Back to فدک

شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟

شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟
شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟
شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟
شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟
شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟
شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟
شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟
شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟
شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟
شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟
شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟
شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟
شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟
شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟

🔴 شیعہ فقہ میں عورت زمین سے میراث نہیں پاتی؟

 

▪️ نواسب کا کہنا ہے کہ شیعہ فقہ کی روایات (عورت زمین سے میراث نہیں پاتی) کے مطابق فاطمہ رضی اللہ عنها کو یہ حق نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی الله علیه وآله سے ارث کا دعویٰ کریں۔

 

دلیل الکافی کے باب اور اس میں موجود روایت کے اس جملے سے پیش کرتے ہیں

 

📜 أن النساء لا يرثن من العقار شيئا

📃 عورتیں جائیداد میں سے کچھ ارث نہیں پاتیں

 

۔

 

✅ جواب ✅

 

▪️یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ

 

❓ یہاں عورت سے مراد کون ہے؟

❓ کیا یہ تمام عورتوں پر لاگو ہوتا ہے؟

❓ یا کچھ مخصوص عورتیں مراد ہیں؟ 

❓ کیا اس میں مرد کی بیٹی بھی شامل ہے؟

 

✅ اس سوال کے جواب کے لیے ہم امام صادق ع کی صحیح السند روایت کرتے ہیں کہ جس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ نساء سے مراد کون ہیں۔

 

▪️شیخ صدوق لکھتے ہیں کہ

 

📜 5750- وَ فِي رِوَايَةِ الْحَسَنِ بْنِ مَحْبُوبٍ عَنِ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ‌ لَا يَرِثْنَ النِّسَاءُ مِنَ الْعَقَارِ شَيْئاً وَ لَهُنَّ قِيمَةُ الْبِنَاءِ وَ الشَّجَرِ وَ النَّخْلِ. يَعْنِي بِالْبِنَاءِ الدُّورَ 

👈 وَ إِنَّمَا عَنَى مِنَ النِّسَاءِ الزَّوْجَة

 

▪️شیخ خُر عاملی نے بھی نقل کیا

 

📜 [32851] مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بِإِسْنَادِهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مَحْبُوبٍ عَنِ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا يَرِثْنَ النِّسَاءُ مِنَ الْعَقَارِ شَيْئاً وَ لَهُنَّ قِيمَةُ الْبِنَاءِ وَ الشَّجَرِ وَ النَّخْلِ يَعْنِي (مِنَ الْبِنَاءِ) الدُّورَ 

👈 وَ إِنَّمَا عَنَى مِنَ النِّسَاءِ الزَّوْجَةَ

 

♦️ ترجمہ 

 

📃 محمد بن علی بن الحسین نے اپنی سند کے ساتھ حسن بن محبوب، احول، سے امام صادقؑ سے روایت کی۔ انہوں نے فرمایا: “عورتیں زمین (عقار) سے کچھ وراثت نہیں پاتیں، البتہ انہیں عمارت، درخت اور کھجور کے درخت کی قیمت دی جاتی ہے۔ 

👈 اور ‘عمارت’ سے مراد گھروں کی عمارت ہے۔ 

👈 اور عورتوں سے مراد زوجہ ہے۔ ”

 

📚 من لا يحضره الفقيه نویسنده : الشيخ الصدوق جلد : 4 صفحه : 348

 

📚 وسائل الشیعہ، جلد 26، صفحہ 211

باب 6 کہ زوجہ کو زمین سے وراثت نہیں ملتی

 

۔

 

▪️دیکھیں کہ یہ کتنے عجیب ہے کہ روایات میں آیا ہے کہ عورتیں یعنی ازواج مردوں سے زمین یعنی صرف غیر منقولہ سے ارث نہیں پاتیں۔ 

 

⭕ کیا یہ وہابی/ناسبی اتنا شعور نہیں رکھتے کہ سمجھ سکیں کہ بھئی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا رسول کی بیٹی ہیں، نہ کہ رسول کی بیوی۔ 

 

💯 لہذا اسے دلیل بنایا ہی بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں

 

⭕ اصل میں نواسب جان بوجھ کر اپنی کم علمی کا مظاہرہ کرتے ہیں ورنہ سب جانتے ہیں کہ الکافی یہ باب ہی 👈 عورتوں یعنی ازواج 👉 کی میراث کے متعلق ہے 

 

👈 لہذا جب بات ہی ازواج کی ہو رہی ہے تو اولاد کی وراثت پر اعتراض کرنا جہا/لت ہے

 

۔

 

🔴 نواسب کا اعتراض کہ روایات میں لفظ النساء آیا ہے جو زوجہ ، بیٹی ، ماں یعنی سب عورتوں کے لئے استعمال ہوتا ہے 

 

✅ جواب ✅

 

👈 قرآن میں سورہ النساء میں جگہ جگہ صرف زوجہ کے لیے لفظ النساء استعمال ہوا ہے، 

 

اور جب ہمارے پاس صحیح سند روایات وضاحت کہ لئے موجود ہے اور دیگر روایات خود گواہ ہیں تو یہ کوئی دلیل نہیں بنتی 

 

▪️جیسا کہ اسی باب میں دیگر روایات سے ظاہر ہے کہ یہاں ازواج کی بابت روایات نقل ہوئی ہیں 

 

📜 عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع‌ أَنَّ الْمَرْأَةَ لَا تَرِثُ مِمَّا تَرَكَ زَوْجُهَا مِنَ الْقُرَى وَ الدُّورِ وَ السِّلَاحِ وَ الدَّوَابِّ شَيْئاً

 

📚 الكافي- ط الاسلامية نویسنده : الشيخ الكليني جلد : 7 صفحه : 127

 

📜 عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع وَ مِنْهُمْ مَنْ رَوَاهُ عَنْ أَحَدِهِمَا ع‌ أَنَّ الْمَرْأَةَ لَا تَرِثُ مِنْ تَرِكَةِ زَوْجِهَا

 

📜 الكافي- ط الاسلامية نویسنده : الشيخ الكليني جلد : 7 صفحه : 128

 

👈 لفظ زوجھا پر نظر کریں زرا کہ باب ہی ازواج کی میراث کے متعلق ہے

 

اگر اب بھی عقل میں بات نہیں بیٹھی تو بخاری ایک باب کا عنوان کتاب الفرائض میں یہ دیتے ہیں:

 

📜 بَابُ مِيرَاثِ المَرْأَةِ وَالزَّوْجِ مَعَ الوَلَدِ وَغَيْرِهِ

 

📚 صحیح بخاری کی جلد 8 ص 152

 

اور ادھر لفظ المَرْأَةِ آیا ہے لیکن یہاں مراد بیوی کو لیا گیا ہے تو جس منطق کے تحت آپ جواب دیں گے وہی ہمارا جواب سمجھئے

 

۔

 

✅ جواب نمبر 2 ✅

 

فدک حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا ارث نہیں تھا

بلکہ ان کا حق، ان کی ملکیت اور رسول اللہ کی طرف سے دی ہوئی ہدیہ تھی۔

 

دلیل ملاحظہ کریں

 

📜 بزار، ابو یعلیٰ، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: "اور قرابت دار کو اس کا حق دے دو"

تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کو بلایا اور انہیں فدک عطا کر دیا۔

 

📚 أبو يعلى الموصلي - مسند أبي يعلى - ومن مسند أبي سعيد الخدري الجزء : ( 2 ) - رقم الصفحة : ( 334 )

 

♦️ (اس پر تفصیل سے ہم آگے جا کر گفتگو کریں گے ابھی کیوں کہ جعلی حدیث لانورث پر گفتگو چل رہی ہے ، یہ پوسٹ بھی اسی تناظر میں ہے)

 

۔

 

۔

⭕ بیٹی کا جائیداد سے میراث پانا ⭕

 

روایت ملاحظہ کریں 

 

📜 وعنهم عن سهل، عن علي بن الحكم، عن أبان الأحمر قال: لا أعلمه إلا عن ميسر بياع الزطي، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: سألته عن النساء ما لهن من الميراث؟ قال: لهن قيمة الطوب والبناء والخشب والقصب، فأما الأرض والعقارات فلا ميراث لهن فيه قال: قلت: فالبنات؟ قال: البنات لهن نصيبهن منه قال: قلت: كيف صار ذا ولهذه الثمن ولهذه الربع مسمى؟ قال: لأن المرأة ليس لها نسب ترث به وإنما هي دخيل عليهم إنما صار هذا كذا لئلا تتزوج المرأة فيجئ زوجها أو ولدها من قوم آخرين فيزاحم قوما آخرين في عقارهم. 

 

📃 ابو عبدالله علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں:

 

میں نے ان سے پوچھا:

عورتوں کا میراث میں کیا حق ہے؟

 

فرمایا:

عورتوں کے لیے اینٹ، عمارت، لکڑی اور نَے کی قیمت ہے،

لیکن جہاں تک زمین اور جائیداد کا تعلق ہے،

ان میں عورتوں کا کوئی میراث نہیں۔

 

میں نے پوچھا:

تو بیٹیاں؟

 

فرمایا:

👈 بیٹیوں کے لیے اس میں (زمین اور جائیداد میں) حصہ ہے۔

 

میں نے کہا:

یہ کیسے ہوا، جب کہ اس (بیوی) کا ایک آٹھواں حصہ مقرر ہے اور اس (بیٹی) کا ایک چوتھائی؟

 

فرمایا: کیونکہ عورت کا ایسا نسب نہیں ہوتا جس کی وجہ سے وہ ارث لے،

وہ (خاندان میں) داخل ہونے والی ہوتی ہے۔

اور یہ حکم اس لیے رکھا گیا

کہ ایسا نہ ہو کہ عورت نکاح کرے،

پھر اس کا شوہر یا اس کا بچہ کسی دوسری قوم سے آ جائے

اور دوسری قوم کے لوگوں کی جائیداد میں مزاحمت کرنے لگے۔

 

📚 وسائل الشيعة - ط الإسلامية نویسنده : الشيخ حرّ العاملي جلد : 17 صفحه : 518

 

نواسب کی سب سے بڑی رسوائی یہ ہے کہ

 

👈 امام فرماتے ہیں: "بیٹیوں کے لیے زمین اور جائیداد میں حصہ ہے۔"

 

مزید یہ کہ سیدہ ص رسول ﷺ کی جائیداد کی وارث تھیں اس پوسٹ پر ملاحظہ کریں 👇

 

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1163821862613513&id=100069571310961&mibextid=Nif5oz

 

۔

 

🔴 نتیجہ:

 

• روایت عورتوں (زوجات) کی بات کر رہی ہے

• بیٹیوں کو واضح طور پر مستثنیٰ کیا گیا ہے

• حضرت فاطمہ بیٹی ہیں، بیوی نہیں

لہٰذا وہ زمین سے ارث پاتی ہیں۔

 

ماخذ: تحقیق قضیہ فدک

و 

تحاریر سید قبلہ جری حیدر (خیر طلب)

 

📎 بدر علی 

 

Invisibleislam.com

 

اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد

 

۔

 

اور اسی باب میں زوجہ کا غیر منقولہ جائیداد سے میراث نہ پانے کی وجہ بھی کئی روایات میں بیان ہوئی ہے (البتہ اپنے قرآن کے طہہ کردہ حصے کے علاوہ ہبہ و وصیت سے پا سکتی ہیں)

 

♦️ جن میں سے چند ملاحظہ کریں 

 

▪️روایت 7: امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

 

📜 "عورت کے لیے لکڑی اور اینٹ کی قیمت اس لیے مقرر کی گئی ہے

👈 تاکہ وہ (زمین پا کر) دوسرا نکاح نہ کریں، اور ان (وارثوں) میں کوئی ایسا شخص داخل نہ ہو جو ان کی میراث کو خراب کرے۔"

 

📚 الكافي - الشيخ الكليني - ج ٧ - الصفحة ١٢٧

 

▪️روایت 6: امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

 

📜 "عورتیں گھروں کی زمین یا جائیداد میں سے کچھ وراثت نہیں پاتیں، لیکن عمارت اور اینٹوں کی قیمت لگائی جاتی ہے، اور اسے اس کا آٹھواں یا چوتھائی حصہ دیا جاتا ہے۔"

👈 پھر فرمایا: "یہ اس لیے ہے تاکہ وہ (زمین وغیرہ لے کر) دوسرا نکاح نہ کریں، اور یوں وارثوں کی میراث میں فساد نہ ہو۔"

 

📚 الكافي - الشيخ الكليني - ج ٧ - الصفحة ١٢٧

 

▪️روایت 5: امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

 

📜 "عورت اینٹ وغیرہ کی چیزوں کی قیمت میں سے وراثت پاتی ہے، لیکن مکانات میں سے کچھ بھی وراثت نہیں پاتی۔" محمد بن مسلم کہتے ہیں: میں نے پوچھا:

"وہ شاخ (یعنی بنی ہوئی چیز) میں سے کیسے وراثت پاتی ہے، جب کہ اصل (زمین) میں سے نہیں پاتی؟"

 

امام نے فرمایا:

👈 "اس لیے کہ عورت کا ان سے (خاندان والوں سے) کوئی نسبی رشتہ نہیں ہوتا کہ جس کے ذریعے وہ اصل میں سے وراثت پائے۔ وہ ان میں آیا ہوا (دخیل) ہے۔ اس لیے وہ شاخ میں سے وراثت پاتی ہے، مگر اصل میں سے نہیں پاتی، اور اس کی وجہ سے کوئی دوسرا شخص ان کے اندر داخل نہ ہو جائے۔"

 

📚 الكافي - الشيخ الكليني - ج ٧ - الصفحة ١٢۸

 

اسی طرح اور بھی روایات ہیں

 

♦️ جس سے ثابت ہوا کہ بیوی منقولہ (وہ جائیداد جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکے) میراث سے اپنا مخصوص حصہ ضرور پاتی ہے جیسا کہ اسی باب دیگر روایات سے بھی واضح ہے۔

 

♦️ لیکن جس مقصد کے تحت یہ دلیل پیش کی جاتی ہے وہ مقصد حاصل نہ ہوا نواسب کو، کیوں کہ خلیفہ صاحب تو زمین کے علاوہ حصے دینے کے بھی منکر تھے کہتے تھے سب کچھ ہی صدقہ ہے

 

۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14