🔴 بیت المال کو زاتی جاگیر سمجھنے والے، خود بیت المال کی حرمت کا دعویٰ کرتا ہے
تم شیعہ جانتے ہو کہ فدک پر قبضے کی خلیفہ وقت کی زبانی ایک دلیل یہ بتائی جاتی ہے کہ فدک بیت المال تھا اور حق الناس میں شامل تھا، اسی بہانے اس نے ہماری ماں حضرت صدیقۂ طاہرہ، امّ المؤمنین، خاتونِ فاطمۂ شہیدہ، زہرائے اطہرؑ سے فدک غصب کیا۔
اب جبکہ انکے دعوی سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ خلیفہ وقت کو عوام کے حقوق کا بہت خیال تھا،
❓تو ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا واقعی ایسا ہی تھا؟
❓کیا وہ بیت المال کا اتنا ہی خیر خواہ تھا ؟
❓ یا انکا مقصد اصلاً نہ بیت المال خیر خواہی تھا اور نہ ہی حق الناس اس کے لیے کوئی اہمیت رکھتا تھا؟
پس اسے جاننے کیلئے ہماری نظر ان روایات پر پڑی کہ اس کا مقصد لوگوں کے حقوق کی حفاظت نہیں تھا، بلکہ انکا کام خود بیت المال کو زاتی جاگیر سمجھنا، ظلم و ستم اور مظلو///موں کے حقوق کو پامال کرنا تھا۔
محمد بن سعد اپنی کتاب طبقات میں لکھتا ہے:
📜 مسلم بن ابراہیم، ہشام دستوائی کے واسطے سے، عطا بن سائب سے نقل کرتا ہے کہ جب پہلا صاحب خلیفہ بنا تو ایک صبح وہ چند کپڑے اپنے کندھے پر رکھ کر بازار جانے لگا۔ راستے میں عمر بن خطاب اور ابو عبیدہ بن جراح نے اسے دیکھا اور کہا: اے رسولِ خدا کے خلیفہ! کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا: بازار۔ انہوں نے پوچھا: وہاں کیا کرو گے؟ تم تو مسلمانوں کے امور کے ذمہ دار بن چکے ہو۔ خلیفہ وقت نے کہا: پھر میرے اہل و عیال کہاں سے کھائیں گے؟ انہوں نے کہا: واپس آؤ تاکہ ہم تمہارے لیے ایک وظیفہ مقرر کریں۔ چنانچہ اس کے لیے روزانہ آدھی بکری اور ایک مخصوص لباس مقرر کر دیا گیا۔ عمر نے کہا: فیصلے کا کام میرے ذمے ہو، اور ابو عبیدہ نے کہا: غنائم کی نگرانی میرے سپرد ہو۔
📚 الطبقات الکبریٰ، جلد 3، صفحہ 168
⭕ روایت کی سند کا جائزہ:
1. مسلم بن ابراہیم ازدی: ثقہ اور قابلِ اعتماد۔
2. ہشام بن ابی عبداللہ دستوائی: ثقہ، ثبت، اگرچہ اس پر قدری ہونے کا الزام لگایا گیا۔
3. عطا بن السائب ثقفی: صدوق، حسن الحدیث۔
🔴 اگلی روایت:
📜 عمرو بن میمون اپنے والد سے نقل کرتا ہے کہ جب پہلا صاحب خلیفہ بنا تو اس کے لیے دو ہزار درہم وظیفہ مقرر کیا گیا۔ خلیفہ وقت نے کہا: یہ رقم بڑھاؤ، کیونکہ میں عیال دار ہوں اور تم نے مجھے اپنے کام سے بھی روک دیا ہے۔ پس اس کے وظیفے میں مزید پانچ سو درہم کا اضافہ کر دیا گیا۔ راوی کہتا ہے: یا یہی تھا یا کل ڈھائی ہزار درہم تھے، پھر اس میں مزید پانچ سو درہم بڑھا دیے گئے۔
📚 الطبقات الکبریٰ، جلد 3، صفحہ 169
⭕ اس روایت کی سند کا جائزہ:
1. احمد بن عبداللہ بن یونس: ثقہ، حافظ۔
2. ابو بکر بن عیاش اسدی: صدوق، حسن الحدیث۔
3. عمرو بن میمون بن مہران جزری: ثقہ۔
4. میمون بن مہران جزری: ثقہ، فقیہ۔
⭕ البتہ اس سلسلے میں ایک شریکِ جرم بھی تھا، بلکہ اصل شریک وہی تھا جو اسے اس کام کی اجازت دیتا تھا۔
📜 قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا بَكْرٍ الْوَفَاةُ قَالَ لِعَائِشَةَ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ أَنْ أُصِيبَ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَيْئًا، فَلَمْ يَدَعْنِي ابْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى أَصَبْتُ مِنْهُ سِتَّةَ آلَافٍ، وَإِنَّ حَائِطِي الَّذِي بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا فِيهَا، قَالَ: فَلَمَّا قُبِضَ بُعِثَتْ عَائِشَةُ إِلَى عُمَرَ، فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكِ، لَقَدْ أَحَبَّ أَنْ لَا يَدَعَ لِأَحَدٍ بَعْدَهُ مَقَالَا، وَإِنِّي وَلِيُّ الْأَمْرِ بَعْدَهُ وَقَدْ رَدَدْتُهَما عَلَيْكُمْ۔
📃 راوی کہتا ہے: ہم سے یزید بن ہارون نے روایت بیان کی، وہ ابنِ عون سے، وہ ابنِ سیرین سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
جب خلیفہ وقت کی وفات کا وقت آیا تو اس نے عائشہ سے کہا:
“میں نہیں چاہتا تھا کہ اس مال (بیت المال) میں سے کچھ لوں، مگر ابنِ خطاب نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا یہاں تک کہ میں نے اس میں سے چھ ہزار لے لیے۔
👈 اور ایک باغ جو فلاں فلاں جگہ پر ہے، وہ بھی اسی میں شامل ہے۔”
راوی کہتا ہے: پھر جب ان کا انتقال ہو گیا تو عائشہ نے عمر کے پاس پیغام بھیجا اور اسے یہ بات بتائی۔ تو عمر نے کہا:
“اللہ تمہارے باپ پر رحم فرمائے، وہ یہ پسند کرتا تھا کہ اپنے بعد کسی کے لیے کوئی بات باقی نہ چھوڑے۔ اور اب میں اس کے بعد امور کا والی ہوں، اور میں نے وہ دونوں چیزیں تمہیں واپس لوٹا دی ہیں۔”
📚 کتاب: کتاب الاموال، مؤلف: ابو عبید قاسم بن سلام، جلد 1، صفحہ 382۔
ان روایات اور بیت المال کے ذاتی استعمال کو دیکھتے ہوئے ایک اور اہم بات بھی ثابت ہوتی ہے، وہ یہ کہ خلیفہ ایک غریب اور محتاج شخص تھا۔ جو محنت مزدوری کرنا چاہتا تھا گھر والوں کا پیٹ پالنے کیلئے مگر ایک شخص نے آسان راستہ بتایا پھر یہاں تک کہ مختصر عرصے میں جناب کے باغات بھی تھے
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen