Back to فدک

حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟

حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟
حدیث لانورث اور الکافی کی روایت؟

🔴 حدیث لانورث اور الکافی؟

 

نواسب حضرات الکافی کی جن روایات سے استدلال کرتے ہیں کہ انبیاء کی میراث نہیں ہوتی، انکا جواب

 

1⃣ پہلی ورایت

 

📜 باب صفة العلم وفضله وفضل العلماء

📃 باب: علم کی خصوصیات، اس کی فضیلت اور علماء کی فضیلت

 

📜 ۲: مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ 👈مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ 👉 عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَ ذَاكَ أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُورِثُوا دِرْهَماً وَ لَا دِينَاراً وَ إِنَّمَا أَوْرَثُوا أَحَادِيثَ مِنْ أَحَادِيثِهِمْ فَمَنْ أَخَذَ بِشَيْ‌ءٍ مِنْهَا فَقَدْ أَخَذَ حَظّاً وَافِراً فَانْظُرُوا عِلْمَكُمْ هَذَا عَمَّنْ تَأْخُذُونَهُ فَإِنَّ فِينَا أَهْلَ الْبَيْتِ فِي كُلِّ خَلَفٍ عُدُولًا يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ الْغَالِينَ وَ انْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ وَ تَأْوِيلَ الْجَاهِلِينَ.

 

📃 ترجمہ: محمد بن یحییٰ، احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، محمد بن خالد سے، ابو البختری سے، اور ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: “علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء نے نہ تو درہم چھوڑا نہ دینار، بلکہ انہوں نے اپنی احادیث چھوڑیں۔ پس جو شخص ان میں سے کسی چیز کو اختیار کرے، اس نے ایک بڑا حصہ حاصل کیا۔ لہٰذا دیکھو! یہ علم تم کس سے لیتے ہو، کیونکہ ہمارے اہلِ بیت میں ہر دور میں ایسے عادل افراد موجود ہیں جو اس علم سے غالیوں کی تحریف، باطل پرستوں کی نسبتیں، اور جاہلوں کی تاویلوں کو دور رکھتے ہیں۔”

 

📚 الکافی جلد ١ ص١٧

 

۔

 

 ✅ جواب ✅

 

علامہ مجلسی نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے 

 

📜 الحدیث الثانی : ضعیف 

 

📚 مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول نویسنده : العلامة المجلسی جلد : 1 صفحه : 103

 

⭕ اس روایت میں موجود 2 راویوں کا حال 

 

1: مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ

 

علامہ ابوالقاسم خوئی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ 

 

📜 10715- محمد بن خالد بن عبد الرحمن: 

👈 و كان محمد ضعيفا في الحديث 

 

📚 معجم رجال الحديث نویسنده : الخوئي، السيد أبوالقاسم جلد : 17 صفحه : 71 

 

۔

 

2: أَبِي الْبَخْتَرِيِّ

 

علامہ ابوالقاسم خوئی نے ان کے بارے میں لکھا کہ

 

📜 13228- وهب بن وهب بن عبد الله: 

قال النجاشي: «وهب بن وهب بن عبد الله بن زمعة [ربيعة بن الأسود بن المطلب بن أسد بن عبد العزى أبو البختري، روى عن أبي عبد الله ع، و كان كذابا، و له أحاديث مع الرشيد في الكذب، 👉

👈 و قال الشيخ 778: «وهب بن وهب أبو البختري، عامي المذهب، ضعيف، له

📜 قال ابن الغضائري: «وهب بن وهب بن عبد الله بن معين الأسود بن المطلب بن عبد العزيز [العزى أبو البختري القاضي، كذاب، عامي، إلا

📜 كان أبو البختري من أكذب البرية۔ 

📜 وهب بن وهب، عامي ضعيف، متروك الحديث فيما يختص به 

📜 وهب بن وهب، ضعيف جدا

 

📚 معجم رجال الحديث نویسنده : الخوئي، السيد أبوالقاسم جلد : 20 صفحه : 231،235

 

۔

۔

 

2⃣ دوسری روایت

 

📜 بَابُ ثَوَابِ الْعَالِمِ وَ الْمُتَعَلِّمِ‌

📃 باب: عالم اور سیکھنے والے کے اجر کا باب

 

📜 1- مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ وَ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ 👈 سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ 👉 وَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ جَمِيعاً عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحِ وَ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنِ الْقَدَّاحِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص‌ مَنْ سَلَكَ طَرِيقاً يَطْلُبُ فِيهِ عِلْماً سَلَكَ اللَّهُ بِهِ‌[3] طَرِيقاً إِلَى الْجَنَّةِ وَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِهِ‌[4] وَ إِنَّهُ يَسْتَغْفِرُ لِطَالِبِ الْعِلْمِ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَ مَنْ فِي الْأَرْضِ حَتَّى الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ وَ فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ النُّجُومِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَ إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَاراً وَ لَا دِرْهَماً وَ لَكِنْ وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَ مِنْهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ.

 

📃 ترجمہ: محمد بن حسن اور علی بن محمد نے، سھل بن زیاد سے، اور محمد بن یحییٰ نے احمد بن محمد سے، سب نے، جعفر بن محمد الاشعری سے، اور عبد اللہ بن میمون القداح اور علی بن ابراہیم نے اپنے والد سے، حماد بن عیسیٰ سے، القداح سے، اور ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:

 

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 

"جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کوئی راستہ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے ذریعے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔

اور فرشتے علم حاصل کرنے والے کے لیے اپنی پروازیں جھکا دیتے ہیں، خوشی اور رضا کے ساتھ۔

اور جو شخص علم حاصل کرتا ہے، آسمان و زمین کے تمام لوگ، یہاں تک کہ سمندر میں مچھلی بھی، اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔

 

اور عالم کی فضیلت عبادت کرنے والے پر ایسی ہے جیسے پورے آسمان کے ستاروں پر چاند کی روشنی کی فضیلت ہے، چاندنی کی رات میں۔

اور بے شک علماء، انبیاء کے وارث ہیں، کیونکہ انبیاء نے نہ درہم چھوڑا نہ دینار، بلکہ علم چھوڑا۔

پس جو شخص اس علم میں سے کچھ حاصل کرے، اس نے یقینی طور پر ایک بھرپور حصہ حاصل کیا۔"

 

📚 الکافی جلد ١ ص١۹

 

✅ جواب ✅

 

علامہ مجلسی کہتے ہیں 

 

اس حدیث کے دو اسناد ہیں:

📜 پہلا سند مجهول (نامعلوم) ہے، اور دوسرا سند حسن یا موثق ہے،

 

✅ مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول نویسنده : العلامة المجلسي جلد : 1 صفحه : 111

 

⭕ روایت میں موجود 1 راوی کا حال 

 

1: سهل بن زياد:

 

علامہ ابوالقاسم خوئی لکھتے ہیں کہ 

 

📜 قال النجاشي: «سهل بن زياد أبو سعيد الآدمي الرازي، كان ضعيفا في الحديث

📜 سهل بن زياد الآدمي الرازي يكنى أبا سعيد، ضعيف، 

📜 ضعيفا جدا، فاسد الرواية و المذهب 

📜 قوله: إن أبا سعيد الآدمي ضعيف جدا عند نقاد الأخبار. و كيف كان فسهل بن زياد الآدمي ضعيف جزما، أو أنه لم تثبت وثاقته

 

📚 معجم رجال الحديث نویسنده : الخوئي، السيد أبوالقاسم جلد : 9 صفحه : 354،357

 

۔

۔

 

🔴 ہم دونوں روایات کو بلکل صحیح سمجھ بھی لیں تو؟ 🔴

 

اگر ہم ان دونوں روایات کو صحیح مان بھی لیں تو وہ مطلب نہیں مکلتا ہے نواسب کے گھڑی ہوئی روایت کا نکلتا ہے

