امیر المومنین علیہ السلام نے ابوبکر سے کہا ۔ کیا تم نے کتاب خدا کو پڑھا ہے؟
اس نے کہا جی ہاں۔
آپ نے کہا کیا تمہیں خبر ہے خدا کے اس قول کی؟
انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا-
بیشک یہ خداوند متعال کا ارادہ ہے کہ وہ اہلبیت سے ہر قسم کی برائی کو دور رکھے اور انہیں ایسا پاک رکھے جیسا پاک رکھنے کا حق ہے۔
یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی؟
ہمارے بارے میں یا کسی اور کے بارے میں ؟
تو اس نے کہا بلکہ یہ آپکے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
تو علی علیہ السلام نے فرمایا اگر کوئی گواہی دے فاطمہ س نے کوئی برائی کی ہے تو تم کیا کرو گے؟
تو اس نے کہا میں حد جاری کرونگا جیسے دوسرے مسلمانوں پر ہوتی ہے؟
علی علیہ السلام نے کہا پھر تم خدا کے نزدیک کافروں میں سے ہوجاؤ گے۔
تو اس نے کہا ایسا کیوں؟
تو علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا:-
چونکہ تم نے فاطمہ س کی طہارت پر خدا کی گواہی کو رد کر دیا اور لوگوں کی گواہی کو خدا کی گواہی پر ترجیح دی۔
جیسا کہ تم نے خدا اور رسول کے حکم کو ٹھکرایا چونکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فدک اپنی زندگی میں فاطمہ کو دے دیا تھا اور وہ نبی کی زندگی میں ہی اس پر قابض تھیں۔
تم نے ایک اعرابی کی گواہی کو قبول کر لیا اور ان سے فدک کو چھین لیا اور یہ گمان کیا کہ یہ مسلمانوں کا ہے۔
اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیشک فرمایا تھا جو دعویٰ کرے وہ گواہ پیش کرے اور جس کے خلاف دعوی کیا گیا ہو اس کے لئے قسم ہے۔
کتاب الزاھرہ علامہ باقر مجلسی بحوالہ تفسیر القمی سندصحیح
Gallery
Tap any image to view full screen