🔴 حدیث لانورث باطل ہے 🔴
▪️حافظ ابن عدی نے حافظ ابن خراش کی سوانح میں (وفات 283ھ) ذکر کیا ہے کہ انہوں نے دو جلدیں مثالب الشیخین میں تصنیف کیں اور کہا:
📜 قال: سمعت عبدان يقول: قلت لابن خراش حديث ما تركنا صدقة ؟ قال: باطل، أنهم مالك بن أوس بالكذب
📃 “میں نے عبدان سے سنا، میں نے ابن خراش سے پوچھا: ‘حدث ما تركنا صدقة؟’، تو انہوں نے کہا: باطل ہے، یہ مالک بن اوس کا جھوٹ ہے”
📚 الكامل في ضعفاء الرجال 518/2
📚 سير أعلام النبلاء، ذهبی 13/510
▪️مزید انکے بارے میں لکھا ہے کہ
📜 وسمعت عَبد الملك بن مُحَمد أبا نعيم يثني على بن خراش هذا وقال ما رأيتُ أحفظ منه لا يذكر له شيخ من الشيوخ والأبواب إلا مر فيه.
وابن خراش هذا هو أحد من يذكر بحفظ الحديث من حفاظ العراق وكان له مجلس مذاكرة لنفسه على حدة إنما ذكر عنه شيء من التشيع كما ذكره عبدان فأما الحديث فأرجو أنه لا يتعمد الكذب
📃 میں نے عبد الملک بن محمد ابا نعیم کو سنتے ہوئے سنا کہ وہ ابن خراش کی تعریف کر رہے تھے اور کہتے تھے:
“میں نے ان سے زیادہ حافظ نہیں دیکھا، وہ کسی بھی شیخ یا باب کو یاد کیے بغیر نہیں گزرتے۔”
یہ ابن خراش وہی شخص ہے جو عراق کے حافظین حدیث میں شمار ہوتا تھا، اور ان کا ایک الگ مطالعہ کا مجلس تھا۔ عبدان کے مطابق، ان سے متعلق کچھ تشّیع کے بارے میں ذکر آیا، لیکن حدیث کے حوالے سے امید کی جاتی ہے کہ وہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے تھے۔
📚الكامل في ضعفاء الرجال 518/2
▪️ اسی طرح نے بھی نقل کیا
📜 قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ بنُ عَدِيٍّ: مَا رَأَيْتُ أَحَداً أَحْفَظ مِن ابْن خِرَاش.
وَقَالَ ابْنُ عَدِيّ: قَدْ ذُكر بِشَيْءٍ مِن التَّشَيُّع، وَأَرْجُو أَنَّهُ لاَ يتعمَّد الْكَذِب.
📃 ابو نعیم بن عدی کہتے ہیں:
“میں نے ابنِ خراش سے زیادہ یاد رکھنے والا (حافظ) کوئی نہیں دیکھا۔”
اور ابنِ عدی کہتے ہیں:
“اس کے بارے میں کچھ تشیّع کا ذکر کیا گیا ہے، اور مجھے امید ہے کہ وہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا تھا۔”
📚 سير أعلام النبلاء، ذهبی 13/508
♦️ اچھا ایک بات تو واضح ہوئی کہ یہ
👈 حافظ تھے اور جھوٹے نہیں تھے
❌ مگر کہا گیا کہ یہ شیعہ اور رافضی تھے
✅ تو یہ صرف الزام ہے ، یہ تو اہل سنت علم رجال کے محدثین کا کام رہا ہے جو بھی سچی بات کر دے بس یہ الزام لگا کر جان بچاؤ اپنی ورنہ عام اصول ہے کہ شیعہ یا رافضی ہونا کوئی جرح نہیں ہے جیسا کہ بخاری مسلم میں بھی شیعہ و رافضی راوی موجود ہیں
اور بڑے بڑے صحابہ شیعہ اور رافضی تھے جن میں سے ایک ملاحظہ کریں 👇
⭕ ذهبی کی نظر ابن خراش کی حدیث “ما تركناه الصدقة” پر:
ذهبی ان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
ابن خراش (جو اصل میں اہل سنت کے بڑے علماء میں سے تھے) نے جب اس حدیث لانورث کے بارے میں کہا کہ “یہ حدیث باطل ہے۔” تو ذہبی ابن خراش پر سخت برہم ہو جاتے ہیں اور تنقید کرتے ہیں کہ اس نے یہ کیوں کہا کہ یہ حدیث باطل ہے۔
⭕ خراش کا حدیث لانورث کو باطل کہنے پر ذھبی نے دیکھیں کس طرح اپنا چہرہ دکھایا
لکھتا ہے
📜 قلت: هذا والله الشيخ المعثر الذي ضل سعيه، فإنه كان حافظ زمانه، وله الرحلة الواسعة، والاطلاع الكثير والاحاطة، وبعد هذا فما انتفع بعلمه، فلا عتب على حمير الرافضة وحواثر جزين ومشغرا.
