♥️ نهم ربیع کو عید منانا، سنت رسول خدا ﷺ ♥️
✳️ حذیفہ بن یمان ایک طویل روایت میں بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا:
🔴 "نهم ربیع الاول کے دن، منافقین کا سردار اور اہل بیت پر ظالم، ہلاک ہو جائے گا۔"
میں نے عرض کیا: "وہ شخص آپ کے بعد بھی اتنا ظلم کرے گا، تو آپ کیوں اسے نفرین نہیں کرتے کہ آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جائے؟"
حضرت ﷺ نے فرمایا: "میں نہیں چاہتا کہ الہی تقدیر پر سبقت لے جاؤں۔"
پھر فرمایا:
✳️ "لیکن میں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ جس دن وہ شخص فوت ہو، وہ دن دیگر تمام دنوں پر فضیلت والا ہو تاکہ یہ ایک سنت بن جائے، جس پر میرے محبوب اور اہل بیت کے شیعیان اور محبّین عمل کریں۔"
📚 ماخذ: بحارالانوار، ج ۱، ص ۱۲۳
⚡️ یعنی، نهم ربیع کو عید منانا، رسول خدا ﷺ کی سنت ہے۔
ساتھ ہی ایک عام جملہ بھی ہے:
✅ "جو میری سنت سے منہ موڑے، وہ مجھ سے نہیں۔"
📚 ماخذ: مستدرک الوسائل، ج ۳، ص ۸۹
⁉️ سوال: جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ عید مرگ عمر بن خطاب کے لیے نہیں بلکہ امام زمان علیہ السلام کی امامت کے لیے ہے، تو ہم پوچھتے ہیں:
روایت میں کہیں بھی ذکر نہیں ہے کہ عید امامت کے سبب ہے۔
اگر عید امامت کی وجہ سے ہوتی تو کوئی قرینہ یا دلیل بھی حدیث میں موجود ہونی چاہیے تھی۔
امام کی امامت شب ۸ ربیع کو شروع ہوئی، جبکہ عید ۹ ربیع کو ہے، تو اگر عید امامت کے لیے تھی تو ۸ ربیع بیان ہونا چاہیے تھا، نہ کہ ۹ ربیع۔
خود حدیث میں عید کی وجہ واضح ہے: منافق کا ہلاک ہونا۔
💠 اللهم عجل لوليك الفرج 💠