Back to فدک

امام موسیٰ کاظم (ع) کے توسط سے "فدک" کی حدبندی

امام موسیٰ کاظم (ع) کے توسط سے "فدک" کی حدبندی
امام موسیٰ کاظم (ع) کے توسط سے "فدک" کی حدبندی
امام موسیٰ کاظم (ع) کے توسط سے "فدک" کی حدبندی
امام موسیٰ کاظم (ع) کے توسط سے "فدک" کی حدبندی
امام موسیٰ کاظم (ع) کے توسط سے "فدک" کی حدبندی
امام موسیٰ کاظم (ع) کے توسط سے "فدک" کی حدبندی

🔴 امام موسیٰ کاظم (ع) کے توسط سے "فدک" کی حدبندی

 

▪️زمخشری کهتے هیں: 

 

📜 " هارون رشید نے امام موسی بن جعفر(ع) سے عرض کی: اے ابوالحسن: آپ فدک کی سرحد معین فرمائیے تاکه هم اسے آپ کو واپس لوٹا دیں- 

 

حضرت(ع) نے اس کام سے انکار کیا، یهاں تک هارون نے اصرار کیا، 

 

تو امام(ع) نے فرمایا: "اگر میں اسکی حقیقی سرحدیں مشخص کروں تو تم اسے واپس نهیں کرو گے: 

 

هارون نے کها: اس کی حدود کهاں تک هیں؟ حقیقت اور سنجیدگی کے ساتھ اس کو مشخص کیجئے- 

 

لهٰزا امام(ع) نے فرمایا: اس کی پهلی سرحد عدن تک هے- 

 

یه سن کر هارون کے چهرے کا رنگ بدل گیا اور اس نے کها: اپنے بیان کو جاری رکھئے- 

 

امام(ع) نے فرمایا: اس کی دوسری سرحد سمرقند هے- 

 

یه سن کر هارون کا چهره تاریک هو گیا- 

 

امام(ع) نے فرمایا: اس کی تیسری سرحد افریقه هے، یه سن کر هارون کا رنگ سیاه هو گیا- اس نے کها جاری رکھئے- 

 

امام(ع) نے فرمایا اس کی چوتھی سرحد خزر اور ارمنستان تک پھیلی هوئی هے- 

 

یهاں پر هارون نے کها: آئیے اور میری جگه پر بیٹھئے: اس طرح تو همارے لئے کوئی چیز باقی نهیں رهتی هے- 

 

امام(ع) نے فرمایا: میں نے تو تم سے کها تھا که اگر "فدک" کی سرحدیں معین کروں گا تو تم اسے همیں واپس نهیں لوٹا دو گے

 

اسی بنا پر هارون نے امام(ع) کو قتل کرنے کا فیصله کیا- 

 

📚 ربیع الأبرار، ج 1، ص 259،260

 

🔴 جب ہارون الرشید نے فدک کو خاندانِ رسولؐ کو واپس کرنے کا ارادہ کیا تو اس کی حقیقی حدود (عدن سے سمرقند تک) سن کر اسے معلوم ہوا کہ اس کی پوری سلطنت ہی آلِ محمدؐ کا حق ہے۔

 

📜 ہارون الرشید نے خاندانِ رسولؐ پر اپنے پیش روؤں کے ظلم پر ندامت محسوس کرنے کے بعد حضرت فاطمہؑ کی اولاد میں سے ایک فرد کو بلایا تاکہ باغِ فدک کی حدود متعین کرے اور اسے اس کے اصل مالکان کو واپس کر دے۔ لیکن جب اس سید نے حدود بیان کرنا شروع کیں تو واضح ہوا کہ ان میں عدن، سمرقند، افریقی مغرب اور بحرِ ارمنستان شامل ہیں، جو درحقیقت ہارون الرشید کی پوری سلطنت پر محیط تھیں۔ ہارون نے غصے کے ساتھ سمجھ لیا کہ اس دعوے کے مطابق اس کی پوری سلطنت بحقِ خود فاطمہؑ کی اولاد کی ہے اور عباسی خلفاء نے خاندانِ رسولؐ کے حقوق غصب کیے ہیں۔ سید نے اسے یاد دلایا کہ اس نے ابتدا ہی میں خبردار کیا تھا کہ ہارون ان حدود کو قبول نہیں کرے گا۔

 

📚 The Ismailis in the Middle Ages: A History of Survival, A Search for Salvation

 

بدر علی

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6