🔴 فدک: میراث و ملکیتِ سیدہؑ 🔴
علامہ ابوالفتح محمد بن عبدالکریم شہرستانی امت کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
📜 الخلاف السادس: في أمر فدك والتوارث عن النبي ﷺ، ودعوى فاطمة عليها السلام وراثةً تارةً، وتمليكًا أخرى، حتى دُفِعت عن ذلك بالرواية المشهورة عن النبي ﷺ:
نحن معاشر الأنبياء لا نورث، ما تركناه صدقة
📃 ’’چھٹا اختلاف فدک اور رسولِ اکرم ﷺ کی میراث کے مسئلے پر ہوا۔ حضرت فاطمہؑ نے کبھی میراث کے طور پر دعویٰ کیا اور کبھی اس بنیاد پر کہ رسولِ خدا ﷺ نے فدک انہیں بطورِ ملکیت عطا فرمایا تھا۔
یہ دعویٰ نبی ﷺ سے منسوب اس مشہور روایت کے ذریعے رد کیا گیا:
نحن معاشر الأنبياء لا نورث، ما تركناه صدقة
(ہم گروہِ انبیاء وارث نہیں چھوڑتے، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے)۔‘‘
📚 امام ابو الفتح محمد بن عبدالکریم شہرستانی
الملل و النحل، ص 25
InvisibleIslam.com
Gallery
Tap any image to view full screen