Back to فدک

عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟

عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟
عطیہ بن سعد العوفی پر اعتراضات کے جوابات (ضعیف + مضطرب)؟

🔴 عطیہ بن سعد العوفی

 

Post No 6⃣

 

⭕ اس پوسٹ میں ہم درج ذیل اعتراضات کا جواب دیں گے 👇

 

۔

 

1⃣: عطیہ کو اگر ثقہ کہا گیا ہے تو ضعیف بھی کہا گیا ہے 

2⃣ عطیہ مضطرب یے

 

۔

 

✅ اعتراضات کا ترتیب سے جواب ✅

 

۔

 

1⃣ عطیہ کو کئی علماء نے ضعیف بھی کہا گیا ہے 

 

✅ جواب 👇

 

💯 علماء کا عطیہ کو ضعیف کہنا فائدہ مند نہیں جب تک اس پر جرح مفسر ثابت نہ 

 

جن علماء سے ہم نے عطیہ کی توثیق یا حسن الحدیث ہونا یا صحیح الحدیث ہونا دکھایا ان میں سے کچھ علماء نے عطیہ کو ضعیف بھی کہا ہے لیکن یہ بات جان لینی چاہیے کہ ہم نے علمی دلائل کی روشنی میں عطیہ پر کی جانے والی تمام جروح جو کہ مفسر ہیں ان کا رد کیا ہے 

 

▪️لہذا علماء بے شک اس کو ضعیف کہیں اس کا کوئی اثر نہیں کیونکہ ضعیف کہنا جرح مبہم ہے تو جب تک یہ جرح مفسر ثابت نہ ہو گی تب تک علماء کا اس کو ضعیف کہنا فائدہ مند نہیں 

 

👈 جرح و تعدیل کے اصولوں میں سے ایک اہم اور مسلمہ اصول ہے کہ کسی راوی پر جرح مبہم ہرگز قبول نہیں ہوتی بلکہ جرح مفسر ہی قبول ہوتی ہے مزید آسان الفاظ میں یہ کہ جب کسی راوی کو ضعیف کہا جائے تو اس کو ضعیف کہنے کی وجہ بیان کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس کو جرح مفسر کہتے ہیں اور یہ جرح قابل قبول ہوتی ہے اور اگر فقط ضعیف کہا جائے اور وجہ کچھ بھی نہ ہو تو وہ جرح مبہم ہوگی جو نا قابل قبول ہے۔

 

⭕ آب ہم اس پر علمائے اہل سنت کے اقوال نقل کرتے ہیں۔

 

1⃣ ۔ امام احمد رضا خان بریلوی لکھتے ہیں :

 

📜 ذہبی نے میزان میں کوئی جرح مفسران (راوی) کے حق میں نقل نہ کی (لہذا جرح مردود ہے )

 

📚 فتاوی رضویہ جلد 5 صفحہ 175 اُردو 

 

2⃣ ۔ مفتی احمد یار خان نعیمی بھی یہی اقوال نقل کرتے ہیں کہ 

 

📜 جرح مفسر مقبول ہے اور جرح مبہم مردود

 

📚 سعید الحق في تخريج جاء الحق صفحہ 803 حصہ دوئم اردو ترجمہ 

 

3⃣ ۔ امام بدر الدین زرکشی لکھتے ہیں :

 

📜 من تشبه برواية اهل العلم عنه وحملهم حديثه فليس يقبل فيه تجريح احد حتى يثبت عليه ذلك .

