*جواب*
.
کتاب شرح نہج البلاغہ جس کا مولف ابی الحدید ہے ، جو کہ معتزلی فرقہ سے تعلق رکھتا تھا جو اہل سنت فرقہ کی شاخ ہے۔
.
وقال العلامة الهمذانيُّ –رحمه الله تعالىٰ– :
“فاعلم أن المتقدمين من المعتزلة : ذهبوا إلى أن أفضل الناس بعد النبي ﷺ : أبو بكر ثمَّ عمر ثمَّ عثمان ثمَّ علي عليه السلام“
"متقدمین معتزلہ اس کے معتقد تھے کہ افضل الناس بعد النبی ابوبکر ہیں ، پھر عمر ، پھر عثمان پھر علی علیہ السلام"
.




جیسا کہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں

*ابن أبي الحديد المعتزلي اپنے عقائد کی روشنی میں*
.
.
قارئین کرام اھل سنت حضرات جہاں سے جواب نہیں دے پاتے ، اُس وقت کتاب یا مصنف کو جلدی سے شیعہ بنا دیتے ہیں
انہی میں ایک ابن أبي الحديد المعتزلي بھی ہے جن کو اکثر شیعہ کیا جاتا ہے
کیوں کہ
.
قارئین کرام
علامہ عبد الحميد بن هبة الله بن محمد بن الحسين المعروف بابن أبي الحديد کے چند عقائد آپ کے پیش کرتے ہیں
*سب سے پہلے ہم ابن حدید کا عقائد خلافت ابوبکر کے بارے پیش کرتے ہیں*
.
امام ابن حدید اپنی شرح ابن حدید جلد اول میں خلافت ابوبکر کے بارے میں لکھتے ہیں

*تبصرہ*
جی جناب آپ نے اوپر ابن حدید کا عقیدہ پڑھا ہے جس نے اپنے بزرگان کی تائید سے خلافت ابوبکر کو صحیح اور شرعی کہا
اب تو یہ بات تو کسی سے مخفی نہیں ہے جو ابوبکر کی خلافت کو صحیح اور شرعی کہے وہ شیعہ نہیں بلکہ اھل سنت ہے تو پہر ابن حدید شیعہ کیوں؟
.
.
.
.
*قارئین پہلی بات* یہ عقیدہ صرف ابن حدید کا نہیں ہے بلکہ اکثر صحابہ اور تابعین کا ہے وہ علی علیہ السلام کو ابوبکر سمیت دیگر صحابہ پر مقدم رکھتے تھے
*دوسری بات* امام ابن حدید نے تفضیل مولا علی ع پر صحابه کے بارے دو گروہ کا ذکر کیا ہے
.
ابن حدید المعتزلی لکہتے ہیں
اس کے اگے ابن حدید لکھتے ہیں

*تبصرہ*
اب سوال پیدا ہوتا ہے اگر علی علیہ السلام کو ابوبکر پر فضلیت دینا شیعت ہے تو فقط امام ابن حدید شیعہ کیوں ہے دیگر کیوں نہیں ہے؟
اس کے بعد اس ہی جلد اول اور صفحہ نمبر۹ پر جنگ جمل والوں کیلئے لکھتے ہیں

*تبصرہ*
حالانکہ یہ عقدیدہ کسی شیعہ کا نہیں ہے
.
اس کے بعد لکھتا ہے کہ


*تبصرہ*
جی جناب امام مھدی علیہ السلام کے وجود کے بارے شیعہ علی علیہ السلام کے پاس تواتر کے ساتھ روایت موجود ہیں اور امام مھدی علیہ السلام کا غیبت کبری شیعہ مسلمات میں سے ہے
.
ابوبکر کی بیعت کے شرعی

*لھذا*
جو یہ عقیدہ رکھے کہ امام مھدی علیہ السلام پیدا ہوں گے وہ شیعہ نہیں بلکہ سنی ہے کیوں کے یہی عقیدہ اہل سنت والجماعت کا ہے
.
ابن ابی الحدید اپنی کتاب میں کہتا ہے کہ

ایک جگہ کہتا ہے کہ شیعہ دعوع کرتے ہیں
وأصحابنا لا ينكرون ذلك، ولكن يقولون: انها لم تكن وصيه بالخلافة،

بھلا کون سا انوکھا شیعہ ایسا ہے جو اس بات کا انکار کرے کہ حضرت علی ع واقعہ غدیر کے بعد مومنین کے امیر قرار نہیں پائے یا حضرت علی ع کو اپنا وصی بنانے سے مراد خلافت نہیں تھی
پھر ایک جگہ ابن ابی الحدید کہتا ہے کہ
.
ابن ابی الحدید عمر کی بھی تعریف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ
.
پھر ایک جگہ کہتے ہیں کہ
شرح نهج البلاغة - ابن أبي الحديد - ج ٣ - الصفحة ١٠٠
.
پھر ایک جگہ لکھتا ہے کہ
یہ الفاظ بتا رہے ہیں کہ وہ خود شیعہ نہیں تھا
.

Gallery
Tap any image to view full screen