خلیفہ دوم صحاب کو “فاروق” کا لقب یہودیوں نے دیا تھا
کتب در اہلسنت
ملاحظہ کریں اہلِ سنت کی معتبر ترین کتابوں کے حوالے
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ اہل کتاب وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے عمر (رضی اللہ عنہ) کو 'الفاروق' کا لقب دیا، اور مسلمان ان کے اس قول سے متاثر ہوئے (یعنی اسے اپنا لیا)۔ ہمیں یہ بات نہیں پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں کچھ ذکر فرمایا ہو، اور نہ ہی ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ابن عمر (رضی اللہ عنہ) نے یہ بات کسی اور کے لیے کہی ہو سوائے عمر (رضی اللہ عنہ) کے
عمر بن الخطاب بن نفیل بن عبد العزیٰ بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن النضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان، القرشی
ابو حفص العدوی ہیں، جن کا لقب 'الفاروق' ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں یہ لقب اہل کتاب نے دیا تھا۔ زہری سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ اور ان کی والدہ حنتتمہ بنت ہشام ہیں جو ابوجہل کی بہن تھیں:)
۔
ایک ضعیف روایت 👇
محمد بن عمر نے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو حزرہ یعقوب بن مجاہد نے خبر دی، وہ محمد بن ابراہیم سے، وہ ابو عمرو بن ذکوان سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
میں نے عائشہ سے پوچھا: عمر کو "فاروق" کا لقب کس نے دیا؟
انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے۔
(اس کی سند واقدی کی وجہ سے ضعیف ہے، اور اسے اور اس سے پہلے والی روایت کو ابن سعد نے نقل کیا ہے۔)
Gallery
Tap any image to view full screen