🔴 عطیہ بن سعد العوفی
Post No 5⃣
⭕ اب اس پوسٹ پر عطیہ پر درج زیل اعتراضات کا جواب پیش کرتے ہیں 👇
۔
1⃣: عطیہ قوی نہیں ہے
2⃣: عطیہ بہت زیادہ غلطیاں کرتا تھا
۔
✅ اعتراضات کا ترتیب سے جواب ✅
۔
1⃣ عطیہ قوی نہیں ہے
✅ جواب 👇
کہ امام مام عجلی نے عطیہ کو ثقہ کہا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ لیس بالقوی یہ قوی نہیں ہے
یاد رہے لیس بالقوی کوئی جرح مفسر نہیں ہے جس سے راوی ضعیف ثابت ہو اور اسکی تصریح خود علماۓ اہل سنت کی ہے
▪️امام مقبل بن ہادی الوداعی لکھتے ہیں
📜 لیس بالقوی جرح مفسر نہیں
📚 المتقرح ص 101
▪️امام ذھبی لکھتے ہیں
📜 لیس بالقوی جرح مفسر نہیں بلکہ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ اس سے احتجاج کیا جاۓ گا
📚 الموقظہ فی علم مصطلح الحدیث ص 82
▪️ عمر بن مسعود الحدوشی
📜 لیس بالقوی جرح مفسر و مفسد نہیں
📚 شفاء التبریح من داءالتجریح ص 217
▪️ ارشاد الحق اثری اہل حدیث
📜 لیس بالقوی کا جرح غیر مفسر لکھتے ہیں
📚 توضیع الاحکام ص 169 اردو
💯 لہذا ثابت ہوا کہ امام عجلی کا عطیہ کو لیس بالقوی کہنا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ توثیق راجح ہے
------------------------------------------------------------------
2⃣ عطیہ بہت زیادہ غلطیاں کرتا تھا
✅ جواب 👇
❓کیا خطاء کرنا جرح ہے؟
👈 جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ
۱) کوئی انسان معصوم نہیں ہوتا سوائے انبیاء و آئمہ ع
اور
۲) جرح کا دارومدار متقدمین پر ہوتا ہے اور متقدمین میں سے کسی نے بھی عطیہ کے بارے میں یہ نہیں کہا۔
۔
▪️ لیکن ہم کتب اہلسنت میں دیکھتے ہیں کہ
📜 " ثقہ راوی سے بھی خطاء کا امکان موجود ہے"
📚 فن اسماء الرجال ص 79
▪️ امام ابن حبان زازان کو الثقات میں نقل کرکے کہتے ہیں۔
📜 یخطی کثیر ۔
📚 کتاب الثقات 4/265
۔
⭕ پھر کہا گیا کہ امام ابن حجر عسقلانی نے طبقات المدلسین میں لکھا کہ عطیہ قبیح تدلیس کرتا تھا اور اس کا حافظہ بہت برا تھا اور یہ جرح مفسر ہیں ۔
✅ جواب ✅
👈 سب سے پہلے جیسا کہ یہ تو سب جانتے ہیں کہ ابن حجر عسقلانی علماء متاخرین میں سے ہیں اور متاخرین کی جرح فائدہ نہیں دیتی جب تک متقدمین میں سے کسی نے وہ جرح نہ کی ہو
♦️ مزید یہ کہ ابن حجر عسقلانی خود عطیہ پر جرح کے معاملہ میں اضطراب کا شکار نظر آتے ہیں کیونکہ تقریب میں انہوں نے عطیہ کو صدوق مدلس و يخطى كثيرا لکھا، طبقات المدلسین میں سييء الحفظ اور مدلس القبيح لکھا
لیکن نتائج الافکار میں ان دونوں جروح سے رجوع کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
📜 قلت ضعف عطيه انما جاء من قبل التشيع و من قبل التدليس وهو في نفسه صدوق۔
📃 میں کہتا ہوں کہ عطیہ کے ضعف پر صرف اس کا تشیع ہونا اور اس کی تدلیس ہے اور یہ بذات خود سچا ہے۔
📚 نتائج الافکار جلد 1 صفحہ 267
اب قابل غور بات یہ کہ یہاں ابن حجر نے کلمہ حصر انما کے ساتھ فقط 2 ہی جروح نقل کیں (جنکا جواب پوسٹ 3،4 میں ہم نے دیا) جس سے باقی تمام جروح کی نفی ہوتی ہے کیونکہ انما کا لفظ ان دونوں کے علاوہ باقی تمام جروح کی نفی کر رہا ہے ۔
یعنی ابن حجر کے نزدیک باقی تمام جروح کسی کام کی نہیں تھیں اب اگر امام ابن حجر کے اقوال کو جمع کیا جائے تو کچھ یہ معاملہ ہوگا۔
(1) عطیہ صدوق ہے، بہت غلطیاں کرتا تھا، مدلس تھا
( تقرب التہذیب )
(2) ۔ عطیہ سیء الحفظ اور قبیح مدلس تھا
( طبقات المدلسین )
(3) ۔ عطیہ پر صرف (انما حصر کے ساتھ) تشیع اور تدلیس کی جروح ہیں
(نتائج الافكار )
(4) ۔ عطیہ کی حدیث حسن ہے جس کا عطیہ کی توثیق میں حوالہ دیا گیا
(نتائج الافكار )
✅ اب اگر دیکھا جائے تو ابن حجر نے خود باقی تمام جروح کی نفی کر دی لیکن اس کے باوجود ہم کچھ اقوال نقل کرتے ہیں یہاں تا کہ مزید تشفی کی جا سکے۔
۔
▪️ حافظ زبیر علی زئی اہل حدیث لکھتے ہیں کہ
📜 حافظ ابن حجر کی جرح و تعدیل میں تعارض ہے اس لئے دونوں اقوال ساقط ہیں ۔
📚 مقالات الحديث صفحه 357 أردو
یہاں یہ تو ثابت ہوا کہ ابن حجر کے تضاد کی صورت میں دونوں اقوال ساقط ہوں گے
▪️امام احمد رضا خان بریلوی کے نزدیک
📜 کسی راوی کا غلطیاں کرنا یا سیء الحفظ ہونا مطلقاً اس کی تضعیف نہیں کرتا۔
📚 فتاوی رضویہ جلد 5 صفحہ 185 ، 181 اُردو
۔
ہماری تحقیق کے مطابق علامہ ابن حجر نے جرح کے معاملہ میں بہت زیادہ غلطیاں کی ہیں اسی لئے اُن کی کتاب تقریب التہذیب کے تعاقب میں شیخ شعیب ارنو وسط اور بشار عواد معروف نے تحریر تقریب التہذیب 4 جلدوں میں لکھی۔
مزید ابن حجر کے تناقضات ، اغلاط یا تعصب پر مبنی جروح دیکھنی ہوں تو علامہ حبیب اللہ ڈیروی دیو بندی کی کتاب نور الصباح کا مطالعہ کریں۔ تو اس پر ختمی کلام یہ کہ ابن حجر عسقلانی کی جرح مفسر کسی کام کی نہ رہی باقی تدلیس والی جرح کا جواب الحمد اللہ دے دیا گیا ہے
-----------------------------------------------------------
🔴 جیسا کہ کہا گیا کہ ابن حجر عسقلانی علماء متاخرین میں سے ہیں اور متاخرین کی جرح فائدہ نہیں دیتی
اسکے دلائل ملاحظہ کیجئے 👇
محد ثین و محققین کے دو طبقات ہوتے ہیں
(1) علماء متقدمین
(2) علماء متاخرین
علماء متقدمین سے مراد پہلے علماء جنہوں نے اپنی اسناد سے احادیث جمع کیں یا اپنی اسناد سے یا اپنی کوشش سے راویان حدیث پر اقوال اکٹھے کئے اور علماء متاخرین جو بعد میں آئے اور انہوں نے متقدمین کے کام کی مزید شرح کی یا اس کو مزید آگے چلایا آب دیکھا جائے تو جہاں علم رجال کا تعلق ہے تو اس کا دارو مدار علماء متقدمین پر ہے کہ جو جرح وہ لے کر آئیں اگر وہ مفسر ہو اور ثابت ہو تو بعد والے بھی وہیں سے نقل کرتے ہیں لیکن متاخرین میں سے کوئی عالم کسی راوی پر جرح مفسر کر دے تو اُس کا اثبات مشکل ہے۔
⭕ یہی بات اہل سنت میں راجح ہے جس پر ہم اقوال پیش کر رہے ہیں۔
1⃣ مولانا صفدر اوکاڑوی دیوبندی لکھتے ہیں :
📜 متقدم کی توثیق کے ہوتے ہوئے جرح کا اعتبار نہیں ۔
📚 انوارات صفدر صفحه 337 اُردو
2⃣ ۔ علامہ ظفر تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں :
📜 جرح المتأخر ولا يعتبر به مع ثناء المتدمين
📃 متاخرین کی جرح کا متقدمین کی ( راوی پر ) توثیق کے مقابلہ میں کوئی اعتبار نہیں۔
📚 قواعد في علوم الحديث 399
3⃣ ۔ امام حاکم نیشاپوری لکھتے ہیں :
📜 لم يخرجا ابا الخالد الدالانى فى الصحيحين لما ذكر من انحرافه عن السنه في ذكر الصحابه فأما الائمة المتقدمون فكلهم شهد وا لا بي خالد بالصدق والاتقان والحديث الصحيح -
📃 ابو خالد الدالانی کی روایات کو صحیحین ( بخاری و مسلم ) میں نقل نہیں کیا گیا جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ راوی صحابہ سے منحرف تھا جبکہ تمام آئمہ متقدمین نے ابو خالد کو سچا اور متقی کہا ہے اس لئے اس کی حدیث صحیح ہے۔
📚 المستدرك على صحيحين جلد 5 صفحہ 56 حدیث نمبر 8812 طبع دار الحرمين )
4⃣ ۔ امام ابن حجر عسقلانی ابان بن صالح قرشی کے حالات میں لکھتے ہیں
📜 وهذه غفلة منهما وخطأ تو اردا عليه فلم يضعف ابأن هذا احد قبلهما ويكفي فيه قول ابن معين و من تقدم معه -
📃 ابن عبد البر اور ابن حزم کا ابان کو ضعیف کہنا ) یہ ان کی غفلت اور خطا ہے ابان کے بارے میں کیونکہ ان دونوں سے پہلے کسی نے اس کو ضعیف نہیں کہا اور اس بارے میں ابن معین کا ( توثیق والا ) قول کافی ہے اور جو متقدمین ان کے ساتھ ہیں۔
📚 تہذیب التہذیب جلد 1 صفحہ 95 طبع هند
5⃣ ۔ امام ناصر الدین البانی اہل حدیث لکھتے ہیں :
📜 بكر بن عمرو ، وهو ثقه اتفاقا محتج به عند الشيخين و جميع المحدثين فمن ضعف حديثه هذا من المتأخرين فقد خالف سبيل المومنين -
📃 بکر بن عمر و جو کہ ثقہ ہے اور بخاری مسلم نے متفقہ طور پر اس کی روایات نقل کی ہیں پیس جن علماء نے اس کی احادیث کو ضعیف کہا وہ متاخرین میں سے ہیں لہذا قابل قبول نہیں ) پس انہوں نے مومنین کے راستہ کی مخالفت کی۔
📚 سلسلہ احادیث الصحیحہ جلد 4/40 طبع ریاض
ہم فقط 5 اقوال پر ہی اکتفاء کرتے ہیں جو اس بات کے اثبات کے لئے کافی ہیں کہ نقد و جرح کا دار و مدار اصل میں علمائے متقدمین پر ہے جبکہ متاخرین کا اصل ماخذ وہی علمائے متقدمین ہیں۔
📚 ماخذ: تحقیق قضیہ فدک (بقلم قسور عباس حیدری)
📎 بدر علی
Invisibleislam.com
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen