صحیح سند روایت 2
صحیح سند روایت 2
صحیح سند روایت 2
صحیح سند روایت 2
صحیح سند روایت 2
صحیح سند روایت 2

🔴 حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب ع کی ولادت فی الکعبہ پر صحیح السند روایت

 

کنجی شافعی نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں اس امر کی وضاحت کر دی ہے کہ وہ

 

📜 ﺇﻣﻼﺀ ﻛﺘﺎﺏٍ ﻳﺸﺘﻤﻞ ﻋﻠﻰ ﺑﻌﺾ ﻣﺎ ﺭﻭﻳﻨﺎﻩ ﻋﻦ ﻣﺸﺎﻳﺨﻨﺎ ﻓﻲ ﺍﻟﺒﻠﺪﺍﻥ، ﻣﻦ ﺃﺣﺎﺩﻳﺚ ﺻﺤﻴﺤﺔٍ ﻣﻦ ﻛﺘﺐ ﺍﻷﺋﻤّﺔ ﻭﺍﻟﺤُﻔّﺎﻅ ﻓﻲ ﻣﻨﺎﻗﺐ ﺃﻣﻴﺮ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ﻋﻠﻲٍّ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴّﻼﻡ

 

✅ کتاب میں فقط وہی صحیح احادیث نقل کریگا جو اس مختلف شہروں میں اپنے مشايخ سے سنیں جوکہ ائمہ و حفاظ کی کتب میں موجود ہیں

 

📚 کفایة الطالب ص12

 

▪️نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صحیح سند حدیث موجود ہے جسکو امام اہل سنت محمد بن یوسف کنجی نے متصل سند سے بیان کیا ہے لکھتے ہیں:

 

📜 ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺍﻟﺸﻴﺦ ﺍﻟﻤﻘﺮﻱ ﺃﺑﻮ ﺇﺳﺤﺎﻕ ﺇﺑﺮﺍﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﻳﻮﺳﻒ ﺑﻦ ﺑﺮﻛﺔ ﺍﻟﻜﺘﺒﻲ ﻓﻲ ﻣﺴﺠﺪﻩ ﺑﻤﺪﻳﻨﺔ ﺍﻟﻤﻮﺻﻞ ﻭﻣﻮﻟﺪﻩ ﺳﻨﺔ ‏« 554 ﻫـ‏» ، ﻗﺎﻝ : ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﺍﻟﻌﻼﺀ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺍﻟﻌﻄﺎﺭ ﺍﻟﻬﻤﺪﺍﻧﻲ ﺇﺟﺎﺯﺓ ﻋﺎﻣﺔ ﺇﻥ ﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﺧﺎﺻﺔ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺍﻟﻔﺎﺭﺳﻲ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺍﻟﺨﻄﺎﺑﻲ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺍﻟﺤﺠﺎﺝ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻨﻬﺎﻝ ﻋﻦ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺍﺑﻦ ﻣﺮﻭﺍﻥ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺍﻟﻐﻨﻮﻱ ﻋﻦ ﺷﺎﺫﺍﻥ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﻼﺀ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻌﺰﻳﺰ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺼﻤﺪ ﻋﻦ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﺍﻟﻤﻜﻲ ﺍﻟﻤﻌﺮﻭﻑ ﺑﺎﻟﺰﻧﺠﻲ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺍﻟﺰﺑﻴﺮ ﻋﻦ ﺟﺎﺑﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ، ﻗﺎﻝ : ﺳﺄﻟﺖ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻦ ﻣﻴﻼﺩ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ، ﻓﻘﺎﻝ : ‏« ﻟﻘﺪ ﺳﺄﻟﺘﻨﻲ ﻋﻦ ﺧﻴﺮ ﻣﻮﻟﻮﺩ ﻭُﻟِﺪَ ﻓﻲ ﺷﺒﻪ ﺍﻟﻤﺴﻴﺢ ، ﺇﻥّ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﺒﺎﺭﻙ ﻭﺗﻌﺎﻟﻰ ﺧﻠﻖ ﻋﻠﻴﺎً ﻣﻦ ﻧﻮﺭﻱ ﻭﺧﻠﻘﻨﻲ ﻣﻦ ﻧﻮﺭﻩ ﻭﻛﻼﻧﺎ ﻣﻦ ﻧﻮﺭ ﻭﺍﺣﺪ، ﺛﻢ ﺇﻥّ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ ﻧﻘﻠﻨﺎ ﻣﻦ ﺻُﻠﺐ ﺁﺩﻡ ﻓﻲ ﺃﺻﻼﺏ ﻃﺎﻫﺮﺓ ﺇﻟﻰ ﺃﺭﺣﺎﻡ ﺯﻛﻴﺔ ﻓﻤﺎ ﻧﻘﻠﺖ ﻣﻦ ﺻﻠﺐ ﺇﻻ ﻭﻧُﻘِﻞَ ﻋﻠﻲٌ ﻣﻌﻲ ﻓﻠﻢ ﻧﺰﻝ ﻛﺬﻟﻚ ﺣﺘﻰ ﺍﺳﺘﻮﺩﻋﻨﻲ ﺧﻴﺮَ ﺭﺣﻢ ٍﻭﻫﻲ ﺁﻣﻨﺔ، ﻭﺍﺳﺘﻮﺩﻉ ﻋﻠﻴﺎً ﺧﻴﺮَ ﺭﺣﻢ ٍﻭﻫﻲ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﺑﻨﺖ ﺃﺳﺪ، ﻭﻛﺎﻥ ﻓﻲ ﺯﻣﺎﻧﻨﺎ ﺭﺟﻞ ﺯﺍﻫﺪ ﻋﺎﺑﺪ ﻳﻘﺎﻝ ﻟﻪ ﺍﻟﻤﺒﺮﻡ ﺑﻦ ﺩﻋﻴﺐ ﺑﻦ ﺍﻟﺸﻘﺒﺎﻥ ﻗﺪ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻣﺄﺗﻴﻦ ﻭﺳﺒﻌﻴﻦ ﺳﻨﺔ، ﻟﻢ ﻳﺴﺄﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺣﺎﺟﺔ ﻓﺒﻌﺚ ﺍﻟﻠﻪ ﺇﻟﻴﻪ ﺃﺑﺎ ﻃﺎﻟﺐ، ﻓﻠﻤﺎ ﺃﺑﺼﺮﻩ ﺍﻟﻤﺒﺮﻡ ﻗﺎﻡ ﺇﻟﻴﻪ، ﻭﻗَﺒَّﻞَ ﺭﺃﺳﻪ ﻭﺃﺟﻠﺲ ﺑﻴﻦ ﻳﺪﻳﻪ، ﺛﻢ ﻗﺎﻝ ﻟﻪ : ﻣﻦ ﺃﻧﺖ؟ ﻓﻘﺎﻝ : ﺭﺟﻞٌ ﻣﻦ ﺗﻬﺎﻣﺔ، ﻓﻘﺎﻝ : ﻣﻦ ﺃﻱ ﺗﻬﺎﻣﺔ؟ ﻓﻘﺎﻝ : ﻣﻦ ﺑﻨﻲ ﻫﺎﺷﻢ، ﻓﻮﺛﺐ ﺍﻟﻌﺎﺑﺪ ﻓﻘﺒَّﻞ ﺭﺃﺳﻪ ﺛﺎﻧﻴﺔ، ﺛﻢ ﻗﺎﻝ : ﻳﺎ ﻫﺬﺍ ﺇﻥّ ﺍﻟﻌﻠﻲ ﺍﻷﻋﻠﻰ ﺃﻟﻬﻤﻨﻲ ﺇﻟﻬﺎﻣﺎً، ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﻃﺎﻟﺐ : ﻭﻣﺎ ﻫﻮ؟ ﻗﺎﻝ : ﻭﻟﺪ ﻳﻮﻟﺪ ﻣﻦ ﻇﻬﺮﻙ ﻭﻫﻮ ﻭﻟﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ، ﻓﻠﻤﺎ ﻛﺎﻧﺖ ﺍﻟﻠﻴﻠﺔ ﺍﻟﺘﻲ ﻭُﻟِﺪَ ﻓﻴﻬﺎ ﻋﻠﻲٌ ﺃﺷﺮﻗﺖ ﺍﻷﺭﺽ، ﻓﺨﺮﺝ ﺃﺑﻮ ﻃﺎﻟﺐ، ﻭﻫﻮ ﻳﻘﻮﻝ : ﺃﻳﻬﺎ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﻭُﻟِﺪَ ﻓﻲ ﺍﻟﻜﻌﺒﺔ ﻭﻟﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ، ﻓﻠﻤﺎ ﺃﺻﺒﺢ ﺩﺧﻞ ﺍﻟﻜﻌﺒﺔ.

 

📃 حضرت جابر بن عبدالله علیہما الرحمہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے امیرالمومنین علیہ السلام کی ولادت کے متعلق سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا بے شک تم نے بہترین مولود کے متعلق مجھ سے پوچھا ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح پیدا ہوئے، اللہ سبحانہ تعالی نے علی کو میرے نور سے اور مجھ کو اس کے نور سے اور ہم دونوں کو ایک ہی نور سے خلق کیا اس کے بعد اللہ سبحانہ تعالی نے ہم کو آدم علیہ السلام کی صلب سے طیب و طاہر صلبوں میں اور پاکیزہ رحموں میں منتقل کیا پس میں کسی صلب میں منتقل نہیں ہوا مگر یہ کہ علی (علیہ السلام ) میرے ساتھ تھے پس یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ میں بہترین رحم میں منتقل ہوا اور وہ آمنہ (علیہا السلام ) تھیں اور علی (علیہ السلام ) بھی بہترین رحم میں منتقل ہوئے اور وہ فاطمہ بنت اسد (علیہما السلام )تھیں اور ہمارے زمانے میں ایک زاہد و عابد شخص تھا جس کو مبرم بن دعیب بن شقبان کہا جاتا تھا اس نے اللہ سبحانہ تعالی کی عبادت 270 سال تک کی اور اللہ سے کسی چیز کا سوال نہیں کیا پس اللہ سبحانہ تعالی نے اس کی طرف ابو طالب (علیہ السلام )کو بھیجا پس جیسے ہی مبرم کی نظر ان ان پر گی (ان کے احترام میں) اٹھا اور ان کی طرف بڑھ کر سر کا بوسہ لیا اور ان کو اپنے سامنے بیٹھایا پھر ان سے پوچھا آپ کون ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ تہامہ کا ایک آدمی پھر اس نے پوچھا کون سے تہامہ سے فرمایا بنی ہاشم سے، پس پھر عابد نے دوبارہ آپ کے سر کو چوما اور کہا اے شخص بلند و بالا (اللہ سبحانہ تعالی ) نے مجھے الہام کیا ہے ابو طالب (علیہ السلام )نے فرمایا کیسا الہام ،کہا تمہاری پشت سے ایک بیٹا ہوگا تو وہ اللہ عزوجل کا ولی ہوگا، پس جس رات علی (علیہ السلام )کی ولادت ہوئی تو تو زمین نورانی ہو گئ، پس ابوطالب (علیہ السلام ) نکلے اور کہا اے لوگوں کعبے میں اللہ کا ولی پیدا ہو گیا، اور جب صبح ہوئی تو کعبہ میں داخل ہوئے۔

 

📚 الکفایہ الطالب ص406 حدیث 1088

 

#بدر_علی 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6