 

📃 جس راوی کی عدالت ثابت ہو اُس کی احادیث کو لیا جاتا ہو پس اس پر کسی کی جرح قبول نہیں ہوگی جب تک اس جرح کو ( مفسر ) ثابت نہ کیا جائے۔

 

📚 البحر المحيط جلد 6 صفحه 183

 

https://shamela.ws/book/21593/2250

 

4⃣ ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں :

 

📜 و امام كتب الجرح والتعديل التي لا يذكر فيها سبب الجرح فانا وان لم تعتمدها فى اثبات الجرح والحكم به -

 

📃 اور کوئی کسی راوی پر جرح اور تعدیل لکھتا ہے اور جرح کا سبب نہیں بیان کرتا تو اس کی جرح کے اثبات اور حکم پر اعتماد نہیں۔

 

📚 تدریب الراوی صفحه 360 مكتبة الكوثر 

 

5⃣ ۔ امام ذہبی لکھتے ہیں :

 

📜 وقال الجمهور العلماء لا يثبت الجرح الا مفسر امبين السبب .... يقبل التعديل من غير ذكر سببه .

 

📃 جمہور علماء کے مطابق جرح اس وقت تک قبول نہیں جب تک مفسر اور واضح سبب کے ساتھ نہ ہو جب کے تعدیل بغیر سبب کے ذکر کے بھی مقبول ہے۔

 

📚 الموقظه في مصطلح الحديث صفحہ 65

 

6⃣ ۔ علامہ ظفر عثمانی تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں :

 

📜 لا يقبل الجرح المبهم ويقبل فيمن لم يوثقه احد -

 

جرح مبہم قابل قبول نہیں اور قبول اس صورت میں ہوگی جب اس راوی کی کسی ایک نے بھی توثیق نہ کی ہو۔

 

📚 قواعد في علوم الحدیث صفحہ 167 طبع بیروت 

 

7⃣ - امام المجتہد محمد بن ابراہیم وزیر لکھتے ہیں :

 

📜 فلا يقبل الجرح اذا لم يكن كذلك .

 

📃 پس جرح قابل قبول نہیں ہوگی جو اس ( مفسر ) کی طرح نہ ہو

 

📚 الروض الباسم صفحه 164 طبع دار عالم الفوائد 

 

8⃣ ڈاکٹر محمود الطحان لکھتے ہیں :

 

📜 اما الجرح فلا يقبل الامفسرا .

 

📃 جو جرح غیر مفسر ہو وہ قابل قبول نہیں

 

📚 تیسیر مصطلح الحدیث صفحه 138

 

9⃣ مولوی تقی الدین مظاہری لکھتے ہیں :

 

📜 جرح غیر مفسر قابل نہیں ۔

 

📚 فن اسماء الرجال صفحه 66 أردو 

 

یہی وجہ ہے کہ علماء اہل سنت لکھتے ہیں کہ

 

9⃣ تعدیل جرح مبہم پر مقدم ہے علامہ تقی الدین لکھتے ہیں کہ تعدیل جرح مبہم پر مقدم ہے

 

📚 فن اسماء الرجال صفحہ 66 اردو 

 

🔟 امام عبدالحی حنفی لکھنوی لکھتے ہیں کہ 

 

📜 غیر مفسر جرحوں پر تعدیل مقدم ہے۔

 

📚 ظفر الامانی صفحہ 281

 

1⃣1⃣ جمال الدین قاسمی لکھتے ہیں کہ 

 

📜 جمہور علماء تعدیل کو جرح پر مقدم جانتے ہیں۔

 

📚 قواعد التحديث صفحہ 189

 

علامہ ظفر عثمانی تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں کہ 

 

📜 تعدیل جرح مفسر پر مقدم ہے اور یہی جمہور علماء کا مذہب ہے 

 

📚 قواعد فی علوم الحدیث صفحہ 175

 

1⃣2⃣ امام عبدالوہاب الشعرانی لکھتے ہیں کہ

 

📜 جمہور کے نزد یک تعدیل جرح پر مقدم ہے۔

 

📚 کتاب الميزان صفحه 232

 

ان دلائل سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جرح غیر مضمر یا جرحمہم قابل قبول نہیں اور تعدیل اس پر مقدم ہو گی تو اب کوئی عالم کسی راوی کو ضعیف کہتا رہے لیکن اس کے ضعف کا سبب بیان کرے یا کے ضعف کا سبب بیان کرے یا اس پر کی گئی جرح کو ثابت نہ کرے تو وہ جرح کسی کام کی نہ ہوگی با علماء کی تعدیل کے اقوال راجح ہوں گے۔

