🔴 ان اعتراضات میں سے ایک جو وہابی/ناسبی حضرات حضرت صدیقہ سلام اللہ علیہا کو فدک عطا کیے جانے کے بارے میں پیش کرتے ہیں
ابنِ کثیر دمشقی کا قول ہے۔ یہ اہلِ سنت عالم سورۂ اسراء کی آیت 26 کے ذیل میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو فدک دیے جانے کے اعتراف کی روایت نقل کرتا ہے، پھر اس روایت پر ایک اعتراض وارد کرتا ہے،
❌ ابنِ کثیر دمشقی کے اعتراض کا متن:
📜 ابنِ کثیر کہتا ہے: "یہ حدیث، اگر اس کی سند صحیح بھی ہو، تو مشکل ہے، کیونکہ یہ آیت مکی ہے، اور فدک تو خیبر کے ساتھ ہجرت کے ساتویں سال فتح ہوا۔ پس یہ دونوں باتیں آپس میں کیسے جمع ہو سکتی ہیں؟"
📚 تفسیر ابن کثیر، جلد 5، صفحہ 66
👈 اس جاہلانہ اعتراض کے اتنے جواب دئے جا سکتے ہیں کہ پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے، لیکن کوشش کرتا ہوں کہ جتنا ممکن ہو مختصر کروں
۔
✅ جواب ✅
۔
👈 ابنِ کثیر حدیث کی سند میں کوئی خرابی نکالنے سے عاجز رہا، اس لیے اس نے اس طرح اعتراض کیا کہ سورۂ اسراء مکی ہے اور فدک کا واقعہ مدینہ میں پیش آیا۔ انشاءﷲ اس اعتراض کے کتب اہل سنت سے مختلف جوابات دئے جائیں گے
۔
1⃣ پہلا جواب کہ سوره الاسراء کی آیت نمبر 26 مدنی ہے
▪️اہل سنت محدثین لکھتے ہیں کہ
📜 سورة الإسراء مكية إلا الآيات 26 32 33 57 ومن آية 73 إلى آية 80 فمدنية وآياتها 111
📃 سورہ اسراء مکی سورہ ہے لیکن اس کی آیت ٢٦، ٣٢، ٣٣، ٥٧، ٧٣ سے ٨٠، اور ١١١ مدنی ہیں
📚 حوالہ: تفسیر ابی السعود جلد 5 ص 154
📚 حوالہ: تفسیر جلالین ص 364۔
📚 غريب القران ابن قتيبه ج1ص213
📚 الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل الزمخشري جلد2 صفحه646
📚 التفسير الكبير (مفاتيح الغيب) جلد 20 صفحه 291
📚 تفسير الرازي جلد 20 صفحه 145
📚 تفسير ابن جزي التسهيل لعلوم التنزيل ابن جزي الكلبي جلد1 صفحہ480
📚 تفسير روح المعاني جلد15 صفحه2
📚 القول الوجيز: 222
📚 التفسير الحديث جلد3 صفحه351
📚 التفسير القراني للقران جلد8 صفحه405
📚 التحرير والتنوير ابن عاشور جلد15 صفحه6
📚 تفسير القرآن شبر ج1 ص269
👈 لہذا اعتراض ہی باطل ہے
▪️اور اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ شیعہ عالم طبرسیؒ نے مجمع البیان میں فرمایا ہے:
📜 سورۂ بنی اسرائیل (اسراء) پوری کی پوری مکی ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مکی ہے سوائے پانچ آیات کے، اور ان میں سے «وَآتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّهُ» کو شمار کیا گیا ہے۔
یہ روایت حسن سے نقل کی گئی ہے، اور ابن عباس نے اس میں مزید تین آیات کا اضافہ کیا ہے۔
اور تفسیر المیزان از سید طباطبائیؒ، جلد 13، صفحہ 6
میں آیا ہے:
