🔴 نوروز : شیعہ کے نامور فقہاء کے نزدیک
1️⃣ ابن فہد حلی (رحمہ اللہ):
📜 يوم النوروز يوم جليل القدر.
📃روز عید نوروز، روز جليل القدر ہے۔
📚 المهذب البارع لابن فہد الحلی، جلد 1، صفحہ 190
2️⃣ علامہ حلی (رحمہ اللہ):
📜ويستحب الغسل ليلة الفطر... ويوم النيروز للفرس
📃غسل شب عید فطر... اور نوروز کے دن کے لیے (فرس کے لیے) مستحب ہے۔
📚 منتهى المطلب، جلد 1، صفحہ 130
3️⃣ شیخ انصاری (رحمہ اللہ):
📜 لكن المتعارف عليه الآن أن النيروز أول يوم من فروردين أول السنة الشمسية الموافق للواحد و العشرين من آذار.
📃 نوروز ابھی جو رائج ہے وہ فروردین کا پہلا دن ہے جو شمسی سال کا آغاز ہے اور 21 مارچ کے مطابق ہے۔
📜 و اختاره المجلسي في بحاره و العلامة رضي الدين القزويني صاحب الخواص.
📃 اسے علامہ مجلسی (بحار الانوار میں) اور علامہ رضی الدین قزوینی (صاحب الخواص) نے اختیار کیا ہے۔
📚 کتاب الطهارة (طبع قدیم) للشیخ الانصاری، جلد 2، صفحہ 328
4️⃣ حضرت آیت اللہ العظمی خوئی (رحمہ اللہ)
مرحوم حضرت آیت اللہ العظمی خوئی (رحمہ اللہ) سے پوچھا گیا:
❓نوروز کے بعض اعمال کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
فرمایا:
📜 لا بأس بالإتيان بالأعمال المذكورة رجاءً
📃 اگر کوئی شخص رجاءً (اللہ کی امید پر) نوروز کے یہ اعمال کرے تو کوئی اشکال نہیں۔
📚 صراط النجاة للمیرزا جواد التبريزي، جلد 2، صفحہ 426
5️⃣ حضرت آیت اللہ العظمی سیستانی (حفظه اللہ تعالی)
حضرت آیت اللہ العظمی سیستانی (حفظه اللہ تعالی) سے پوچھا گیا:
❓کیا نوروز کو عید سمجھنا دین میں بدعت شمار ہوتا ہے؟
آیا عید نوروز کو معتبر جاننا بدعت فی الدین ہے؟
فرمایا:
📜لا يعد بدعة.
📃نہیں، بدعت نہیں ہے۔
📚 استفتاءات للسيد السيستاني، صفحہ 413
6️⃣ صاحب جواہر (رحمہ اللہ)
▪️مرحوم صاحب جواہر (رحمہ اللہ) جو شیعہ فقہ کے ستونوں میں سے ہیں، فرماتے ہیں:
📜و أما غسل يوم النيروز فعلى المشهور بين المتأخرين بل لم أعثر على مخالف فيه.
📃 غسل یوم النیروز (نوروز کے دن کا غسل) متأخرین کے درمیان مشہور ہے بلکہ میں نے اس میں کسی مخالف کا پتہ نہیں پایا۔
📃غسل روز عید نوروز مستحب ہے اور یہ متأخرین کے درمیان مشہور ہے، بلکہ اس کا کوئی مخالف بھی نہیں ملا۔
📚 جواهر الكلام في شرح شرائع الاسلام للشیخ الجواهري، جلد 5، صفحہ 41
بدر علی
Invisibleislam.com
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Gallery
Tap any image to view full screen