 

------------------------------------------------------------------------

 

2⃣ عطیہ مضطرب ہے 

 

✅ جواب 👇

 

امام دار قطنی نے عطیہ کو مضطرب کہا ہے اور کیسے کہا زرا وہ ملاحظہ کریں :

 

📜 س 2289 وسئل عن حديث عطية عن ابي سعيد في قوله تعالى " سأرهقه صعودا "

فقال يرويه عمار الدهني عن عطية واختلف عنه فرواه شريك عن عمار عن عطية عن ابي سعيد مرفوعاً و رواه عبيدة بن حميد و ابن عيينه عن عمار موقوفا

و كذلك رواه ابراهيم بن مهاجر عن عطية عن ابي سعيد موقوفا وعطية مضطرب الحديث ورواه عمر و بن قيس الملائي عن عطية عن ابي سعيد مرفوعاً -

 

📚 العلل الواردة في الاحاديث النبويه جلد 11 صفحہ 291 290

 

♦️ اب اس میں امام دارقطنی نے عطیہ پر جرح کی کے کبھی وہ ابو سعید سے موقوفا روایت کرتا ہے کبھی مرفوعا روایت کرتا ہے لہذا عطیہ مضطرب الحدیث ہے۔

 

👈 جب ہم یہاں یہ صورت حال دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ دارقطنی خود اس معاملہ میں مضطرب نظر آتے ہیں 

 

کیونکہ مرفوع اور موقوف دونوں کو دار قطنی ابو سعید پر چھوڑ رہے ہیں اس سے آگے کچھ نہیں لکھا کہ نبی تک کون سی حدیث مرفوعا گئی اور ابو سعید تک کون سی موقوفا رکی اور سب سے اہم بات کے آیت کے الفاظ نقل کر لئے گئے لیکن اس کی تفسیر کے الفاظ کا کچھ پتہ نہیں کہ کسی تفسیر کا ذکر ہو رہا ہے یہاں لہذا یہ جرح تو بذات خود اضطراب کا شکار نظر آتی ہے۔

 

مزید یہ کہ موقوف اسناد میں ابن عیینہ مدلس ہے اور یہ عن سے روایت کر رہے ہیں اور اسی طرح ابراہیم بن مہاجر الجلی کا بھی حافظہ ٹھیک نہیں تھا اور اضطراب کا شکار تھا الجرح والتعديل لابن ابی حاتم ) لہذا موقوف اسناد میں سے صرف ایک رہ جاتی ہے

 

▪️عبیدہ بن حميد عن عمار موقوفاً 

 

اسی طرح مرفوع اسناد میں شریک خطاکار اور مدلس ہے اور عن سے روایت کر رہا ہے لہذا ضعیف ہے تو اس کی بھی ایک ہی سند رہ جاتی ہے

 

▪️عمر و بن قيس الملائي عن عطيه عن ابي سعيد مرفوعا

 

اب اس میں بھی موقوف سند میں عبیدہ بن حمید کا حفظ ٹھیک نہیں اور یہ غلطیاں کرتا تھا۔ 

 

▪️جیسا کہ یعقوب بن شیبہ نے کہا کہ 

 

📜 لم يكن من الحفاظ المتقين 

📃 یہ کوئی متقی حفاظ میں سے نہ تھا۔

 

📚 تهذیب الکمال جلد 19 صفحہ 257 ، 262

 حاشیه سفن سعید بن منصور جلد 1 صفحه 62 ڈاکٹر سعد آل حمید 

 

👈 اس کے علاوہ علماء اس کو خطاءکار بھی لکھتے ہیں۔

 

📚 تحفة الاحوزی جلد 1 صفحہ 417 عبد الرحمن مبارک پوری طبع دار الفکر، 

📚 شرح سنن النسائی جلد 4 صفحہ 374 شیخ محمد بن علی الولوی ، 

📚 تقریب التهذيب صفحہ 654 ابن حجر

 

♦️ لہذا ایک ہی سند مرفوعاً رہ جاتی ہے باقی تمام استاد عمر و بن قیس الملائی کی مرفوع روایت کے برابر نہیں آتی جبکہ اضطراب کے اثبات کے لئے تمام مختلف اسناد کا ایک جیسا قوی ہونا ضروری ہے۔

 

مزید یہ کہ ناقدین یا جارحین کو جرح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ متشدد ( شدید ) یا متعصب نا ہوں لیکن امام دار قطنی کا شمار متعصبین علماء میں ہوتا ہے لہذا یہ جرح ثابت بھی ہو تو کسی کام کی نہیں 

 

۔

 

♦️ اہل سنت علماء جنہوں نے دار قطنی کے علما متعصبین میں سے ہونے کی تصریح کی۔ 👇

 

📚 - الرفع والتكميل صفحه 23 عبد الحی لکھنوی طبع مکتبہ ابن تیمیه

📚 رود المختار جلد 1 صفحہ 148 طبع ریاض

📚 ۔ دراصات اصولیہ صفحہ 244 ڈاکٹر حنفاوی طبع دارلوفا

📚 فواتح الرموت جلد 2 صفحہ 190 علامہ عبد العلی انصاری لکھنوی طبع بیروت

📚 خیر الاصول صفحہ 12 اُردو، خیر محمد جالندھری

📚 تجلیات صفدر جلد 2 صفحہ 72 علامہ صفدر اوکاڑوی دیوبندی اردو

📚 تجلیات صفدر جلد 7 صفحہ 81 صفدر اوکاڑوی اردو

📚 ۔ قواعد في علوم الحدیث صفحہ 193 ظفر عثمانی تھانوی دیو بندی

 

▪️ ۔ امام بدرالدین عینی حنفی دارقطنی سے ابو حنیفہ پر جرح نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ان کا فاسد تعصب ہے اور جو ابوحنیفہ کو ضعیف کہے وہ خود ستحق ہے کہ اُس کو ضعیف کہا جائے۔ 

 

📚 البنا یہ شرح الهدایہ جلد 2 صفحہ 372 طبع دار الفکر

 

▪️ امام ابن الجوزی کہتے ہیں کہ

 

📜دار قطنی کی تضعیف کو اس وقت تک قبول نہ کیا جائے جب تک وہ اس کا سبب نص کے ساتھ بیان نہ کریں۔

 

📚 فيض القدير جلد 1 صفحہ 37 امام مناوی محقق احمد عبد السلام 

 

۔

 

👈 آخری بات یہ کہ کسی راوی پر مضطرب کی جرح ہو تو لازمی نہیں کہ اس کی ہر حدیث ہی مضطرب ہو یا ہر حدیث ہی مردود ہو جیسا کہ بخاری مسلم کے کچھ راویان پر بھی مضطرب الحدیث کی جرح ہے 

 

جیسا کہ المقترب في بيان المضطرب میں اعمش، عبید اللہ بن موسیٰ ، امام عبد الرزاق بن صنعانی جیسے آئمہ کو مضطرب کہا گیا ہے 

 

❓ تو کیا اس کی وجہ سے ان کی تمام روایات کو اور امام عبد الرزاق کی المصنف کو دریا برد کر دیا جائے گا ؟؟

 

ایک اہم حوالہ کہ امام ابو حنیفہ کو امام مسلم صاحب صحیح مسلم نے مضطرب الحدیث کہا ہے۔ 

 

📚 الکنی والا سماء صفحہ 276 امام مسلم طبع مدینہ 

 

لہذا دار قطنی کی عطیہ پر مضطرب الحدیث کی جرح کسی کام کی نہیں یہی وجہ ہے کہ کسی بھی جارح نے دار قطنی سے یہ جرح عطیہ پر نقل نہیں کی 

👈 بلکہ دار قطنی اس میں منفرد ہیں۔

 

📚 ماخذ: تحقیق قضیہ فدک (قسور عباس حیدری)

 

📎 بدر علی

 

Invisibleislam.com

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19