حسن سے منقول ہے کہ یہ سورت مکی ہے سوائے پانچ آیات کے، جن میں یہ آیات شامل ہیں: «وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ» والی آیت، «وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا» والی آیت، «أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ»، «أَقِمِ الصَّلَاةَ» اور «وَآتِ ذَا الْقُرْبٰی» والی آیت۔
📚 تفسیر المیزان از سید طباطبائیؒ، جلد 13، صفحہ 6
۔
2⃣ دوسرا جواب کہ اہلسنت کے کثیر مفسرین تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں كہ سورہ الاسراء مکی ہے مگر ان میں مدنی آیات بھی موجود ہیں۔
📜 سورہ الاسراء نزلت بمكّة إلّا آيات نزلت بالمدينة
📚 الناسخ والمنسوخ لابن سلامة: 115
📜 هذه السورة مكية إلا ثلاث آيات
📚 المحرر الوجيز: 15/433
📜 هي مكية إلا ثمان آيات
📚 زاد المسير: 5/3
📜 في سورة اسراء {سبحان} آيات مدنيات
📚 جمال القراء:1/13
📜 هي مكّيّة إلّا ثمان آيات نزلن بالمدينة
📚 عمدة القاري: 19/26
📜 إلى آخر ثمان آيات مدنیة
📚 أنوار التنزيل: 3/247
📜 أنها مكية غير قوله تعالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فإنها مدنيات۔۔۔
📚 اللباب في علوم الكتاب جلد12 صفحه193
📜 مكية قيل إلا۔۔۔۔۔۔۔إلى آخر ثمان آيات
📚 إرشاد الساري: 7/198
📜 سورة الإسراء مكية إلا قوله۔۔۔۔۔۔۔۔
📚 المقصد لتلخيص ما في المرشد جلد1 صفحه52
📃 سُورَة الْإِسْرَاء: مَكِّيَّة إِلَّا خمس آيَات۔۔۔۔۔
📚 قلائدالمرجان في بيان ناسخ ومنسوخ في قران ج1ص134
📜 وهذا السياق يقتضي فيما يظهر بادي الرأي أن هذه الآية مدنية وأنها نزلت حين سأله اليهود عن ذلك بالمدينة مع أن السورة كلها مكية. وقد يجاب عن هذا بأنه قد تكون نزلت عليه بالمدينة مرة ثانية كما نزلت عليه بمكة۔۔۔!
📃 اس آیت کے سیاق سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے حالانکہ پوری سورت مکی ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ مکہ کی اتری ہوئی آیت مدینہ میں یہودیوں کو جواب دینے کیکئے بذریعہ وحی حکم خدا نازل ہوئی ہو یا کہ دوبارہ یہی آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہو۔
📚 تفسير ابن كثير جلد3 صفحه64
اسی سورہ الاسراء میں مدنی آیات بھی ہیں اس پر دیگر حوالہ دیکھیں
📚 منار الهدى: 221
📚 فتح القدير: 3/285
📚 تفسير روح المعاني جلد15 صفحه2
۔
3⃣ تیسرا جواب کہ ایک ہی آیت کا 2 بار یا بار بار نازل ہونا بھی ثابت ہے
▪️ جیساکہ سیوطی نے الاتقان میں لکھا ہے :
📜 صرح جماعة من المتقدمين والمتأخرين بأن من القرآن ما تكرر نزوله قد يتكرر نزول الآية تذكيرا وموعظة
📃 متقدمین اور متاخرین میں سے ایک گروہ نے اس بات پر تصریح کی ہے کہ قرآن کی بعض آیات کئی مرتبہ نازل ہوئیں اور کبھی یہ نزول یاد دہانی اور وعظ و نصیحت کے لئے تھی۔
📚 الإتقان في علوم القرآن ج1 ص130
▪️ پھر لکھتے ہیں کہ جب کوئی مسئلہ بہت زیادہ اہم ہو تو اس کے بارے میں آیت دو یا تین مرتبہ نازل ہوتی ہے۔ پھر دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:
📜 سورۂ اسراء اور سورۂ ہود دونوں مکی ہیں، لیکن ان کے اسبابِ نزول اس بات کی دلیل دیتے ہیں کہ یہ دونوں مدینہ میں نازل ہوئیں۔
📚 الاتقان في علوم القرآن جلد 1، صفحہ 104
▪️ اسی طرح سوره نحل کی آخری آیت ،سوره روم کی پہلی آیت اسی طرح سوره اسراء کی آیه نمبر 85 اور سورہ فاتحه، مکہ اور مدینہ دونوں میں نازل ہوئی ہے۔
▪️ ابن کثیر لکھتا ہے کہ
📜 بعض نے (وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَي النَّهَارِ) سوره هود (11): آیه 114 کے بارے میں کہا ہے یہ مکه میں بھی نازل ہوئی اور مدینہ میں بھی نازل ہوئی
📚 تفسیر ابن کثیر سورہ بنی اسرائیل٨٥أیت صفحہ75
۔
4⃣ چوتھا جواب کہ بہت سی آیات ایسی ہیں جو نازل پہلے ہوئیں مگر حکم بعد میں لاگو ہوا یا حکم پہلے لاگو ہوا اور آیت بعد میں نازل ہوئی
▪️ سیوطی نے اسی کتاب الاتقان فی علوم القرآن میں ایک مستقل باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ہے:
📜 "وہ آیات جن کا حکم نزول کے بعد آیا، اور وہ آیات جن کا نزول حکم کے بعد ہوا"
سیوطی صراحت کے ساتھ لکھتا ہے:
📃 کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آیت نازل ہو جاتی ہے مگر اس کا حکم بعد میں آتا ہے،
جیسا کہ آیت: "قد أفلح من تزكى"
یہ زکوٰۃ فطر کے بارے میں نازل ہوئی، اور بزار نے اسے روایت کیا ہے، کیونکہ یہ سورت مکی ہے، جبکہ مکہ میں نہ کوئی عید تھی، نہ زکوٰۃ، اور نہ ہی روزہ۔
📜 یعنی بعض اوقات آیت نازل ہو جاتی ہے لیکن اس کا حکم ابھی جاری نہیں ہوا ہوتا۔
📚 الاتقان فی علوم القرآن، جلد 1، صفحہ 106
▪️ یہی مسئلہ اصل زکوٰۃ کا ہے۔ ہمارے پاس زکوٰۃ کے بارے میں متعدد آیات موجود ہیں جو مکہ میں نازل ہوئیں:
اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا ذکر بہت سی مکی سورتوں میں کیا ہے، کبھی صراحت کے ساتھ اور کبھی اشارۃً، اس بات کے اظہار کے لیے کہ اللہ اپنے رسول سے کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا اور اپنے دین کو قائم کرے گا… حالانکہ بلا اختلاف زکوٰۃ مدینہ میں ہی لوگوں سے لی گئی۔
📚 المدخل لدراسة القرآن الكريم ، صفحہ: 255
مصنف: محمد بن محمد بن سويلم ابو شُہبہ (وفات: 1403ھ)
▪️ اسی طرح خود نمازِ جمعہ کے بارے میں اشارہ فرمایا ہے۔
آپ دیکھئے کہ سیوطی نقل کرتے ہیں:
📜 اور اس کی ایک مثال آیتِ جمعہ بھی ہے۔ آیتِ جمعہ مدنی ہے، جبکہ نمازِ جمعہ مکہ میں فرض کی گئی تھی، لیکن ابن الغرس کا قول ہے کہ مکہ میں کبھی بھی نمازِ جمعہ قائم نہیں کی گئی۔
📚 الإتقان في علوم القرآن جلد 1، صفحہ 108
وہ کہتے ہیں کہ مکہ میں کبھی بھی نمازِ جمعہ ادا نہیں کی گئی، حالانکہ قرآن کہتا ہے:
اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو، اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
📚 سورۂ جمعہ، آیت 9
اب اگر ابنِ کثیر کی بات مان لی جائے تو لوگوں کو کبھی نمازِ جمعہ پڑھنی ہی نہیں چاہیے، کیونکہ نمازِ جمعہ کی آیت مکہ میں نازل ہوئی تھی!
