Back to آگ دارِ بتول سلام اللہ علیہا پر

اہل سنت محدث جناب زھراء ص کے گھر کو سازش گاہ اور فتنے کا مرکز کہنا

اہل سنت محدث جناب زھراء ص کے گھر کو سازش گاہ اور فتنے کا مرکز کہنا
اہل سنت محدث جناب زھراء ص کے گھر کو سازش گاہ اور فتنے کا مرکز کہنا
اہل سنت محدث جناب زھراء ص کے گھر کو سازش گاہ اور فتنے کا مرکز کہنا
اہل سنت محدث جناب زھراء ص کے گھر کو سازش گاہ اور فتنے کا مرکز کہنا
اہل سنت محدث جناب زھراء ص کے گھر کو سازش گاہ اور فتنے کا مرکز کہنا
اہل سنت محدث جناب زھراء ص کے گھر کو سازش گاہ اور فتنے کا مرکز کہنا
اہل سنت محدث جناب زھراء ص کے گھر کو سازش گاہ اور فتنے کا مرکز کہنا
اہل سنت محدث جناب زھراء ص کے گھر کو سازش گاہ اور فتنے کا مرکز کہنا
اہل سنت محدث جناب زھراء ص کے گھر کو سازش گاہ اور فتنے کا مرکز کہنا
اہل سنت محدث دہلوی حضرت عمر کے سیدہ فاطمہ ع کے گھر کو جلانے کی دھمکی دینے کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
.
? تو ایسے فتنہ و فساد جس سے پوری ملت اسلامیہ کے متاثر اور خونچکاں ہونے کا خطرہ ہو ، اور دین اسلام ملیا میٹ کرنے کا سامان ہو ، تو ایسی سازش گاہ کو جلانے کی دھمکی دینا کیوں جائز نہ ہو!
پھر لکھتا ہے کہ
? وہ مکام جہاں فتنہ انگیز تدبیر سوچی جا رہی ہوں ، حاضرین سمیت جلانے کی دھمکی دیں تو اس میں گناہ کی کیا بات ہے
? تحفہ اثناء عشریہ صفحہ 570
?? نوٹ: یاد رہے کہ یہ محدث صاحب جناب زھراء ص کے گھر کو سازش گاہ اور فتنے کا مرکز کہہ رہا ہے۔
.
اور پاکستان میں وہابیوں کے سب سے بڑے شیخ الحدیث غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری مصنف ابن أبي شيبة کی روایت جس میں عمر بن خطاب بیت سیدہ فاطمہ ع کو جلانے کی دھمکی دیتا ہے اس روایت کی سند کو صحیح قرار دے کر عمر کی اس فعل کی یہ توجیہ پیش کرتا ہے کہ
? عمر بن خطاب کا یہ اقدام اجتہادی اور جذباتی تھا دراصل عمر یہ خیال کرتے تھے کہ "لوگوں کی اکٹھ کسی پریشانی کا پیش خیمہ ثابت نہ ہو"
? ماہنامہ جہلم السنة شمارہ نمبر 15 صفحہ 19
کیا اہلسنت اس بات پر اپنے ممدوح کی مزمت میں دو حرف کہ سکتے ھیں؟
جو دھمکی والی بات کو ھی اہمیت نہیں دیتے۔ وہ احراق بیت والی بات کیسے تسلیم کرسکتے ھیں؟
.
۱) شاہ عبدالعزیز دہلوی ( علیہ ما علیہ ) لکھتا ہے
هر گاه بر ترک جماعت که از سنن موکده است و فایده آن عاید بنفس مکلف است فقط و هیچ ضرری از ترک آن به مسلمین نمیرسد پیغمبر صلی الله علیه وسلم تهدید فرموده باشد باحراق بیوت در این قسم مفسده که شراره های آن تمام مسلمین بلکه تمام دین را برسد چرا تهدید باحراق بیوت جایز نباشد
جب رسول ص نے ترک نماز با جماعت پر جو سنت موکدہ ہے اور جسکا فائدہ عام مسلمانوں کو نہیں اسکے ترک کرنے پر ترک کرنے والوں کو انکے گھر جلا - نے کی تہدید فرمائی تو پھر ایسے فسا - د ( کہ جو حضرت علی ع کے گھر میں ہورہا تھا ) جس سے پوری ملت اسلامیہ کے متاثر ہونے کا خطرہ اور دین کو ملیا میٹ کرنے کا سامان ہو تو ایسی سازش گاہ ( یعنی سیدہ فاطمہ ع کے گھر ) کو جلا -- نے کی دھمکی کیوں جائز نہیں ہوسکتی ؟
? تحفہ اثناء عشریہ - صفحہ 570
 
2) قاضی عبدالجبار (معتزلی، شافعی مکتب کے عالم): حضرت فاطمہ (س) کے گھر کو جلانے کی دھمکی عمر بن الخطاب کا حق ہے اور اس میں کوئی مسئلہ نہیں!
 
 قاضی عبدالجبار بن احمد المعتزلی (وفات 415 ہجری) معتزلی مکتب کے نمایاں عالم تھے، جنہوں نے اہل بیت (علیہم السلام) کے عقائد خصوصاً امامت کے خلاف سخت رویہ اپنایا۔
 
انہوں نے اپنی کتاب المغنی میں لکھا:
 
📜 وأما ما ذكره من حديث عمر فی باب الإحراق، فلو صح لم یکن طعنا على عمر لأن له أن یهدد من امتنع من المبایعة، إرادة للخلاف على المسلمین ...
 
📃 ترجمہ: اور جہاں تک عمر کے گھر جلانے کے بارے میں حدیث ہے، اگر یہ صحیح بھی ہو، تو یہ عمر پر کوئی عیب نہیں کیونکہ اس کا حق ہے کہ وہ ان لوگوں کو دھمکی دے جو بیعت کرنے سے انکار کریں، تاکہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف نہ پیدا ہو۔
 
📚 المغنی فی أبواب التوحید والعدل (الإمامة)، ج20، ص337، تحقیق: الدکتور محمود محمد قاسم.
 

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9