🔴 میراث انبیاء
📜 كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَ عِنْدَهُ أَبو بَصِيرٍ فَقَالَ أَبو عَبْدِ اللهِ : إِنَّ دَاوُدَ وَرِثَ الْأَنْبِيَاءَ، وَإِنَّ سُلَيمانَ وَرِثَ دَاوُدَ، وَ إِنَّ مُحَمَّداً وَرِثَ سُلَيْمَانَ، وَمَا هُناكَ، وَ إِنَّا وَرِثْنَا مُحَمَّداً وَإِنَّ عِنْدَنَا صُحُفَ إِبْرَاهِيمَ وَ أَلْوَاحَ مُوسَى فَقَالَ لَهُ أَبو بَصِيرٍ: إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعِلْمُ؟
فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدًا لَيْسَ هَذَا هُوَ الْعِلْمَ، إِنَّمَا هَذَا الْأَثَرُ، إِنَّمَا الْعِلْمُ مَا حَدَثَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ يَوْمًا بِيَوْمِ
📃 میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں تھا اور ابو بصیر بھی وہاں موجود تھے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"بےشک داؤدؑ نے انبیاء کی وراثت پائی، اور سلیمانؑ نے داؤدؑ کی وراثت پائی، اور محمد ﷺ نے سلیمانؑ کی وراثت پائی، اور جو کچھ وہاں تھا (سب کچھ). اور بےشک ہم نے محمد ﷺ کی وراثت پائی ہے، اور ہمارے پاس ابراہیمؑ کے صحیفے اور موسیٰؑ کے الواح موجود ہیں۔"
ابو بصیر نے عرض کیا: "کیا یہ علم ہے؟ (یعنی کیا یہ علمی میراث ہے)
امام نے فرمایا:
📜 "اے ابو محمد! یہ علم نہیں ہے، یہ تو صرف آثار ہیں۔ علم وہ ہے جو دن اور رات میں، ہر روز نیا ہوتا ہے۔"
📚 الکافی
📚 بصائر الدرجات
📚 بحار الانوار
📎 بدر علی
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen