علیؑ مولود کعبہ
1⃣ جوینی، شافعی مسلک کے اہلِ سنت علماء میں سے ہیں، وہ حضرت علی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں یوں لکھتے ہیں:
📜 روایت ہے کہ جب ان کی ولادت کا وقت آیا اور دردِ زہ شدت اختیار کر گیا تو ابو طالب نے رات کے آغاز میں انہیں کعبہ کے اندر داخل کیا، اور علی علیہ السلام اسی گھر میں پیدا ہوئے۔ اور کہا گیا ہے کہ علی کے سوا کوئی بھی شخص کعبہ کے اندر پیدا نہیں ہوا۔
📚فرائد السمطین، جلد 1، صفحات 425–426
2⃣ بسنوی بھی اپنی کتاب محاضرات الاوائل میں حضرت کے بعض القاب اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی کعبہ میں ولادت کے بارے میں یوں لکھتے ہیں:
📜 سب سے پہلے صحابی جنہیں بچپن میں ہی “شیر” کا لقب دیا گیا، ہمارے سردار علی بن ابی طالب ہیں، جن کا نام حیدر رکھا گیا — اور یہ شیر کے ناموں میں سے ہے۔ ان کے والدین ان کی ولادت کے وقت موجود نہ تھے جب وہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے، اور ان کی والدہ فاطمہ بنتِ اسد تھیں۔ انہوں نے تفأل کے طور پر اپنے والد کے نام (اسد) پر ان کا نام رکھا۔ حضرت علی علیہ السلام بنی ہاشم کے بزرگوں میں سے تھے، اور فاطمہ بنتِ اسد پہلی ہاشمی خاتون تھیں جنہوں نے ایک ہاشمی فرزند کو جنم دیا۔ حضرت علی علیہ السلام نسب کے اعتبار سے خلفاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے سب سے زیادہ قریبی تھے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے چچا زاد بھائی اور آپؐ کی سب سے افضل بیٹی کے شوہر تھے۔
📚محاضرة الاوائل و مسامرة الاواخر، ص 79
3⃣ مؤمن بن حسن شبلنجی شافعی بھی نور الابصار میں یوں لکھتے ہیں:
📜 وہ [حضرت علی علیہ السلام] قولِ مشہور کے مطابق، خانۂ کعبہ کے اندر، جمعہ کے دن تیرہ رجب، عامِ فیل کے تیسویں سال، ہجرت سے تیئیس سال قبل پیدا ہوئے۔
📚نور الابصار، ص 158
4⃣ خواجہ نصر اللہ ہندی بھی حضرت علی علیہ السلام کی کعبہ میں ولادت پر صراحت کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں:
📜 ہمارے نزدیک (اہلِ سنت کے ہاں) امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں مشہور بات یہ ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں اہلِ عرب کی عادت تھی کہ پندرہ رجب کے دن کعبہ کا دروازہ کھولا جاتا تھا اور لوگ زیارت کے لیے اندر داخل ہوتے تھے۔ فاطمہ بنتِ اسد بھی انہی میں شامل تھیں، اور اسی دن ان کے ہاں ولادت ہوئی …
📚السیوف المشرقة و مختصر الصواعق المحرقة، ص 204
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen