Back to علیؑ مَولودِ کعبہ

خانہ کعبہ میں حضرت علی علیہ السلام کی ولادت پر ایک مناظرہ

خانہ کعبہ میں حضرت علی علیہ السلام کی ولادت پر ایک مناظرہ~

 

اشارہ:

امام علی علیہ السلام کے امتیازات اور افتخارات میں سے ایک عظیم افتخار یہ بھی ہے کہ آپ دنیا کے مقدس ترین مقام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے اور یہ چیز شیعہ اور سنی دونوں طرح سے ثابت اور یقینی ہے۔

 

علامہ امینی ،صاحب الغدیر نے اپنی کتاب کی چھٹی جلد میں اس بات کو اہل سنت کی ۱۹/ معتبر کتابوں سے نقل کیا ہے۔

 

یہ بات خود امام علی علیہ السلام کی افضلیت کے لئے ایک اہم اور زندہ ثبوت ہے جو دوسروں میں نہیں پائی جاتی اور اس بات سے ان کی رہبری اور ولایت بھی منحرف لوگوں پر ثابت ہوتی ہے۔

 

حاکم نے اپنی کتاب مستدرک (ج۲،ص۴۸۳)میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ حدیث متواتر ہے۔

 

چنانچہ اسی کے متعلق ایک شیعہ اور سنی عالم کے مناظرہ پر توجہ فرمائیں:

 

سنی عالم: ”تاریخ میں آیا ہے کہ حکیم بن حزام بھی کعبہ میں پیدا ہوا ہے“۔

 

شیعہ عالم: ”اس طرح کی چیز تاریخ میں ثابت نہیں ہے جیسا کہ بڑے علماء ،جیسے ابن صباغ مالکی [66]،گنجی شافعی[67] شبلنجی [68]اور محمد بن ابی طلحہ شافعی[69] کہتے ہیں:

 

”لم یولد فی الکعبة احد قبلہ“۔

 

”حضرت علی علیہ السلام سے پہلے کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا تھا۔

 

(اس بات پر توجہ رہے کہ حکیم بن حزام حضرت علی سے عمر میں بڑا تھا )یہ گڑھی ہوئی روایت بھی حضرت علی علیہ السلام کے دشمنوں کی کارستانی ہے۔انھوں نے اس طرح اس عظیم افتخار کی اہمیت کو ختم کرنا چاہا ہے“۔

 

سنی عالم: ”کعبہ میں ولادت ہونا مولود کے لئے کون سا افتخار ہے ؟“

 

شیعہ عالم: ”ایک وقت یہ ہے کہ اگر کوئی عورت اتفاق سے ایسی جگہ پہنچ جائے اور وہاں ولادت ہو جائے تو اس یقینا اس میں کوئی افتخار نہیں ہے، لیکن اگر کوئی عورت اتنی زیادہ اہمیت کی حامل ہو کہ خدا اس کے لئے خاص انتظام کرے اور وہاں پہنچ کر بچہ کی ولادت ہوتو یہ بات یقینا دونوں کے لئے افتخار کا باعث ہوگی۔حضرت علی علیہ السلام کی کعبہ میں ولادت خدا وند متعال کی خاص عنایتوں میں ہے جیسا کہ دیوار کاشق ہونا اور جناب فاطمہ بنت اسد کا اندر جانا سب کرامت ولطف خداوند کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے ؟“[70]

 

سنی عالم: ” جب علی علیہ السلام پیدا ہوئے تو وہ بعثت سے ۱۰ سال پہلے کا واقعہ ہے اس وقت کعبہ میں بت بھرے ہوئے تھے جس کی وجہ سے اسے کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں تھی بلکہ وہ بت کدہ تھا اور حضرت علی علیہ السلام جب ایک بت کدہ میں پیدا ہوئے تو بھلا ان کے لئے کون سی فضیلت کی بات ہوگی“۔

 

شیعہ عالم: ” کعبہ وہ پہلی عبادت گاہ ہے جو دنیا میں بنائی گئی ،جسے حضرت آدم علیہ السلام نے بنایا تھا اور جہاں جنت سے حجر الاسود لا کر نصب کیا گیا تھا اس کے بعد طوفان نوح کے بعد جناب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں دوبارہ اس کی تعمیر کی کعبہ پوری تاریخ میں تمام انبیاء اور اولیاء خدا اور فرشتوں کا جائے طواف رہا ہے، اب اگر اس مقدس جگہ پر کچھ دنوں کے لئے بت پرست قابض ہوجائیں اور اسے بت کدہ بنا دیں تو اس کی عظمت ومنزلت میں کمی نہیں آئے گی مثال کے طور پر اگر کوئی شخص مسجد میں ایک بوتل شراب لے جائے تو کیا اس مسجد کی عظمت ختم ہو جائے گی ؟

 

اگو کوئی شخص حالت جنابت میں یاشراب لئے مسجد میں داخل ہوتا ہے تو وہ حرام کام کرتا ہے اور اس کی وجہ سے اس پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا لیکن جب فاطمہ بنت اسد خدا کے حکم اور مشیت سے کعبہ میں داخل ہوئیں تو یہ ان کی فضیلت و طہارت کی دلیل ہے اور وہ اس طرح سے خدا کی مہمان ہوئیں۔چنانچہ اس طرح سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات حضرت علی علیہ السلام کے افتخار کا سبب ہے۔

 

اسی وجہ سے اوائل اسلام میں شاعروں نے خاص طور سے اس کرامت اور عنایت کو اپنے شعروں میں بیان کیا ہے اور خود اس بات کو ایک عجیب وغریب واقعہ سے قرار دیا گیا ہے۔

 

عبدالباقی عمری اس کے متعلق حضرت علی علیہ السلام سے خطاب کر کے کہتا ہے:

 

انت العلی الذی فوق العلی رفعا

 

ببطن مکة وسط البیت اذ وضعا[71]

 

”تم وہی ہو جو بلندیوں سے بھی بلند ہو گئے ،جب کہ تم مکہ کے درمیان ،خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔

 

اسی طرح فارسی شاعر کہتا ہے:

 

درکعبہ تولد وز محراب شد شہید

 

نازم بہ حسن مطلع وحسن ختام او

 

”کعبہ میں ولادت اور محراب میں شہادت، ان کے آغاز و انجام ناز کرتا ہوں“۔

 

سنی عالم نے ہار مان کر مناظرہ کے اختتام کا اعلان کردیا۔

 

----------------------------------

 

حوالاجات

 

[66] الفصول المہمہ ،ص۱۴۔

 

[67] کفایة الطالب ،ص۳۶۱۔

 

[68] نور الابصار، ۷۶۔

 

[69] مطالب السوٴل ،ص۱۱۔

 

[70] دلائل الصدق ،ج۲،ص۵۰۸و۵۰۹۔

 

[71] دلائل الصدق ،ج۲،ص۵۰۹و۵۱۰