🌏🌏 بنو امیہ عرب نہیں تھے، لہٰذا قریش میں سے بھی نہیں تھے!
🎆🎇 معاویہ کے نام ایک خط ایسا ہے جو اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کی کتابوں میں نقل ہوا ہے، اور اس کا جواب امام علی علیہ السلام کی طرف سے بھی منقول ہے۔ ہمیں اس جواب سے یہ حصہ مطلوب ہے:
🎆 "اور جہاں تک تمہارا یہ کہنا ہے کہ ہم بنو عبد مناف ہیں، تو ہم بھی اسی خاندان سے ہیں۔ لیکن امیہ، ہاشم جیسا نہیں؛ حرب، عبدالمطلب جیسا نہیں؛ ابو سفیان، ابو طالب جیسا نہیں؛ مہاجر، طلیق (آزاد کیے گئے شخص) جیسا نہیں؛ اور صریح (خالص و واضح النسب) لَصیق (ملحق کیے گئے شخص) جیسا نہیں۔"
🎇 یہاں امام علی علیہ السلام واضح طور پر یہ بیان کر رہے ہیں کہ معاویہ کا نسب مشکوک تھا۔ کیونکہ "صریح" کا معنی ہے: خالص، واضح اور بے آمیزش نسب والا؛ جبکہ "لَصیق" سے مراد ہے: کسی کے ساتھ ملایا یا منسوب کیا گیا شخص۔
اب ہم یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ امیہ کون تھا جس کی طرف ابو سفیان، معاویہ، یزید، عثمان وغیرہ اپنا نسب منسوب کرتے ہیں۔
🎆 عبد شمس بن عبد مناف، جو ہاشم بن عبد مناف کا بھائی تھا، نے اپنے ایک رومی غلام کو، جس کا نام امیہ بتایا جاتا ہے، اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا، اور عبد شمس نے اسے اپنی طرف منسوب کر دیا۔ چنانچہ اسے امیہ بن عبد شمس کہا جانے لگا اور اس کی نسل بھی اسی نسبت سے آگے چلتی رہی۔ لہٰذا بنو امیہ کی اصل رومیوں سے تھی۔
🎆 شیخ کورانی رحمہ اللہ بھی امام علی علیہ السلام کے مذکورہ جواب کو نقل کرنے کے بعد اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
🎇 "شاید امام علیہ السلام کے کلام میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بنو امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف ہی اصل امیہ نہیں تھے۔ اور روایت کیا گیا ہے کہ امیہ بانجھ تھا اور اس کی اولاد اس کے رومی غلام ذکوان سے ہوئی تھی!"
اب ہمارے سامنے پوری تصویر واضح ہو گئی:
اولاً: عبد شمس کے پاس امیہ نامی ایک رومی غلام تھا، جسے اس نے اپنے خاندان سے ملا لیا تھا۔ قدیم عربوں میں یہ معمول تھا کہ وہ غلاموں کو اپنے خاندان سے منسوب کر دیتے تھے۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امیہ رومی تھا، عرب نہیں۔
ثانیاً: امیہ بانجھ تھا، اس لیے اس کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہو سکتی تھی، بلکہ اس کی نسل اس کے رومی غلام ذکوان سے ہوئی۔
لہٰذا بنو امیہ کی پوری اصل رومی تھی، وہ عرب بھی نہیں تھے اور قریش میں سے بھی نہیں تھے۔
Gallery
Tap any image to view full screen