📃 میں کہتا ہوں: یہ، اللہ کی قسم، وہی لغزش کھانے والا شیخ ہے جس کی محنت ضائع ہو گئی۔ حالانکہ وہ اپنے زمانے کا حافظ تھا، اس نے وسیع سفر کیے تھے، اسے بہت زیادہ معلومات اور کامل احاطہ حاصل تھا۔ اس سب کے باوجود وہ اپنے علم سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا، لہٰذا رافضیوں کے گدھوں اور جزین و مشغرا کے کھُروں پر کوئی ملامت نہیں
📚 میزان العتدال ج۲ ص۲۰۰
▪️ پھر ایک دوسری جگہ اپنا غصہ نکالتے ہیں ابن خراش پر اور لکھتے ہیں
📜 اے ماہر حافظ اے ابن خراش ! تم نے اپنا پیشاب پیا، تم زندیق ہو، حق کے مخالف ہو، خدا تم سے راضی نہ ہو۔ ابن خراش بغیر رحمت خدا کے دنیا سے رخصت ہو
https://shamela.ws/book/1583/482
♦️ وہ یہاں ابن خراش کو تو زندیق و مرتد وغیرہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس نے کہا کہ حدیث “ما تركناه الصدقة” باطل ہے۔
👈 مگر جب بات عبد الرزاق، استاد بخاری کی آتی ہے، تو وہ فرماتے ہیں:
📜 لو ارتد عبد الرزاق عن الإسلام ما تركنا حديثه
📃 “اگر عبد الرزاق اسلام سے مرتد بھی ہو جائے، تب بھی ہم اس کی حدیث کو رد نہیں کریں گے۔”
📚 تذكرة الحفاظ، ذهبی، جلد 3، صفحہ 930
📚 سير أعلام النبلاء، ذهبی، جلد 9، صفحہ 573
📚 ميزان الاعتدال، ذهبی، جلد 2، صفحہ 612
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اہل سنت میں رجال اور حدیث قبول کرنے میں کتنا تضاد ہے
👈 ایک طرف ابن خراش کے خلاف سخت تنقید، اور دوسری طرف کوئی زندیق و اسلام سے مرتد بھی ہو جائے تو اس کی روایات قبول کرتے ہیں۔
اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کہ انہوں نے خارجیوں کی روایات کو تو قبول کیا مگر اگر کوئی شیعہ یا رافضی چاہے وہ سچا ہو اسکو رد کر دیا
جیسا کہ اسی ذھبی نے اپنی کتاب میں لکھا کہ
📜 عجلی کہتے ہیں: یہ تابعی اور ثقہ ہے امام ابوداؤد کہتے ہیں :
👈 دوسرے فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں سب سے زیادہ احادیث خارجیوں سے منقول ہیں
📚 میزان العتدال ج5 ص287
جب بندا حق سے دور ہو جائے تو اسلام سے مرتد و خارجیوں کے دین لینے میں بُرائی کیوں سمجھے گا ؟
حدیث لانورث کو باطل کہنے پر ذھبی نے دیکھیں کس طرح اپنا چہرہ دکھایا
📜 قلت: هذا والله الشيخ المعثر الذي ضل سعيه، فإنه كان حافظ زمانه، وله الرحلة الواسعة، والاطلاع الكثير والاحاطة، وبعد هذا فما انتفع بعلمه، فلا عتب على حمير الرافضة وحواثر جزين ومشغرا.
📃 میں کہتا ہوں: یہ، اللہ کی قسم، وہی لغزش کھانے والا شیخ ہے جس کی محنت ضائع ہو گئی۔ حالانکہ وہ اپنے زمانے کا حافظ تھا، اس نے وسیع سفر کیے تھے، اسے بہت زیادہ معلومات اور کامل احاطہ حاصل تھا۔ اس سب کے باوجود وہ اپنے علم سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا، لہٰذا رافضیوں کے گدھوں اور جزین و مشغرا کے کھُروں پر کوئی ملامت نہیں
📚 میزان العتدال ج۲ ص۲۰۰
اس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن اتنے پر ہی احتتام کرتا ہوں
📎 بدر علی
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen