Back to بیعت و خلافتِ شیخین

خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات

خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات
خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات
خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات
خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات
خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات
خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات
خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات
خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات
خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات
خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات
خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات
خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات
خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات
خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات
خلافت ابوبکر کس طرح قائم ہوئی اور کچھ سوالات کے جوابات

🔴 کچھ سوالات کے جوابات

 

۔

 

⁉️ کیا خلافت ابوبکر پر نص موجود ہے؟

⁉️ کیا خلافت ابوبکر پر اجماع تھا؟

⁉️ کیا بنو ہاشم کے علاوہ انصار میں سے کوئی بھی علی کی خلافت کا قائل نہیں تھا؟

⁉️ کیا خلافت ابوبکر بغیر کسی زور زبردستی کے قائم ہوئی؟

 

۔

 

✅ ان سوالات کا جواب آپ مومنین کی خدمت میں مختلف تاریخی پہلو سے پیش کرتا ہوں

 

 

 

1⃣ کیا خلافت ابوبکر پر نص موجود ہے؟

 

👈 جواب بلکل واضح ہے کہ نہیں

 

▪️جیسا کہ عمر کہا کرتے تھے

 

📜 خلافت ابوبکر ایسی بُرائی تھی کہ جس کے شر سے اللہ نے ہمیں محفوظ رکھا

 

📚 صحیح بخاری

 

📜 ابوبکر بن ابی قحافہ کی بیعت اچانک ہوئی تھی اللہ نے اسکی خرابی سے محفوظ رکھا. مولا علی علیہ السلام اور ان کے ساتھی بیعت میں شریک نہیں ہوۓ تھے

 

📚 مصنف عبدالزاق جلد چہارم صفہ 57

 

👈 اگر کوئی نص موجود ہوتی تو عمر کا یہ کہنا خود ایک جرم ہوتا

 

▪️اور پھر جیسا کہ سنی عالم تفتازانی صراحت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے ابوبکر کے لیے کوئی نص صادر نہیں ہوئی۔

 

📜 والنص منتف في حق أبي بكر، مع كونه إماما بالإجماع.

 

📃 اور ابوبکر کے بارے میں کوئی نص موجود نہیں، حالانکہ وہ اجماع کے مطابق امام ہیں!

 

📚 التفتازاني، شرح المقاصد في علم الكلام، ج 2، ص 28

 

 

▪️ اہل سنت عالم فخـر الرازی لکھتے ہیں کہ

 

📜 انه لا يمكن اثباتها بالنص، لأنه لو كان منصوصا عليه بالامامة، لكان توقيفه يوم السقيفة إمامة نفسه على البيعة، من أعظم المعاصى و ذلك يقدح فى إمامته ۔

 

📃 ابوبکر کی خلافت کو نص کے ذریعے ثابت کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر ان کی امامت نص کی وجہ سے ہوتی اور انہیں اس مقام پر منصوب کیا ہوا ہوتا تو سقیفہ کے دن ان کی امامت کو بیعت کے ذریعے منعقد کرنا اور نص پیش نہ کرنا بڑے گناہوں میں سے ہے اور یہ ان کی امامت کے لئے قابل اعتراض پہلو ہے ۔

 

📚 فخرالدین رازی، الاربعين في اصول الدين، ج‏2، ص 274

 

✅ تو ایک بات تو واضح ہوئی کہ کوئی نص موجود نہیں تھی 

 

۔

 

2⃣ کیا خلافت ابوبکر پر اجماع تھا؟

 

انصار ابتدا میں سقیفہ میں سعد بن عبادہ کی خلافت کے بارے میں متفق تھے

 

👈 یہ خود دلیل ہے کہ انصار بھی ابوبکر کی خلافت کو منصوص یا قطعی نہیں سمجھتے تھے۔ 

 

⭕ پھر دباؤ، قبائلی رقابت اور دوسرے گروہوں کی موجودگی کے ذریعے بیعت لی گئی، یہاں تک کہ صحیح بخاری میں عمر بن خطاب نے کہا: 

 

📜 قتل الله سعد بن عبادة

📜 فقال عُمَرُ: اقتلوه، قتَلَه اللَّهُ

 

📃سعد بن عبادہ کو قتل کر دو، اللہ اسے قتل کرے۔ 

 

📚 صحیح بخاری 6830

📚 تاریخ طبری

 

👈 یہ مخالفت انصار کے "سردار" کی طرف سے تھی

 

⁉️ پھر اے نادان بھائیو ! تم کیسے کہتے ہو کہ انصار نے ابوبکر پر اجماع کیا؟ 

 

💯 لہٰذا بالفرض اگر موافقت ہوئی بھی ہو تو یہ ایک سیاسی عمل ہے، شرعی حجت نہیں۔

 

لیکن حقیقت میں موافقت بھی نہیں ہوئی یہاں تک کہ سعد بن عبادہ کو ق/تل کر دیا گیا اور مشہور ہوا کہ جنات نے ق/تل کر دیا

 

📜 صحابی رسول سعد بن عبادہ نے خلیفۂ اول و دوم کی بیعت نہیں کی اور آخرکار دوسری خلافت کے دوران شام کی طرف چلے گے تھے اور وہاں قتل ہوئے اور ان کے قتل کو جنات کی طرف نسبت دے دی گئی۔

 

📚 ابن سعد، طبقات الکبری، ج۳، ص۶۱۷

 

۔

 

3⃣ کیا بنو ہاشم کے علاوہ انصار میں سے کوئی بھی علی کی خلافت کا قائل نہیں تھا؟

 

یہ دعویٰ بھی بنیادی طور پر غلط اور تاریخ میں تحریف ہے کہ انصار میں سے کوئی بھی علی کی خلافت کا قائل نہیں تھا۔ انصار کے بہت سے بزرگ بعد میں امیرالمؤمنین کے ساتھی اور حامی بنے، یہاں تک کہ وہ پکارا کرتے تھے: "لا يبايع إلا علي" یعنی علی کے سوا کسی کی بیعت نہیں کی جائے گی۔

 

ایک روایت ہے جو صحیح بخاری میں عمر سے نقل ہوئی ہے:

 

📜 أَنَّ الْأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِی سَقِیفَةِ بَنِی سَاعِدَةَ وَخَالَفَ عَنَّا عَلِیٌّ وَالزُّبَیْرُ وَمَنْ مَعَهُمَا

 

📃 انصار نے ہماری مخالفت کی اور سب کے سب سقیفۂ بنی ساعدہ میں جمع ہوگئے، اور علی، زبیر اور ان کے ساتھ موجود لوگوں نے بھی ہماری مخالفت کی۔

 

📚 صحیح بخاری، ج 4، ص 258

 

قابل غور نقطہ کہ 👈 انصار نے مخالفت کی نا کہ کسی ایک آدھے شخص نے

۔

 

اور پھر امیرالمؤمنین کی مخالفت خود خلفاء کی خلافت کے بطلان پر قطعی دلیل ہے، 

 

📜 حدیث علي مع الحق والحق مع علي کے مطابق۔

 

▪️اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ابن حزم کہتے ہیں:

 

📜 ولَعْنَةُ اللَّهِ على كل إجْمَاعٍ يَخْرُجُ عنه عَلِيُّ بن أبي طَالِبٍ

 

📃 اور اللہ کی لعنت ہو ایسے ہر اجماع پر جس سے علی بن ابی طالب علیہ السلام خارج ہوں!

 

📚 المحلى، ج 9، ص 345

 

۔

 

▪️ابن تیمیہ صراحت کرتے ہیں کہ انصار خلفاء کے مخالف اور امیرالمؤمنین کے موافق تھے:

 

📜 و بايع المسلمون أبا بكر و كان اكثر بني عبد مناف من بني أمية و بني هاشم و غيرهم لهم ميل قوي إلى علي بن أبي طالب يختارون ولايته

 

📃 اور مسلمانوں نے ابوبکر کی بیعت کی، جبکہ بنی عبد مناف کی اکثریت، جن میں بنی امیہ، بنی ہاشم اور دیگر لوگ شامل تھے، علی بن ابی طالب علیہ السلام کی طرف شدید میلان رکھتے تھے اور ان کی ولایت کو اختیار کرتے تھے۔

 

📚 منهاج السنة النبوية، ج 7، ص 49

 

۔

 

▪️اسی طرح زبیر بن بکار کہتے ہیں:

 

📜 قالَ: وَكَانَ عَامَّةُ الْمُهَاجِرِينَ وَجُلُّ الأَنْصَارِ لا يَشُكُّونَ أَنَّ عَلِيًّا هُوَ صَاحِبُ الأَمْرِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ

 

📃 اور عام مہاجرین اور اکثر انصار کو اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد صاحبِ امر علی علیہ السلام ہیں۔

 

📚 الأخبار الموفقيات، ج 1، ص 220

 

 

💯 لہٰذا انصار اور مہاجرین کا امیرالمؤمنین پر اجماع تھا، لیکن ابوبکر نے ایک ایسی بغاوت کے ذریعے، جس کی پہلے سے تیاری کر رکھی تھی، ان سب کو کچل دیا۔ اس زمانے بے عقل اور اندھے پیروکار لوگوں کے ذریعے، جو سب ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔

 

۔

 

4⃣ کیا خلافت ابوبکر بغیر کسی زور زبردستی کے قائم ہوئی؟

 

جواب : قبیلہ اسلم کے زور پر خلافت قائم کروائی گئی

 

▪️ ہمیشہ کسی بھی بغاوت میں ایسے جانثار اور ناسمجھ افراد ہونے چاہئیں جو رہنماؤں کے احکامات کو بغیر کسی چون و چرا کے انجام دیں۔ سقیفہ کی بغاوت میں بھی یہی صورت حال تھی۔ یعنی ایسے افراد کا ایک گروہ جو صرف دنیاوی مفادات کے پیچھے تھا اور بنیادی طور پر عقل و معرفت سے محروم تھا،

 

جہاں تک قبیلہ اسلم کا تعلق ہے تو ایک بڑا ہجوم بنی اسلم کے افراد کے عنوان سے، پہلے سے کی گئی منصوبہ بندی کے تحت شہر میں داخل ہوا تاکہ لوگوں کو زبردستی ابوبکر کی بیعت پر مجبور کرے۔

 

✍🏻 قبیلہ اسلم، جو قبائلی لوگ تھے، لاٹھیوں کے ساتھ مدینہ کے اطراف میں موجود تھے۔

 

ان لوگوں کی اوس اور خزرج کے ساتھ پرانی دشمنی تھی۔ عمر ان سے مدد لینے گیا، وہ سب لاٹھیاں لے کر آئے۔ جب وہ مدینہ اور بنی ہاشم کی گلی میں داخل ہوئے تو سب کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں۔

 

▪️شیخ مفید کہتے ہیں:

 

📜 وَأَخَذُوا بِأَيْدِيهِمُ الْخَشَبَ وَخَرَجُوا حَتَّى خَبَطُوا النَّاسَ خَبْطًا وَجَاءُوا بِهِمْ مُكْرَهِينَ إِلَى الْبَيْعَةِ

 

📃 اور انہوں نے اپنے ہاتھوں میں لکڑیاں لیں اور باہر نکل آئے، یہاں تک کہ لوگوں کو مارنے لگے اور انہیں زبردستی بیعت کے لیے لے آئے۔

 

📚 الجمل والنصرة لسيد العترة في حرب البصرة، ص 119

 

▪️اہل سنت مورخ طبری نے عمر کے حوالے سے یوں نقل کیا ہے:

 

📜 أَنَّ أَسْلَمَ أَقْبَلَتْ بِجَمَاعَتِهَا حَتَّى تَضَايَقَ بِهِمُ السُّكُكُ فَبَايَعُوا أَبَا بَكْرٍ فَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَسْلَمَ فَأَيْقَنْتُ بِالنَّصْرِ

 

📃 قبیلہ اسلم اپنے پورے گروہ کے ساتھ آیا، یہاں تک کہ ان کی کثرت کی وجہ سے مدینہ کی گلیاں تنگ ہوگئیں، اور انہوں نے ابوبکر کی بیعت کی۔ عمر کہا کرتے تھے: جب میں نے اسلم کو دیکھا تو مجھے فتح کا یقین ہوگیا۔

 

📚 تاریخ الطبری، ج 2، ص 244، دار الکتب العلمیۃ، بیروت

 

💯 قبیلہ اسلم کا آنا اور ان کی بیعت کرنا، عمر کے اعتراف کے مطابق، سقیفہ میں کامیابی کا سبب بنا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلم کی بیعت کو قبائلی قوت اور سماجی دباؤ کے طور پر استعمال کیا گیا، نہ کہ مشروعیت کی دلیل کے طور پر۔ کسی قبیلے کی مقبولیت ان کے سیاسی عمل کو مقدس نہیں بنا دیتی۔

 

⁉️ عمر بن خطاب کو فتح کا یقین آخر کس چیز سے حاصل ہوا؟ 

 

⁉️ کیا بات اجماع اور تمام لوگوں کی رائے کی نہیں ہو رہی تھی؟ 

 

⁉️ پھر ایک قبیلے کے داخل ہونے سے وہ بھی شہر سے باہر سے آنے والے قبیلے کے ذریعے عمر بن خطاب کو اپنی جماعت کی فتح کا یقین کیسے ہوگیا، اور وہ مسلسل اس کا اعلان بھی کیوں کرتے رہے؟!

 

⁉️ اہل سنت کے علماء نے یہ کیوں بیان کیا کہ بنی اسلم کے داخل ہونے سے ابوبکر کی جماعت مضبوط ہوگئی اور وہ کامیاب ہوگئے؟ 

 

⁉️ کیا بنی اسلم کا آنا ابوبکر کے انتخاب پر اثر انداز ہونے والا ایک بیرونی عامل تھا؟

 

⁉️ اگر ابوبکر کے انتخاب پر عمومی اجماع تھا تو پھر اس قبیلے کی موجودگی کا کیا اثر تھا؟!

 

۔

 

5⃣ مخالفین کو قتل کی دھمکیاں

 

▪️قسطلانی، عائشہ کے اس قول کے بارے میں کہ عمر نے بغاوت کی اور جب بھی خطبہ دیتے تو لوگوں کو دھمکاتے تھے، کہتے ہیں:

 

📜 فَقَالَتْ: (لَقَدْ خَوَّفَ عُمَرُ النَّاسَ) بِقَوْلِهِ: لَيَقْطَعَنَّ أَيْدِيَ رِجَالٍ

 

📃 عائشہ نے کہا: ’’عمر نے لوگوں کو خوف زدہ کیا‘‘، کیونکہ عمر نے کہا تھا کہ وہ کچھ لوگوں کے ہاتھ ضرور کاٹ دے گا۔

 

📚 إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، ج 6، ص 93، رقم 3669، ناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، ساتواں ایڈیشن، 1323ھ

 

 

▪️عمر بن خطاب نے واقعہ سقیفہ بنی ساعدہ کے دوران کہا تھا:

 

📜 "ہم اپنے مخالفین کو قتل کر دیں گے!"

 

👈 یہ بات کتاب المغازی میں مذکور ہے، جو موسیٰ بن عقبہ کی تصنیف ہے۔

 

اہلِ سنت کے محدثین اور مورخین کے نزدیک "المغازی" از موسیٰ بن عقبہ، رسولِ اکرم ﷺ کے غزوات اور ابتدائی اسلامی تاریخ پر لکھی گئی سب سے صحیح اور معتبر کتاب مانی جاتی ہے۔

 

▪️ لہٰذا اہلِ سنت کے معتبر ماخذ کے مطابق:

 

خلیفہ دوم عمر بن خطاب نے سقیفہ کے وقت خلافت کے مخالفین کے بارے میں کھلم کھلا قتل کی دھمکی دی تھی،

 

تاکہ ابوبکر کی بیعت کو بزور طاقت منوایا جا سکے۔

 

📚 المغازی از موسیٰ بن عقبہ (از قدیم‌ترین کتبِ سیر و تاریخ)

 

✅ اہلِ سنت کے نزدیک صحیح ترین کتاب المغازی

 

۔

 

✍️ اختتامِ کلام کے طور پر براء بن عازب کی ایک بات پیش کرتا ہوں، جو عمر اور ابوبکر کی قیادت میں قبیلہ اسلم کی بغاوت کے بارے میں ہے:

 

📜 فَكُنْتُ أَتَرَدَّدُ إِلَى بَنِي هَاشِمٍ وَهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحُجْرَةِ، وَأَتَفَقَّدُ وُجُوهَ قُرَيْشٍ، فَإِنِّي كَذَلِكَ إِذْ فَقَدْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَإِذَا قَائِلٌ يَقُولُ: الْقَوْمُ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، وَإِذَا قَائِلٌ آخَرُ يَقُولُ: قَدْ بُويِعَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمْ أَلْبَثْ؛ وَإِذَا أَنَا بِأَبِي بَكْرٍ قَدْ أَقْبَلَ وَمَعَهُ عُمَرُ وَأَبُو عُبَيْدَةَ وَجَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ السَّقِيفَةِ، وَهُمْ مُحْتَجِزُونَ بِالْأُزُرِ الصَّنْعَانِيَّةِ، لَا يَمُرُّونَ بِأَحَدٍ إِلَّا خَبَطُوهُ، وَقَدَّمُوهُ فَمَدُّوا يَدَهُ فَمَسَحُوهَا عَلَى يَدِ أَبِي بَكْرٍ يُبَايِعُهُ، شَاءَ ذَلِكَ أَوْ أَبَى؛ فَأَنْكَرْتُ عَقْلِي، وَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَالْبَابُ مُغْلَقٌ، فَضَرَبْتُ عَلَيْهِمُ الْبَابَ ضَرْبًا عَنِيفًا وَقُلْتُ: قَدْ بَايَعَ النَّاسُ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ.

 

📃 میں بنی ہاشم کے پاس آتا جاتا تھا، جبکہ وہ حجرے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، اور قریش کے سرکردہ لوگوں کے چہروں کا جائزہ لیتا رہتا تھا۔ اسی دوران مجھے ابوبکر اور عمر نظر نہ آئے۔ کسی کہنے والے نے کہا: ’’یہ لوگ سقیفۂ بنی ساعدہ میں ہیں۔‘‘ اور ایک دوسرے شخص نے کہا: ’’ابوبکر کی بیعت کرلی گئی ہے۔‘‘ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ میں نے دیکھا ابوبکر، عمر، ابوعبیدہ اور اصحابِ سقیفہ کی ایک جماعت کے ساتھ آ رہے ہیں۔ انہوں نے صنعانی چادریں باندھ رکھی تھیں۔ وہ جس شخص کے پاس سے گزرتے، اسے مارتے اور آگے لاتے، پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر ابوبکر کے ہاتھ پر رکھ دیتے کہ وہ اس کی بیعت کرے، خواہ وہ اس پر راضی ہو یا نہ ہو۔

 

یہ دیکھ کر میری عقل حیران رہ گئی۔ میں تیزی سے نکلا اور بنی ہاشم کے پاس پہنچا۔ دروازہ بند تھا، میں نے زور سے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا: ’’لوگوں نے ابوبکر بن ابی قحافہ کی بیعت کرلی ہے۔‘‘

 

📚 نثر الدر في المحاضرات، ج 1، ص 278، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1424ھ/2004ء، طبع اول، تحقیق: خالد عبدالغنی محفوظ

📚 شرح نهج البلاغة، ج 1، ص 137

 

⁉️ تو اب سوال یہ ہے کہ اس میں اجماع کہاں ہے؟

 

⁉️ اور اتنی زبردستی اور دھمکیاں کہ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کے گھر کو آگ لگا دی گئی کیا اسے قلبی رضامندی اور اجماع کہا جاسکتا ہے؟

 

⁉️آخر ایک آزاد اور جمہوری انتخاب کے لیے اتنا شور، ہنگامہ اور دھمکی کیوں ضروری تھی؟

 

⁉️ کیا اہل سنت کا دعویٰ نہیں کہ ابوبکر پر عمومی اجماع تھا؟ پھر یہ دھمکیاں کس لیے تھیں؟

 

⁉️ آخر عمر کو کس لوگوں کی پشت پناہی حاصل تھی کہ وہ اتنی جرأت کا مظاہرہ کر رہے تھے؟

 

⁉️ اصحابِ سقیفہ کون لوگ تھے جو اس طرح ابوبکر اور عمر کی حمایت کر رہے تھے اور زبردستی بیعت لے رہے تھے؟!

 

⁉️ قبیلہ اسلم کے لوگوں کا آنا، آخر خلافت پر نص کہاں سے بن گیا؟

 

۔

 

✅ خلافت کے مسئلے کو غدیر اور ثقلین جیسی رسول اللہ ﷺ کی نصوص کی روشنی میں پرکھنا چاہیے، نہ کہ ایسی قبائلی بیعتوں کے ذریعے جو زبردستی، مارپیٹ، لکڑیوں اور لاٹھیوں اور رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کے گھر کو آگ لگانے کے ساتھ حاصل کی گئی ہوں۔ یہ چیزیں ان افراد کے ار/تداد پر دلالت کرتی ہیں، خلافت پر نص ہونے کی دلیل نہیں۔

 

والسلام۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15