہے، یعنی اس نے اپنے کلام کی سند حکیم بن حزام تک بیان نہیں کی۔
آخر میں یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ حاکم نیشاپوری نے روایت نقل کرنے کے بعد اس دعوے کو باطل قرار دیا ہے کہ صرف حکیم بن حزام ہی کعبہ میں پیدا ہوا تھا، بلکہ وہ امیرالمومنین علیہ السلام کی کعبہ میں ولادت کو متواتر قرار دیتے ہیں:
🔹 حاکم کہتے ہیں:
👉 مصعب آخری عبارت میں وہم کا شکار ہو گیا ہے، کیونکہ متواتر روایات سے ثابت ہے کہ فاطمہ بنت اسد نے امیرالمومنین علی بن ابی طالبؑ کو کعبہ کے اندر جنم دیا۔
🔸 یعنی مصعب بن عبد اللہ اپنے کلام کے آخر میں غلطی کر بیٹھا ہے، کیونکہ متواتر خبریں اور روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت اسدؑ نے امیرالمومنین علی بن ابی طالبؑ کو کعبہ میں جنم دیا۔
✔️ حاکم نیشاپوری، مصعب بن عثمان کے اس قول کو رد کرتے ہیں کہ حکیم کے علاوہ کوئی اور کعبہ میں پیدا نہیں ہوا، بلکہ اس کے برعکس وہ امیرالمومنین علی علیہ السلام کی کعبہ میں ولادت کو ثابت کرتے ہیں۔
🔴 دیگر عمری علماء بھی امیرالمومنین علی علیہ السلام کی کعبہ میں ولادت کو متواتر مانتے ہیں۔
شاہ ولی اللہ دہلوی بھی امیرالمومنین علیہ السلام کی کعبہ میں ولادت کو ایک قطعی، مسلم اور متواتر امر کے طور پر بیان کرتے ہیں:
📜 متواتر خبریں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت اسد نے امیرالمومنین علیؑ کو کعبہ کے اندر جنم دیا؛ وہ جمعہ کے دن، 13 رجب کو، عامِ فیل کے تیس برس بعد، کعبہ میں پیدا ہوئے، اور ان سے پہلے اور ان کے بعد کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا۔
اسی طرح وہ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
ولی اللہ دہلوی کہتے ہیں:
📜اور ان کی فضیلتوں میں سے ایک فضیلت جو ولادت کے وقت ظاہر ہوئی، یہ ہے کہ ان کی پیدائش خانۂ کعبہ کے اندر ہوئی۔
📚 إزالة الخفاء عن خلافة الخلفاء، تصنیف: ولی اللہ دہلوی
جلد 4، صفحہ 262 جلد 2، صفحہ 251
▪️کنجی شافعی نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں اس امر کی وضاحت کر دی ہے کہ وہ
📜 ﺇﻣﻼﺀ ﻛﺘﺎﺏٍ ﻳﺸﺘﻤﻞ ﻋﻠﻰ ﺑﻌﺾ ﻣﺎ ﺭﻭﻳﻨﺎﻩ ﻋﻦ ﻣﺸﺎﻳﺨﻨﺎ ﻓﻲ ﺍﻟﺒﻠﺪﺍﻥ، ﻣﻦ ﺃﺣﺎﺩﻳﺚ ﺻﺤﻴﺤﺔٍ ﻣﻦ ﻛﺘﺐ ﺍﻷﺋﻤّﺔ ﻭﺍﻟﺤُﻔّﺎﻅ ﻓﻲ ﻣﻨﺎﻗﺐ ﺃﻣﻴﺮ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ﻋﻠﻲٍّ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴّﻼﻡ
✅ کتاب میں فقط وہی صحیح احادیث نقل کریگا جو اس مختلف شہروں میں اپنے مشايخ سے سنیں جوکہ ائمہ و حفاظ کی کتب میں موجود ہیں
📚 کفایة الطالب ص12
اور پھر علی ع کی کعبہ کی میں ولادت کا زکر مکمل سند کے ساتھ کرتے ہیں
📚 الکفایہ الطالب ص406 حدیث 1088
▪️تاریخ موصل میں مکمل سند کے ساتھ زکر ہوا کہ
📜 و لم یولد فیها خلیفة غیر امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیه السلام.
📃 اور خانۂ کعبہ میں امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے سوا کوئی خلیفہ پیدا نہیں ہوا۔
📚 تاریخ موصل
▪️ سید ابو الحسن علی حسنی ندوی، جو عمری علماء میں سے ہیں، اپنی کتاب المرتضیٰ میں لکھتے ہیں:
📜 متواتر روایات کے مطابق فاطمہ بنت اسد نے امیرالمومنین علی کو کعبہ کے اندر جنم دیا۔
📚 کتاب: المرتضیٰ
مصنف: امام سید ابو الحسن علی حسنی ندوی
مترجم: استاد ابو الشعیب عبدالقادر دہقان
صفحہ 53
▪️ امام المحدثین ملا علی قاری اپنی تصنیف " شرح الشفاء" میں لکھتے ہیں
📜 مستدرک حاکم میں ہے کہ مولا علی خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے
📚 شرح شفاء ۔ملا علی ج 1 ص 159
ملا علی قاری جیسے محقق و محدث نے امام حاکم کے قول پر اعتراض نہیں کیا بلکہ اس کو قول متواتر کو قبول کرتے ہوئے امام علی کی ولادت کعبہ میں قبول کیا ہے
❓تو آج کے فیس بکی مفتی کیسے اعتراض کر سکتے ہیں
▪️ مسعوی نے لکھا کہ
📜 علی بن ابی طالبؑ کے ساتھ اسی دن بیعت کی گئی جس دن عثمان بن عفان قتل ہوا تھا، اور ان کی ولادت خانۂ کعبہ میں ہوئی۔
📚 مروج الزھب
✅ نتیجہ یہ ہے کہ جس حکیم بن حزام کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ کعبہ میں پیدا ہوا، وہ راویِ خبر یعنی مصعب بن عثمان سے 222 سال پہلے پیدا ہوا تھا، اور مصعب نے اسے کبھی دیکھا ہی نہیں۔
لہٰذا یہ روایت مرسل ہے اور قابلِ استناد نہیں، کیونکہ اس واقعے کا راوی حکیم بن حزام کے 222 سال بعد کا ہے، اور اس کی سند بھی حکیم تک معلوم نہیں۔
مزید یہ کہ یہ روایت زبیر بن بکار کی گھڑی ہوئی ہے، جو زبیری خاندان سے تعلق رکھتا تھا، اور تاریخ میں ان کی امیرالمومنین علیہ السلام سے دشمنی ثابت ہے۔
ثانیاً، تمہاری ہی کتب کی صحیح روایات کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
📜 یا علی! تجھ سے صرف مومن محبت کرے گا اور تجھ سے صرف منافق بغض رکھے گا۔
تو کیا یہ ممکن ہے کہ جو شخص علی علیہ السلام کا دشمن ہو، اور جس کی پیشانی پر نفاق کی مہر لگی ہو، وہ کعبہ میں پیدا ہوا ہو؟
کیا حکیم بن حزام کے لیے کعبہ میں ولادت کی فضیلت ثابت کرنے کی کوشش، نفاق اور منافقین کی ترویج نہیں جن پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے؟❓❗️
ثالثاً، سقیفہ کے علماء کے اعتراف کے مطابق امیرالمومنین علی علیہ السلام کی کعبہ میں ولادت متواتر اور قطعی ہے، اور اس کا انکار صرف وہی کرتا ہے جو حرا/م زادہ ہو یا امیرالمومنین علی علیہ السلام کا دشمن ہو۔
❌ اب یہ دعویٰ کرنے لگے ہیں کہ: کیا کعبہ میں ولادت کوئی فضیلت ہے؟!
✅ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں: یقیناً امیرالمومنین علیہ السلام کی کعبہ میں ولادت ایک عظیم فضیلت ہے۔ اگر یہ فضیلت نہ ہوتی تو پھر امیرالمومنین کے لیے اس فضیلت کو چھپانے، اس کا انکار کرنے اور تحریف کرنے کے لیے آپ کے پاس جھوٹ بولنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟❓❓
تاریخ میں یہ عظیم فضیلت صرف اور صرف امیرالمومنین کے حصے میں آئی ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھی۔ یہ بات قرآن سے بھی ثابت ہے۔
مثال کے طور پر حضرت مریم بیت المقدس میں تھیں، لیکن جب وضعِ حمل کا وقت آیا تو اللہ کی وحی سے انہیں حکم دیا گیا کہ وہ اللہ کے گھر سے باہر نکل جائیں اور اپنے بچے کو کسی اور جگہ جنم دیں۔
سورۂ مریم، آیت 22:
👉 فَحَمَلَتْهُ فَانتَبَذَتْ بِهِ مَکَانًا قَصِیًّا
پس وہ اس کے ساتھ حاملہ ہوئیں، پھر اسے لے کر ایک دور دراز جگہ چلی گئیں۔
😍 لیکن امیرالمومنین علی علیہ السلام کی والدہ کعبہ کے اندر داخل ہوئیں اور مولا کو کعبہ کے اندر ہی جنم دیا؛ لہٰذا یہ یقیناً ایک فضیلت ہے۔
یہ بات علماء کے اقوال سے بھی ثابت ہے،
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا
◻️ مرحوم سلطان الواعظین اپنی کتاب شبہائے پیشاور میں نقل کرتے ہیں:
♦️ امیرالمومنین کی عمرِ مبارک کے آخری لمحات میں صحابہ ایک ایک کر کے ان کی عیادت کے لیے آتے اور سوالات کرتے تھے۔ ان میں سے ایک صعصعہ بن صوحان تھے، جو شیعہ کے بڑے راویوں میں سے ہیں۔ صعصعہ نے حضرت امیر سے انبیاء پر فضیلت کے بارے میں سوال کیا، یہاں تک کہ پوچھا: آپ افضل ہیں یا حضرت عیسیٰ؟
حضرت علیؑ نے فرمایا:
👉 میں عیسیٰ سے افضل ہوں، کیونکہ جب مریم، جبرئیل کے پھونک مارنے سے اللہ کے حکم سے حاملہ ہوئیں اور ولادت کا وقت آیا تو وحی ہوئی: اے مریم! بیت المقدس سے باہر نکل جاؤ، کیونکہ یہ عبادت کی جگہ ہے، ولادت کی جگہ نہیں۔ چنانچہ وہ باہر نکل گئیں اور بیابان میں ایک خشک کھجور کے درخت کے نیچے عیسیٰ کو جنم دیا۔
لیکن جب میری والدہ فاطمہ بنت اسد کو دردِ زہ ہوا، اس وقت وہ مسجد الحرام میں تھیں، انہوں نے کعبہ کی پناہ لی اور کہا: اے اللہ! اس گھر اور اس کے بنانے والے کے واسطے، میرے لیے اس ولادت کو آسان فرما۔ اسی وقت کعبہ کی دیوار شگاف ہو گئی اور ایک غیبی آواز آئی: اے فاطمہ! گھر کے اندر داخل ہو جاؤ۔ میری والدہ اندر داخل ہوئیں اور میں اسی گھر، کعبہ کے اندر پیدا ہوا۔
📚 شبہائے پیشاور، صفحہ 476
🔰 اس طرح اللہ کا حکم فاطمہ بنت اسد کو کعبہ میں داخل ہونے کا، اور مریم کو بیت المقدس میں ولادت سے منع کرنا جبکہ مکہ کی شرافت بیت المقدس سے زیادہ ہے حضرت علی کی حضرت عیسیٰ نبی پر فضیلت کو واضح کرتا ہے، اور یہ بھی ایک فضیلت ہے۔
❌ اس عمری جاہل کا اگلا دعویٰ یہ تھا کہ اگر کعبہ میں ولادت فضیلت ہے تو پھر رسول اللہ ﷺ کعبہ میں کیوں پیدا نہیں ہوئے؟
✅ جواب: یہ سوال خود امیرالمومنین علی علیہ السلام کے ساتھ تمہاری ناصبیت اور بغض کو ثابت کرتا ہے۔
اولاً یہ سب اللہ کے حکم سے ہوا، جیسا کہ ہم نے عمری علماء کے اعترافات پیش کیے۔ پس جو چیز اللہ کے اذن سے ہو، اس پر اعتراض درحقیقت اللہ پر اعتراض ہے، اور یہی تمہارے کفر کو ثابت کرتا ہے۔
ثانیاً ہم تمہارے سوال کا جواب سوال سے دیتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی ولادت عام طریقے سے والدین کے ذریعے کیوں ہوئی، جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے، غیر معمولی ولادت کے ساتھ پیدا ہوئے؟ تم جو بھی جواب دو گے، ہم وہی جواب تمہیں دیں گے۔
❌ اس عمری کا اگلا دعویٰ یہ تھا کہ حکیم بن حزام اور اس کی ماں اس وقت مشر/ک نہیں تھے۔
✅ جواب: ہم نے ثابت کر دیا کہ حکیم بن حزام مشر/ک تھا، جنگِ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے مقابل لڑا، اور اس وقت مسلمان نہیں تھا۔
اس کے بعد ذہبی اور ابن حجر کہتے ہیں کہ وہ مؤلفة القلوب میں سے تھا، یعنی اسے مال دے کر مسلمانوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کروایا جاتا تھا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ حقیقی مسلمان نہیں تھا۔
حکیم بن حزام کی ماں بھی مشر/کہ تھی اور جنگِ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے خلاف لڑی۔ ہم نے اس کے مستند دلائل بھی پیش کیے، مگر عمری میں جواب دینے کی جرات نہیں ہوئی 😂
ہم نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ اہلِ بیت اور بنی ہاشم کے دشمنوں میں سے تھا۔ سوال یہ ہے کہ جب حکیم بن حزام کی ماں اہلِ بیت، بنی ہاشم اور رسول اللہ ﷺ کی سخت دشمن تھی، تو اللہ کا عدل کیسے اجازت دیتا کہ وہ کعبہ میں ولادت کرے؟ کیا ایک مشرکہ کا مقام فاطمہ بنت اسد اور حضرت مریم سے بلند تھا، یا تمہاری جہالت کی کوئی حد ہی نہیں؟ 🤣🤣❓❗️
🔥 و السلام علی من التبع الهدی
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen