*عیدِ زہرا سلام اللہ علیہا کس عنوان سے منائی جائے؟*
قارئینِ کرام!
سب سے پہلے اس پُر مسرت موقع پر تمام احباب کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہم اس عید کے متعلق چند علمی نکات آپ کی خدمت میں رکھ رہے ہیں۔ امکان ہے کہ کچھ باتیں آپ کے لیے بالکل نئی ہوں، لیکن امید ہے کہ آپ سب چیزوں کو علمی و عقلی زاویے سے دیکھیں گے۔
اہلِ علم حضرات سے بھی گزارش ہے کہ اگر کہیں ہمیں خطا پر پائیں تو ضرور اصلاح فرمائیں۔
ایک شیعہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر عمل میں اپنے اَئمہ ہدی علیہم السلام کی احادیث کو سامنے رکھ کر عمل کرے۔ اسی روش پر ہم بھی یہ کوشش کریں گے کہ اس عید کے بارے میں یہ واضح کریں کہ ہمارے اَئمہ ہدی علیہم السلام نے اس کے بارے میں کیا فرمایا ہے۔
اس عید کے حوالے سے جو نظریات پائے جاتے ہیں اور جن بنیادوں پر عید منائی جاتی ہے، وہ درج ذیل ہیں:
عید منانے کے مختلف نظریات
۱: اس دن عمر بن سعد، عبیداللہ بن زیاد اور حرملہ لعنھم اللہ وغیرہ کا حضرتِ مختار کے ہاتھوں قتل ہونا۔
۲: یہ دن امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی امامت کا پہلا دن ہے۔
۳: اہلِ بیت علیہم السلام کا غم اس دن ختم ہوا اور ان کے سامنے دشمنانِ شہدائے کربلا علیہم السلام کے سروں کو پیش کیا گیا۔
۴: ایک منحرفِ خدا و اہلبیت علیہم السلام کے مرنے کا دن ہے۔
ہمارا مؤقف
ہمارے نزدیک پہلی تین وجوہات غیر ثابت ہیں، کیونکہ ان کا اَئمہ ہدیؑ کی احادیث میں کوئی ثبوت موجود نہیں۔ بلکہ بعض باتیں تو عقل کے بھی خلاف معلوم ہوتی ہیں۔
(اگر کسی اہلِ علم کے پاس ان کے بارے میں کوئی معتبر حدیث ہو تو ضرور مطلع کریں تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہو سکے۔)
وجہ اول
پہلی وجہ اس لیے درست نہیں کہ:
اولاً: ہمیں اس کا کوئی ثبوت اَئمہ ہدیٰ علیہم السلام کی احادیث میں نہیں ملتا۔
ثانیاً: حضرتِ مختار کا قیام ۱۴ ربیع الاول کو ہوا تھا، اور انتقام بعد میں لیا گیا۔ جیسا کہ محمد بن یعقوب مسکویہ
اپنی کتاب میں "خروج المختار" کے ذیل میں لکھتے ہیں:
"أن يخرجوا ليلة الخميس لأربع عشرة من ربيع الأول [١٨٧] سنة ستّ وستين، ووطّن على ذلك شيعتهم ومن أجابهم."
وہ (حضرتِ مختار) ۱۴ ربیع الاول ۶۶ ہجری کو جمعرات کی رات نکلے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں اور حامیوں کو اس کے لیے تیار کر لیا۔
حوالہ: تجارب الامم، جلد ۲، ص ۱۴۷، طبع دار سروش
چونکہ حضرت مختار کا قیام ۱۴ ربیع الاول کو ہوا تھا اور قیام و انتقام میں کافی دن لگ گئے تھے، لہٰذا یہ بات تاریخی اعتبار سے بھی درست نہیں کہ اس دن کو ۹ ربیع الاول کو عید کے طور پر منایا جائے۔ اگر اس بنیاد پر عید منائی جائے تو اسے ربیع الثانی کے بعد ہونا چاہیے، نہ کہ ۹ ربیع الاول کو۔
وجہ دوم
یہ نظریہ انتہائی خطرناک، غیر علمی اور خلافِ عقل ہے:
۱: اگر امام عصرؑ کی امامت کے پہلے دن خوشی منانا ضروری ہو تو پھر ہمیں تمام اَئمہ ہدی علیہم السلام کی امامت کے پہلے دن بھی عید منانی چاہیے، جبکہ ایسا کوئی شیعہ نہیں کرتا۔
۲: اگر امام عصرؑ کی امامت کا پہلا دن عید کے طور پر مناتے ہیں تو پہلا دن ۸ ربیع الاول ہوگا، نہ کہ ۹ ربیع الاول، کیونکہ شیعہ مسلمات میں سے ہے اور احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے کہ امامت اسی لمحے شروع ہوگئی تھی جب امام حسن عسکریؑ کی شہادت ہوئی۔ زمین ایک لمحے کے لیے بھی حجتِ خدا کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی، جیسا کہ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَخْلُو إِلَّا وَ فِيهَا إِمَامٌ كَيْمَا
زمین حجتِ خدا سے خالی نہیں رہتی، اس میں ضرور ایک امام موجود ہوتا ہے۔
حوالہ: الکافی، کتاب الحجة
لہٰذا یہ تصور قائم کرنا کہ امام عصرؑ دوسرے دن یعنی ۹ ربیع الاول کو امام بنے، شیعہ مسلمات اور احادیثِ صریحہ کے خلاف ہے۔
۳: امام حسن عسکریؑ کی شہادت ۸ ربیع الاول کو فجر کے قریب ہوئی، جیسا کہ شیخ عباس قمیؒ نے سیرتِ معصومینؑ میں ذکر کیا ہے، اور چونکہ دن کی ابتدا فجر سے ہوتی ہے، لہٰذا امام عصرؑ کی امامت کا پہلا دن ۸ ربیع الاول ہی ہوگا، نہ کہ ۹ ربیع الاول۔
وجہ سوم
اس بات کا کوئی ثبوت کتبِ احادیث میں نہیں ملتا کہ اَئمہ ہدیؑ نے کربلا کے غم کے خاتمے کے عنوان سے اس عید کو منایا ہو۔ اگرچہ بعض علماء نے اس وجہ کو بیان کیا ہے، مگر انہوں نے اس سلسلے میں کسی معتبر حدیث کا حوالہ نہیں دیا۔
وجہ چہارم معتبر وجہ
ہمارے نزدیک سب سے معتبر وجہ یہ ہے کہ اس دن ایک منحرفِ خدا و اہلبیتؑ مرا تھا، اور احادیثِ اَئمہ ہدیؑ اور شیعہ محدثین و فقہاء کا عمل اسی پر رہا ہے۔
پہلی روایت
علامہ سلیمان بن محمد حلیؒ اپنی سند کے ساتھ ایک طویل روایت نقل کرتے ہیں۔ ہم اس کا خلاصہ پیش کرتے ہیں:
امام حسن عسکریؑ کے صحابی احمد بن اسحاقؒ کہتے ہیں:
الشیخ الفاضل علي بن مظاهر الواسطي عن محمد بن العلا الهمداني الواسطي ويحيى بن جريح البغدادي قال الخ۔۔
ہم امام حسن عسکریؑ کے گھر کے مہمان خانے میں بیٹھے تھے کہ امامؑ ہمارے پاس تشریف لائے۔ امامؑ نے گھر کے تمام خدام کو حکم دیا کہ جتنا ممکن ہو سکے نئے کپڑے پہن لیں۔ اس وقت امامؑ کے سامنے لوبان رکھا ہوا تھا، جس کی خوشبو سے محفل معطر تھی۔ ہم نے عرض کیا:
اے فرزندِ رسولؑ! کیا یہ اہلِ بیتؑ کے لیے نئی خوشی کا دن ہے؟
امامؑ نے فرمایا:
أَى يَومٍ أَعْظَمُ حُرْمَةٍ عِنْدَ أَهْلِ الْبِيْتِ مِنْ هَذَا الْيَوم ؟
"آج کے دن سے بڑھ کر اہلِ بیتؑ کے نزدیک عظیم حرمت والا دن بھلا کون سا ہے؟"
حوالہ: المحتضر، ص ۸۹ تا ۱۰۴، تحقیق سید علی اشرف؛ اردو ص ۱۷۳ تا ۱۹۲، طبع سبیلِ سکینہ پاکستان
محدثِ نوریؒ نے بھی یہ روایت مستدرک الوسائل (جلد ۲، ص ۵۲۲، طبع موسسہ آل البیتؑ) میں نقل کی ہے۔
شیخُ الفقہاء علامہ شیخ محسن نجفیؒ اسی روایت کے بعد لکھتے ہیں:
قلت : لكن المعروف الآن بين الشيعة انما هو يوم تاسع ربيع
"میں (مصنف) کہتا ہوں: شیعوں میں مشہور یہی ہے کہ یہ (مرگِ فلاں) ۹ ربیع الاول کا دن ہے۔"
حوالہ: جواہر الکلام، جلد ۵، ص ۷۴
دوسری روایت
سید ابنِ طاووسؒ نے ایک اور روایت شیخ صدوقؒ سے نقل کی ہے، اگرچہ حوالہ ذکر نہیں کیا۔ وہ لکھتے ہیں:
اعلم أن هذا اليوم وجدنا فيه رواية عظيم الشأن [عظيمة الشأن] و وجدنا جماعة من العجم و الإخوان يعظمون السرور فيه و يذكرون أنه يوم هلاك بعض من كان يهون بالله جل جلاله و رسوله ص و يعاديه...
جان لو کہ ہم نے اس دن (۹ ربیع الاول) کے بارے میں ایک عظیم الشان روایت پائی ہے، اور ہم نے عجمی بھائیوں کو دیکھا کہ وہ اس دن کو بڑی خوشی کے ساتھ مناتے ہیں اور ذکر کرتے ہیں کہ یہ وہ دن ہے جس میں ایسا شخص ہلاک ہوا جو اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرتا تھا اور ان سے دشمنی رکھتا تھا۔
تاہم، میں نے جو کتب دیکھی ہیں، ان میں ابھی تک کوئی ایسی تصدیق نہیں ملی جس پر میں اعتماد کر سکوں، سوائے اس روایت کے جو ہم نے ابن بابویہ (شیخ صدوقؒ) سے روایت کی ہے۔ اگر کوئی اس دن کو اس وجہ سے منانا چاہے کہ اس میں کوئی چھپی ہوئی مصلحت ہے جو ظاہر نہیں، تو یہ روایت کی احتیاط کے طور پر شمار کی جا سکتی ہے، اور یہی اہلِ دانش کا طریقہ ہے۔
حوالہ: اقبال الاعمال، ص ۷۶، باب: فی اعمال بقیة شھر ربیع الاول
خلاصہ کلام
ہمیں یہ عید اسی انداز سے منانی چاہیے جس طرح اَئمہ ہدی علیہم السلام نے منائی ہے۔ یہ عید ان عام عیدوں کی طرح نہیں منائی جا سکتی، بلکہ اس میں ہمیں چاہیے کہ:
مومنین ایک دوسرے سے ملاقات کریں،
نیا لباس زیبِ تن کریں،
اپنے بچوں کو بغضِ فلاں کی تعلیم دیں۔
نوٹ:
یہ تحریر ہمارے شفیق استاد مولانا جری حیدر زیدی (خیر طلب) کی ایک ویڈیو سے استفادہ کرتے ہوئے مرتب کی گئی ہے۔۔
Gallery
Tap any image to view full screen