صحیح سند روایت 1
صحیح سند روایت 1

🔴 حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب ع کی ولادت فی الکعبہ پر صحیح السند روایت

 

▪️ اہلسنت جلیل القدر امام متوفی 334 ہجری صاحب تاریخ موصل نے صحیح السند روایت نقل کی ہے علی ع کے ولادت کعبہ پر

 

📜 حدثنا الهيثم بن عمران قال : حدثنى جدى قال : استخلف يزيد ابن الوليد ستة أشهر ثم مات بالخضراء بدمشق ودفن بباب الصغير (٥) ، وكان عمره اثنتين (1) وثلاثين سنة ، وكان ولد في الكعبة (1) ولم يولد فيها خليفة غير أمير المؤمنين على بن أبي طالب عليه السلام

 

📃 روایت کی کہ یزید بن ولید چھ ماہ تک خلیفہ رہا، پھر دمشق میں خضراء کے مقام پر وفات پا گیا اور باب الصغیر میں دفن کیا گیا۔ اس کی عمر بتیس سال تھی، اور وہ کعبہ میں پیدا ہوا تھا۔

اور امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے سوا کوئی بھی خلیفہ کعبہ میں پیدا نہیں ہوا۔

 

📚 تاریخ موصل

 

ذرا درست طریقے سے روایت سمجھیں 👇

جو عربی متن دیا ہے اس میں دو باتیں آئی ہیں:

 

1️⃣ پہلے یزید بن ولید کے بارے میں کہا گیا:

 

📜وكان ولد في الكعبة

📃(اور وہ کعبہ میں پیدا ہوا تھا)

 

2️⃣ فوراً اس کے بعد قاطع اور حتمی جملہ آتا ہے:

 

📜 ولم يولد فيها خليفة غير أمير المؤمنين علي بن أبي طالب عليه السلام

👈 (اور امیرالمومنین علی بن ابی طالبؑ کے سوا کوئی خلیفہ کعبہ میں پیدا نہیں ہوا)

 

🔍 اصل نکتہ

یہاں دوسرا جملہ پہلے جملے کی صریح تردید (correction) ہے، 

 

یعنی:

 

راوی یا ناقل نے پہلے ایک بات نقل کی

پھر فوراً اصولی و قطعی بات بیان کر دی کہ

کعبہ میں ولادت صرف اور صرف امیرالمومنین علیؑ کے ساتھ خاص ہے

 

اسی لیے اہلِ علم کہتے ہیں کہ:

یزید بن ولید کے بارے میں “کعبہ میں ولادت” والا جملہ

وہم، غلطی یا غیر معتبر نقل ہے

اور خود مصنف/راوی نے اسے اگلے جملے میں رد کر دیا

 

✅ حتمی نتیجہ

 

✔️ کعبہ میں ولادت ایک منفرد فضیلت ہے جو صرف امیرالمومنین علیؑ کو حاصل ہے

✔️ علیؑ کے علاوہ کسی خلیفہ بلکہ کسی شخصیت کی کعبہ میں ولادت ثابت نہیں

✔️ اسی لیے علماء (شیعہ و سنی) اسے خصوصیتِ علیؑ کہتے ہیں

 

⭕ صاحب کتاب کے بارے میرے علامہ ذہبی لکھتے ہیں

 

📜 الأزدي الحافظ القاضي الإمام أبو زكريا يزيد بن محمد بن إياس الأزدي الموصلي صاحب تاريخ الموصل وقاضيها

الاذی الحافظ القاضی الامام ابو زکریا یزید بن محمد بن ایاس الازدی الموصلی صاحب تاریخ موصل اور قاضی تھے

 

📚 (تذکرہ الحفاظ ج3ص74 الرقم 862 دوسرے نسخہ کے مطابق ص893)

 

⭕ اب ہم آتے سند کی طرف 

 

1⃣ اسکی سند میں پہلا راوی

 

▪️عیسی بن فیروز ابو موسیٰ الانباری

 

اس کا شمار حنبلی علما میں ہوتا ہے جسیاکہ ابو یعلیٰ نے اسے احمد بن حنبل کے شاگردوں میں شمار کیا ہے لکھتے ہیں

عِيسَى بْن فيروز الأنباري أَبُو مُوسَى سمع من إمامنا أشياء

 

📚 (طبقات الحنابلہ ص 248)

 

2⃣ دوسرا راوی

 

▪️محمد بن وہب بن عطیہ السلمی

 

اسکے بارے علامہ ذہبی لکھتے ہیں۔

📜 مُحَمَّدُ بنُ وَهْبِ بنِ عَطِيَّةَ السُّلَمِيُّ * (خَ، ق)

الإِمَامُ، المُفْتِي، أَبُو عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيُّ، الدِّمَشْقِيُّ.

حَدَّثَ عَنْهُ: بَقِيَّةُ بنُ الوَلِيْدِ، وَمُحَمَّدُ بنُ حَرْبٍ، وَالوَلِيْدُ، وَعِرَاكُ بنُ خَالِدٍ.

وَعَنْهُ: الذُّهْلِيُّ، وَأَبُو حَاتِمٍ، وَالرَّمَادِيُّ، وَعُبَيْدُ بنُ شَرِيْكٍ، وَعَلِيُّ بنُ مُحَمَّدٍ الجَكَّانِيُّ.

وَثَّقَهُ: الدَّارَقُطْنِيُّ

وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: صَالِحُ الحَدِيْثِ

یہ امام ہیں مفتی ہیں پھر فرماتے ہیں اسکو دار قطنی نے ثقہ کہا ہے اور ابو حاتم نے صالح الحدیث کہا ہے

 

📚 (سیر اعلام النبلا ج10ص669 الرقم246)

 

3⃣ تیسرا راوی

 

▪️ہیثم بن عمران بن عبد اللہ جرول

 

📜 اسکا ذکر ابن ابی حاتم نے بغیر جرح و تعدیل کے کیا ہے

 

📚 (الجرح والتعدیل ج9ص،82الرقم 335)

 

ابن حبان اسے ثقات میں میں شمار کیا ہے

 

📚 (الثقات ابن حبان ج7ص577 الرقم11553)

 

4⃣ چوتھا راوی

 

▪️ عبد اللہ بن جرول العنسی دمشقی تابعی ہے

 

ابن حبان نے اسکا شمار ثقات میں کیا ہے

 

📚 (الثقات ج5ص63الرقم 3864)

 

خطیب نے اسے شام کے افضل ترین لوگوں میں شمار کیا ہے

وعبد الله بن أبي عبد الله العنسي

من أفاضل أهل دمشق

 

📚 (المتفق والمتفرق ج3ص1427 الرقم 724)

 

ابن عساکر نے اس امر کی تصریح کی ہے اس نے ضحاک بن قیس تابعی سے سماع کیا ہے

 

عبد الله بن جرول وهو ابن أبي عبد الله العبسي جد الهيثم بن عمران سمع الضحاك بن قيس الفهري على منبر دمشق

 

📚 (تاریخ مدینہ دمشق ج27ص244الرقم 3219)

.

✅ اس روایت کی سند کے تمام روات ثقہ ہیں

.

 

❌ (اعتراض)

یہ اشکال ہوسکتا ہے عبداللہ بن جرول تابعی ہے اس نے ولادت امیر المومنین ع کے وقت کو درک نہیں کیا ؟

 

✅ (الجواب)

تابعی کی مرسل جمہور کے نزدیک حجت ہے جیساکہ ملا علی القاری نے متعدد مقامات پر لکھتے ہیں

مُرْسَلِ التَّابِعِيِّ، فَإِنَّهُ حُجَّةٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ

 

متعدد حوالہ جات ملاحظہ کریں

 

📚 (1)مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ج5ص1973؛الرقم29 45 کے ذیل میں

📚 (2)مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ج7ص2740 الرقم4255 کے ذیل میں

📚 (3)مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ج8ص3284 الرقم5247 کے ذیل میں

📚 (4)مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ج4ص1489 الرقم2174

📚 (5)مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ج8ص3143 الرقم5020 کے ذیل میں

.

❌ (اعتراض)

یہ راوی عبد اللہ بن جرول اہل شام سے یے آیا کسی نے محدث نے اہل شام کی مراسیل سے استدلال کیا ہے

 

✅ (الجواب)

جی امام اوزاعی کے بارے میں ذہبی لکھتے ہیں یہ اہل شام کی مراسیل سے استدلال کرتے تھے

قُلْتُ: يُرِيْدُ: أَنَّ الأَوْزَاعِيَّ حَدِيْثُه ضَعِيْفٌ مِنْ كَوْنِهِ يَحتَجُّ بِالمَقَاطِيْعِ، وَبِمَرَاسِيْلِ أَهْلِ الشَّامِ

 

📚 (سیر اعلام النبلا ج7ص114 الرقم 48 )

.

❌ (اعتراض)

ہمارے جید محدثین تابعی کی مراسیل کو نہیں مانتے تھے

 

✅ (الجواب )

حافظ ابن رجب حنبلی کہتے ہیں مرسل روایت سے دلیل پکڑتے ہیں

امام ابوحنیفہ اور انکے اصحاب امام مالک اور انکے اصحاب امام شافعی اور انکے اصحاب امام احمد اور انکے اصحاب

 

📚 (المراسیل مع الاسانید امام سجستانی ص39)

 

🖋 منقول

 

#بدر_علی 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2