ابو حسین الملطی العسقلانی جو قرن ۳ یا ۴ کے عالم ہیں، تصریح کرتے ہیں کہ امامیہ اس نکتہ کو مانتے تھے کہ نهم ربیع، روز قتل عمر ہے
✅ ابو حسین الملطی العسقلانی جو قرن ۳ یا ۴ کے عالم ہیں، تصریح کرتے ہیں کہ امامیہ اس نکتہ کو مانتے تھے کہ نهم ربیع، روز قتل عمر ہے۔ یہ عالم شیخ صدوق، ابن الولید، ابن بابویه قمی اور دیگر معاصر علماء کے زمانے میں قم میں مقیم تھے۔
🔹چہار دہم فرقہ امامیہ، قم کے باشندے ہیں۔ یہ لوگ سلف پر شدید طعن و تشنیع کرتے ہیں، یہاں تک کہ کسی فرد کے ہاتھ میں ایک چیز یا نمونہ (مثلاً گڑیا) آتا ہے، اس کا پیٹ کاه یا پنبه سے بھرتا ہے اور نام ابوبکر، عمر اور عثمان رکھتا ہے، پھر عصا سے مار کر اسے پھاڑ دیتے ہیں تاکہ اس عمل سے ان کے دل میں ایمان والوں کے لیے بغض کم ہو جائے۔
📚 ماخذ: التنبیه والرد علی أهل الأهواء والبدع: ابو حسین الملطی العسقلانی، صفحہ ۳۲
💡 لہذا اگر کوئی مغرض یہ کہے کہ اس سے قدیمتر سند موجود نہیں، تو یہ واضح ہو کہ یہ سند قرن ۴ کی ہے اور متعلقہ ہے۔
۔
❌ کچھ لوگوں نے اعتراض کیا کہ تاریخی سند آٹھویں صدی سے قدیم نہیں ہے کہ دوم کی موت نهم ربیع کو ہوئی، ہم کہتے ہیں کہ اس کا وجود واقعی ہے۔ عبدالجلیل قزوینی رازی، جو شیعہ علماء میں سے ہیں اور پانچویں صدی میں موجود تھے، نے عمر بن خطاب کی ہلاکت کے بارے میں لکھا:
🔹 "او را بو لؤلؤ فروزى بکشت نهم روز از ماه ربيع الاول"
یعنی اس کو بو لؤلؤ فروزی نے قتل کیا، دن نهم ربیع الاول تھا۔
📚 کتاب: النقض، تصنیف عبدالجلیل قزوینی، صفحہ ۳۵۳
🌐 http://bit.ly/2QSJP75
✅ اس کتاب کے محقق، استاد ارموی، جلد دوم تعلیقه رقم ۱۴۳ میں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔
♦️ قائد معظم انقلاب، امام خامنہ ای مدظلہ، کے اس کتاب کے بارے میں نظریہ:
👈👈🏽 "میں نے خود یہ کتاب خریدی، کتاب غنی ہے، متن مضبوط اور قابل اعتماد ہے" 👉👉🏽
📚 ماخذ: سایت معظم له
🌐 https://farsi.khamenei.ir/newspart-index?tid=5297
Gallery
Tap any image to view full screen