 

▪️اول تو ان روایات میں انبیا کے حقیقی وارثوں کی مادی وراثت کی نفی موجود ہی نہیں۔

 

👈 اور دوسرا اگر مان بھی لی جائے بات پھر بھی علم کے وارث بھی بی بی پاک فاطمہ س ہی ہیں ، تو ان کو وراثت کا مسئلہ بھی نہیں تھا معلوم؟ اور ابوبکر کے پاس چلی گئیں حتی ابوبکر کے بتانے پر ناراض بھی ہو گئیں معاذ اللہ 

 

▪️تیسرا یہ روایات علم کی فضیلت کے باب میں آئی ہیں کہ یعنی رسولﷺوآلہ جب جاتے ہیں تو علماء کے لئے درھم و دینار نہیں چھوڑتے بلکہ ان کے لئے احادیث اور علم چھوڑ کر جاتے ہیں 

 

✅ جب امام ع نے فرمایا علما انبیاء کے وارث ہیں، *تو ممکن تھا کہ یہ سمجھا جاتا کہ انبیاء کے مال کے وارث علماء بھی ہوتے ہیں جو کے بلکل غلط بات تھی* 

 

اس لئے امام ع نے آگے فرمایا انبیاء تو درھم و دینار کو اہمیت نہیں دیتے بلکہ ان کا علم ہی ہوتا ہے جو اہم چیز ہے۔

 

*یہی وجہ تھی کہ یہ روایات بھی علم کی فضیلت کے باب میں نقل ہوئی نہ کہ وارثت کے باب میں۔*

 

❓ اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعاً اس سے رسولﷺوآلہ کے ترکہ کے جو وارث ہیں ان سے وراثت کی نفی ہورہی ہے؟ ، 

 

✅ اگر ایسا ہوتا تو "کتاب الفرائض" "کتاب المیراث" یا ان جیسی کُتب میں لایا جاتا تو ثابت ہوتا کہ واقعاً انبیاء علیہم السلام کا کوئی مالی وارث نہیں۔

 

کیوں کے علما کسی بھی صورت میں انبیا کے حقیقی وارث (جیسے کے گھر والے) نہیں ہو سکتے تھے۔

 

✅ اسلئے یہاں امام ازالہ فرمانا چاہ رہے ہیں کہ علماء انبیاء کے وارث سے مراد علمی ہے ، مالی وارث تو گھر والے ہی ہوتے ہیں۔

 

✅ اسی لئے امام نے فرمایا علما درہم و دینار کے وارث نہیں ، 

 

✅ کیوں کہ سب جانتے ہیں شرعی طور پر مالی وارث صرف گھر والے ہوتے ہیں۔ علما نہیں

 

🔴 آخر میں قبلہ خیر طلب (سید جری حیدر) کی مثال سے بات ختم کرتا ہوں 

 

لکھتے ہیں کہ 

 

📜 چناچنہ علماء کے علاوہ جو گھر والے ہیں ان کے لئے اس حدیث میں کوئی حکم نہیں، جب موضوع حدیث ہی مختلف ہے تو حکم مختلف ہوں گے۔ ایک کا موضوع وراثت مجازی ہے جس کا تعلق انبیاء علیہم السلام سے ہے اور ایک کا تعلق میراث حقیقی سے ہے جس کا تعلق اہل خانہ سے ہے، دونوں کو ملانا غلط ہے

 

جس طرح وراثت کے ایک حقیقی معنیٰ ہوتے ہیں اور ایک مجازی تو دونوں میں اختلاط حماقت ہے 

 

👈 جیسے کہا جائے زید ہی علامہ اقبال کا وارث ہے تو ادھر واضح طور پر سمجھ آجائے گا کہ ادھر بات علامہ اقبال کے افکار، نظریات، شاعری کی ہورہی ہے اور اس میں زید جیسا کوئی نہیں جو ان کے علمی تراث کا محافظ ہو جب ہی اس کو وارث کہا گیا لیکن اگر اس سے یہ مراد لی جائے کہ علامہ اقبال کے حقیقی وارثین محروم ارث ہوں گے تو اس کو صرف حماقت ہی کہا جائے گا۔ فافھموا!!

 

💯 لہذا ان روایات سے مالی وراثت کی نفی مراد لینا جہالت کے سوا کچھ نہیں 

 

🔴 اسکی شرح بھی پڑھ لیتے جو شارحین نے کی ہے 🔴

 

1⃣ اسکی شرح میں علامہ باقر مجلسی رح نے لکھا 

 

📜 ولا ينافي أن يرث وارثهم الجسماني منهم ما يبقى بعدهم من الأموال الدنيوية

 

📃 اور یہ حدیث اس بات کے منافی نہیں کہ انبیاء کے جسمانی وارث ان سے ان کی میراث پائیں جو ان کے بعد باقی رہ جائے ۔

 

📚 مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول ، ج ١ ، ص ١٠٤

 

2⃣ ملا فیضِ کاشانی رح نے اسکی شرح میں لکھا 

 

📜 أن المراد أن الأنبياء لم يكن من شأنهم و عاداتهم جمع الأموال و الأسباب كما هو شأن أبناء الدنيا و هذا لا ينافي إيراثهم ما كان في أيديهم من الضروريات كالمساكن و المركوب و الملبوس و نحوها

 

📃 اس سے مراد یہ ہے مال و دولت جمع کرنا انبیاء کا شیوہ و عادت نہیں ہے لیکن یہ اس وراثت کے منافی نہیں جو انبیاء کے ہاتھ میں ہو جیسے مکان , سواری ، لباس وغیرہ ۔

 

📚 الوافي - ج ۱ - ص ١٤٢

 

3⃣ ملا صالح مازندرانی رح نے اس کی شرح میں فرمایا 

 

📜 قوله: (فمن أخذ) وحاصله أنه ليس ميراث النبوة المال نحو الدرهم والدينار، بل العمدة في ميراث الأنبياء- وهو ميراثهم من حيث النبوة- العلم، وذلك لا ينافي إيراثهم المال ۔

 

📃 امام ع کی حدیث کے الفاظ ( پس جس نے انبیاء سے حاصل کیا ) یہ انبیاء کی مالی وراثت نہیں کیونکہ انبیاء کی وراثت من حیث نبوت درہم و دینار جیسی رقم نہیں بلکہ نبوت کے لحاظ سے انکی وراثت علم ہے اور یہ انکی مالی وراثت کے منافی نہیں ( جو انکے وارثوں کو ملے گی ) ۔

 

📚 شرح الكافي- ج‏ ٢ ، ص ٢٩

 

🔴 امام باقر ع کی فیصلہ کن حدیث ملاحظہ فرمائیں

 

📜 الکافی: عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ جَمِيلِ بْنِ دَرَّاجٍ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (عَلَيْهِ السَّلام) قَالَ وَرِثَ عَلِيٌّ (عَلَيْهِ السَّلام) عِلْمَ رَسُولِ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) وَوَرِثَتْ فَاطِمَةُ (عَلَيْهِا السَّلام) تَرِكَتَهُ.

 

📃 امام باقر ع نے فرمایا کہ امیرالمومنین علی ع رسولِ خدا ﷺ کے علم کے وارث بنے اور سیدہ فاطمہ ع رسولِ خدا ﷺ کی جائیداد کی وارث بنیں ۔

 

📚 الكافي - الشيخ الكليني - ج ٧ - الصفحة ٨٦

 

✅ اسکی سند معتبر ہے ، علامہ مجلسی نے بھی اسے معتبر قرار دیا ہے 

 

📚 حسن ، مراۃ العقول فی شرح اخبارِ آلِ رسول ، ج ۳ ، ص ۱۳۲

 

 

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20