📜 عن يزيد بن قعنب قال:

كنت جالساً مع العباس بن عبد المطلب وفريق من بني عبد العزى بإزاء بيت الله الحرام إذ أقبلت السيدة فاطمة بنت أسد أم أمير المؤمنين عليه السلام وكانت حاملاً به لتسعة أشهر وقد أخذها الطلق

فقالت: يا رب إني مؤمنة بك وبما جاء من عندك من رسل وكتب وإني مصدّقة بكلام جدي إبراهيم الخليل عليه السلام وإنه بنى البيت العتيق فبحق الذي بنى هذا البيت والمولود الذي في بطني إلا ما يسرت علي ولادتي

 

قال يزيد بن قعنب: فرأيت البيت قد إنشق عن ظهره ودخلت السيدة فاطمة بنت أسد عليها السلام فيه وغابت عن أبصارنا وعاد إلى حاله فرحنا أن ينفتح لنا قفل الباب ..!!

فلم ينفتح فعلما أنّ ذلك من أمر الله تعالى ثم خرجت في اليوم الرابع وعلى يدها أمير المؤمنين علي بن أبي طالب عليه السلام 

قالت عليها السلام : إني فضلت على من تقدمني من النساء لأن آسيا بنت مزاحم عبدت الله سراً في موضع لا يحب الله أن يعبد فيه إلا اضطراراً وأن مريم بنت عمران حضرت النخلة اليابسة بيدها حتى أكلت منها رطباً جنياً وإني دخلت بيت الله الحرام فأكلت من ثمار الجنة وأرزاقها 

فلما أردت أن أخرج هتف بي هاتف وقال : يا فاطمة سميه علياً فهو علي والله العلي الأعلى يقول: إشتققت إسمه من إسمي وأدبته بأدبي وأوقفته على غامض علمي وهو الذي يكسر الأصنام في بيتي وهو الذي يؤذن فوق ظهر بيتي ويقدسني ويمجدني فطوبى لمن أحبه وأطاعه وويل لمن أبغضه وعصاه

 

📃 یزید بن قعنب کہتے ہیں:

میں عباس بن عبدالمطلب اور بنی عبدالعزیٰ کے ایک گروہ کے ساتھ بیت اللہ الحرام کے سامنے بیٹھا تھا کہ اچانک سیدہ فاطمہ بنت اسد، جو امیر المومنین علی علیہ السلام کی والدہ تھیں اور حمل کے نویں مہینے میں تھیں، وہاں آئیں۔ انہیں درد زہ شروع ہو گیا۔

 

انہوں نے دعا کی:

"اے میرے رب! میں تجھ پر، تیرے رسولوں اور کتابوں پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے جد ابراہیم خلیل علیہ السلام کے کلام کی تصدیق کرتی ہوں، جنہوں نے اس قدیم گھر کو بنایا۔ پس اس گھر کے بنانے والے اور اس بچے کے حق کے واسطے جو میرے بطن میں ہے، میری ولادت کو آسان فرما دے۔"

 

یزید بن قعنب کہتے ہیں:

میں نے دیکھا کہ بیت اللہ کی دیوار پیچھے کی طرف سے پھٹ گئی، اور سیدہ فاطمہ بنت اسد اس میں داخل ہو گئیں۔ وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئیں، اور دیوار اپنی اصلی حالت میں واپس آ گئی۔ ہم نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی، لیکن وہ نہیں کھلا۔ ہمیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ کا خاص حکم ہے۔

 

پھر چوتھے دن وہ باہر آئیں اور ان کے ہاتھ میں امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام تھے۔

انہوں نے فرمایا:

"مجھے ان تمام عورتوں پر فضیلت دی گئی ہے جو مجھ سے پہلے گزریں۔ کیونکہ آسیہ بنت مزاحم نے ایک ایسی جگہ پر اللہ کی عبادت کی جو اللہ کو پسند نہ تھی مگر مجبوراً، اور مریم بنت عمران نے کھجور کے خشک درخت کے نیچے بیٹھ کر تازہ کھجوریں کھائیں۔ لیکن میں بیت اللہ الحرام میں داخل ہوئی اور جنت کے پھل اور رزق کھائے۔

 

جب میں باہر نکلنے لگی تو ایک غیبی آواز آئی:

'اے فاطمہ! اس کا نام علی رکھو۔ یہ علی ہے، اور میں اللہ العلی الاعلیٰ ہوں۔ میں نے اس کا نام اپنے نام سے نکالا ہے، اسے اپنے ادب سے آراستہ کیا ہے، اور اپنے علم کے گہرے رازوں سے آگاہ کیا ہے۔ یہ وہ ہے جو میرے گھر میں بتوں کو توڑے گا، میرے گھر کی چھت پر اذان دے گا، اور مجھے تقدیس اور تمجید سے یاد کرے گا۔ خوش نصیب ہے وہ جو اس سے محبت کرے اور اس کی اطاعت کرے، اور ہلاکت ہے اس کے لیے جو اس سے بغض رکھے اور اس کی نافرمانی کرے۔'"

 

📚 بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج ٣٥ - الصفحة ٨

📚 كشف الغمة - ابن أبي الفتح الإربلي - ج ١ - الصفحة ٦١