▪️ زرکشی نے لکھا ہے کہ
📜 قد يكون النزول سابقا على الحكم
📃 ممکن ہے آیت کا نزول پہلے ہو اور حکم بعد میں لاگو ہو ۔
انہوں نے یہ مثال دی ہے:
(قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى)
سوره اعلی (87): آیه 14 و 15
📚 البرهان في علوم القرآن ج1 ص32
▪️بغوی نے لکھا ہے کہ
📜 يجوز أن يكون النزول سابقا على الحكم
📃 حکم کے لاگو ہونے سے پہلے آیت کا نزول ممکن ہے ۔
انہوں نے مثال دی ہے
كما قال (لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ، وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ) سوره بلد (90): آیه 1 و 2
فالسورة مكية وظهر أثر الحل يوم الفتح
سوره مکی میں نازل ہوئی ہے اور آیت مکیہ ہے ۔ لیکن اس پر عمل فتح مکہ کے وقت ہوا۔
اسی طرح :
وَكَذَلِكَ نَزَلَ بِمَكَّةَ (سَيهْزَمُ الْجَمْعُ وَيوَلُّونَ الدُّبُرَ)سوره قمر (54): آیه 45
📚 تفسير البغوي ج4 ص477
📜 اور سورۂ براءت (توبہ) کا آغاز مدینہ میں نازل ہوا مگر خطاب مکہ کے مشرکین سے ہے
📚 السيوطي: الإتقان في علوم القرآن، ج1ص57
✅ پس اگر ہم یہ کہیں کہ اس آیت کا حکم مدنی ہے، اگرچہ وہ مکی ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
۔
5⃣ بھی خود اہلِ سنت علماء نے دیا ہے اور صراحت کی ہے کہ قرآن کی جمع و ترتیب، نزول کی ترتیب نہیں ہے، اور بہت سی مکی آیات مدنی سورتوں میں ہیں اور اسی طرح بہت سی مدنی آیات مکی سورتوں میں ہیں:
▪️ علامہ سیوطی لکھتے ہیں
📜 وَالْآيَاتُ الْمَدَنِيَّاتُ فِي السُّوَرِ الْمَكِّيَّةِ وَالْآيَاتُ الْمَكِّيَّاتُ فِي السُّوَرِ الْمَدَنِيَّةِ
📃 "اور مدنی آیات مکی سورتوں میں ہوتی ہیں، اور مکی آیات مدنی سورتوں میں ہوتی ہیں۔"
📚 الاتقان فی علوم القرآن، جلد 1، صفحہ 70
▪️ محقق محمد ابو شھبہ لکھتے ہیں کہ
📜 وأما المكي الذي بعضه مدني فمثل سورة الأنعام، فإنها مكية إلا قوله تعالى: وَما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قالُوا ما أَنْزَلَ اللَّهُ عَلى بَشَرٍ مِنْ شَيْءٍ الآية، فقد صح أنها نزلت في مالك بن الصيف من اليهود (1)، وسورة الأعراف، فإنها مكية إلا قوله تعالى: وَسْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كانَتْ حاضِرَةَ الْبَحْرِ [سورة الأعراف: 163] الآية إلى خمس آيات أو ثمان بعدها فإنها مدنية، فإن الضمير في وَسْئَلْهُمْ لليهود، ولم يكن بمكة يهود، ومثل سورة الإسراء فإنها مكية إلا قوله تعالى: وَيَسْئَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ [سورة الإسراء: 85] الآية فإنها مدنية كما يدل على ذلك ما رواه البخاري في صحيحه عن ابن مسعود
📃 وہ سورہ جو مکی ہیں جن میں بعض مدنی آیات ہیں اس میں ایک مثال سورہ انعام کی ہے جس کی آیت وما قدروا اللہ والی صحیح قول کے مطابق مالک بن صیف نامی یہودی کے حق میں نازل ہوئی، اسی طرح سورہ انعام یہ بھی مکی سورہ ہے لیکن اس کی آیت وسئلھم عن القریتہ (آیت ١٦٣) سے لے کر پانچ یا ٨ بعد کی آیات مدنی ہیں، کیونکہ ادھر وسئلھم کی ضمیر یہودیوں کی طرف راجع ہے اور مکہ میں کوئی یہودی نہ تھا اور اس طرح سورہ اسراء یہ بھی مکی ہے سوائے ٨٥ آیت کے وسیئلونک عن الروح والی یہ مدنی ہے جس کے بخاری نے اپنی صحیح میں ابن مسعود سے نقل کیا۔۔۔الخ
📚 حوالہ: المدخل لدراسة القرآن الكريم ص ٢٢٢
▪️ الاتقان از سیوطی میں موجود ہے وہ لکھتے ہیں
مثلاً سورۂ کہف؛ یہ مکی ہے، لیکن اس کے ابتدائی حصے میں بعض آیات ایسی ہیں جو مدنی ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں اور وہاں شامل کر دی گئیں۔
اسی طرح سورۂ مریم، جو مکی ہے، اس میں بھی بعض مدنی آیات رکھی گئی ہیں۔ اسی طرح سورۂ طٰہٰ اور اسی طرح سورۂ اسراء۔
سورۂ اسراء مکی ہے، لیکن اس میں آیت ﴿يَسْئَلُونَكَ﴾ کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ سورت مکی ہے، لیکن بعض آیات جو مدینہ میں نازل ہوئیں، مکی سورت میں رکھی گئیں۔
﴿يَسْئَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ﴾
یہ وہ موقع تھا جب رسولِ اکرم ﷺ مدینہ میں ایک باغ میں کام کر رہے تھے، یہود آئے اور سوال کیا، تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي﴾
حالانکہ یہ بات قطعی ہے کہ یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی، لیکن سورۂ اسراء کے اندر ہے جو مکی سورت ہے۔
📚 الاتقان في علوم القرآن جلد 1، صفحہ 50
▪️ اسی طرح تفسیر طبری میں بھی عزیزان توجہ کریں، طبری لکھتے ہیں:
📜 سعید نے قتادہ سے نقل کیا ہے کہ آیت ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ﴾ سے لے کر ﴿وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنَافِقِينَ﴾ تک یہ دس آیات مدینہ میں نازل ہوئیں، اور اس کے بعد باقی تمام آیات مکی ہیں۔
📚 جامع البيان عن تأويل آي القرآن ، جلد 20، صفحہ 133
▪️ سورۂ حج کے بارے میں غور کریں، کہا گیا ہے:
📜 مجاہد کے طریق سے ابنِ زبیر سے منقول ہے کہ سورۂ حج مدنی ہے۔ ابنِ غرس نے احکام القرآن میں کہا ہے کہ یہ مکی ہے، مگر آیت ﴿هذان خصمان﴾۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ مکی ہے سوائے دس آیات کے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ مدنی ہے سوائے چار آیات کے: ﴿وما أرسلنا من قبلك من رسول﴾ سے ﴿عقيم﴾ تک، یہ قول قتادہ اور دیگر کا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ پوری سورۂ حج مدنی ہے، یہ قول ضحاک اور دیگر کا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سورت مخلوط ہے، اس میں مکی اور مدنی دونوں آیات ہیں، اور یہی جمہور کا قول ہے۔
📚 الاتقان في علوم القرآن جلد 1، صفحہ 43
▪️ علامہ طبری لکھتے ہیں کہ
📜 میں قتادۃ سے نقل کرتے ہیں کہ سورہ عنکبوت کی 10 آیات مدنی ہیں
📚 تفسیر طبری جلد 18، صفحه 366
▪️قرطبی نے اپنی تفسیر جلد میں کہا ہے
📜 کہ بعض نے سورہ کہف کے آٹھ آیات مدنی ہیں
📚 تفسیر قرطبی 10 صفحه 346
۔
6⃣ مکی آیات کتنی ہیں اور مدنی کتنی اس پر کوئی واضح حکم موجود نہیں
▪️ کتاب الاتقان از سیوطی ہے وہ لکھتے ہیں:
📜 قاضی ابو بکر نے کتاب الانتصار میں کہا ہے کہ مکی اور مدنی کی پہچان کا مدار صحابہ اور تابعین کے حفظ پر ہے، اور اس بارے میں نبی ﷺ سے کوئی قول منقول نہیں، کیونکہ نہ تو آپ کو اس کا حکم دیا گیا تھا، اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے اس علم کو امت پر فرض قرار دیا ہے۔
📚 الاتقان في علوم القرآن جلد 1، صفحہ 35
▪️ زرکشی نے البرہان فی علوم القرآن میں کہا ہے:
📜 اس بارے میں نبی ﷺ کی طرف سے کوئی قول منقول نہیں، اور نہ ہی یہ روایت وارد ہوئی ہے کہ آپؐ نے فرمایا ہو: جان لو کہ مکہ میں نازل ہونے والی آیات اتنی ہیں اور مدینہ میں نازل ہونے والی اتنی، اور پھر ان کی تفصیل بیان کی ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ بات ظاہر ہو جاتی اور پھیل جاتی۔ آپؐ نے ایسا اس لیے نہیں کیا کہ آپؐ کو اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا، اور اللہ نے اس علم کو امت کے فرائض میں شامل نہیں کیا
📚 الزركشي: البرهان في علوم القرآن، ج1ص190
۔
6⃣ اگر چلے مان بھی لیں کہ سورہ مکی ہے تو اس کی تطبیق مدینہ میں کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں، کتنی ہی آیات ایسی ہیں جن کی تطبیق ما بعد زمانہ نبوی ص بھی کی جاتیں ہیں تو کیا کہا جائے گا کہ وہ تطبیقات غلط ہیں؟
▪️ جیسا کہ علامہ زرکشی جو مشہور علوم قرآن کے عالم ہے ان کی کتاب پر یہ موجود ہے کہ
📜 ومما يذكره المفسرون من أسباب متعددة لنزول الآية قد يكون من هذا الباب لاسيما وقد عرف من عادة الصحابة والتابعين أن أحدهم إذا قال نزلت هذه الآية في كذا فإنه يريد بذلك أن هذه الآية تتضمن هذا الحكم لا أن هذا كان السبب في نزولها
📃 اور جو مفسرین ایک آیت کے نزول کے اعتبار سے کافی سارے اسباب کو نقل کرتے ہیں وہ اس قبیل کے ہوتے ہیں خاص طور سے صحابہ اور تابعین کی یہ عادت تھی کہ جب ان میں سے کوئی ایک کہتا کہ یہ آیت اس مسئلہ میں نازل ہوئی تو ان کی مراد اس آیت کے عمومی حکم کا انطباق کرنا ہوتا ہے ناکہ خاص نزول کا بتانا۔
📚 البرھان فی علوم القرآن کی جلد ١ ص ٣١
✅ اگر مان بھی لیں کہ یہ آیت مکی ہے تو پھر بھی اس کا انطباق مدنی پر کرنے میں کوئی مانع نہیں۔
⭕ نتیجہ
👈 پس ابنِ کثیر کا یہ اعتراض دو حال سے خالی نہیں:
یا تو ابنِ کثیر اس مسئلے میں بالکل جاہل تھا اور قرآن کی آیات کے بارے میں یہ بات نہیں جانتا تھا، یا پھر وہ جانتا تھا لیکن اہلِ بیت علیہم السلام سے دشمنی کی بنا پر اس نے یہ اعتراض کیا۔ اور یہ دونوں صورتیں اس کی نالائقی اور جہالت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہیں، اور اللہ نے اسے دونوں جہانوں میں رسوا کیا۔
🖋 قمر عباس بھائی کی تحریر کی مدد سے
Invisibleislam.com
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen