Back to فدک

کیا رسولِ خدا ص کی اولاد ان سے وراثت پاتی ہے؟

کیا رسولِ خدا ص کی اولاد ان سے وراثت پاتی ہے؟
کیا رسولِ خدا ص کی اولاد ان سے وراثت پاتی ہے؟
کیا رسولِ خدا ص کی اولاد ان سے وراثت پاتی ہے؟
کیا رسولِ خدا ص کی اولاد ان سے وراثت پاتی ہے؟
کیا رسولِ خدا ص کی اولاد ان سے وراثت پاتی ہے؟
کیا رسولِ خدا ص کی اولاد ان سے وراثت پاتی ہے؟
کیا رسولِ خدا ص کی اولاد ان سے وراثت پاتی ہے؟
کیا رسولِ خدا ص کی اولاد ان سے وراثت پاتی ہے؟
کیا رسولِ خدا ص کی اولاد ان سے وراثت پاتی ہے؟

🔴 کیا رسولِ خدا ﷺ کی اولاد ان سے وراثت پاتی ہے؟

 

▪️ جب قرآنِ کریم میں عام طور پر وراثت کا حکم آیا ہے، تو لازمی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ رسولِ خدا ﷺ کا عقیدہ بھی یہی تھا کہ انبیاء اپنے اہلِ خانہ کے لیے وراثت چھوڑتے ہیں۔ لہٰذا اس کے بعد کسی علیحدہ حدیث کی ضرورت ہی نہیں، بلکہ قرآن ہی فیصلہ کن دلیل ہے۔

 

⭕ اہلِ سنت کی کتابوں میں گود لیے بچے کے لیے رسولِ خدا ﷺ کا ارث کی 👈وصیت👉 کرنے کی روایات نقل ہوئی ہے 

 

🔴 وصیت 👇

 

📜 "إن زيدًا ابني يرثني وأرثه"

📃 یعنی: زید میرا بیٹا ہے؛ وہ مجھ سے وراثت پائے گا اور میں اس سے وراثت لوں گا۔

 

👈 اس روایت کو مخالفین (اہلِ سنت) کی ۳۰ سے زیادہ کتابوں نے نقل کیا ہے۔ چند نمونے پڑھنے کے بعد نتیجہ غور سے پڑھیں 🙏

 

1️⃣ إعراب القرآن ابوجعفر نحاس (ج 3، ص 302)

 

📜 وما جعل أدعياءكم أبناءكم

📃 اور نہ ہی اُس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے (حقیقی) بیٹے بنایا ہے" 

 

مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت زید بن حارثہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ حدیث میں ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے زید کو رسول اللہ ﷺ کو ہبہ کیا تھا۔ پھر زید کا باپ حارثہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا: "انہیں میرے بدلے میں لے لیجیے۔" 

 

تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 

"میں زید کو اختیار دوں گا؛ اگر وہ میرے پاس رہنا چاہے تو رہے، اور اگر تمہیں چاہے تو تم اسے لے جاؤ۔" زید نے رسول اللہ ﷺ کے پاس رہنے کو ترجیح دی، 

 

تو نبی ﷺ نے اسے آزاد کر دیا اور فرمایا:

 

📜 و هو ابني يرثني وأرثه

📃 "یہ میرا بیٹا ہے، یہ میرا وارث ہوگا اور میں اس کا وارث ہوں۔" 

 

پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

 

"اور اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے نہیں بنایا۔" یعنی: انہیں ان کے اپنے باپوں کی طرف منسوب کرو۔

 

ابن عمر کہتے ہیں: "ہم اسے صرف زید بن محمد کہا کرتے تھے۔" پھر ہر منہ بولا بیٹا اپنے حقیقی باپ کی طرف منسوب کیا گیا۔

 

۔

 

2️⃣ الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب (ج 2، ص 545)

 

📜 آپ ﷺ نے زید کو بلایا اور پوچھا: "کیا تم ان دونوں کو پہچانتے ہو؟"

 

زید نے کہا: "جی ہاں۔"

 

پوچھا: "یہ کون ہے؟"

 

زید نے کہا: "یہ میرے والد ہیں، اور یہ میرے چچا۔"

 

پھر آپ ﷺ نے فرمایا: "تم مجھے بھی جانتے ہو اور میرے ساتھ اپنی صحبت اور زندگی کا حال بھی دیکھ چکے ہو۔ اب مجھے اور انہیں میں سے جسے چاہو منتخب کرلو۔"

 

زید نے کہا: "میں آپ کے اوپر کسی کو نہیں چُن سکتا۔ آپ میرے لیے باپ اور چچا کی جگہ ہیں۔"

 

اس کے والد اور چچا نے حیرت سے کہا: "ہائے تیری حالت اے زید! کیا تو غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتا ہے؟ اپنے باپ، اپنے چچا اور اپنے گھر والوں پر؟"

 

زید نے کہا: "جی ہاں! میں نے اس شخص میں ایسی باتیں دیکھی ہیں کہ میں کبھی بھی کسی کو ان پر ترجیح نہیں دے سکتا۔"

 

جب رسول اللہ ﷺ نے اس کا یہ جذبہ دیکھا تو اسے حجر کی طرف لے گئے اور اعلان فرمایا:

 

📜 "اے لوگو جو یہاں موجود ہو! گواہ رہو کہ زید میرا بیٹا ہے۔ وہ میرا وارث ہوگا اور میں اس کا وارث ہوں۔"

 

جب اس کے باپ اور چچا نے یہ دیکھا تو ان کے دل مطمئن ہو گئے اور وہ واپس چلے گئے۔

 

اس کے بعد زید کو "زید بن محمد" کہا جانے لگا، یہاں تک کہ اسلام آیا اور یہ آیت نازل ہوئی:

 

"انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو۔"

 

۔

 

3️⃣ المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز ابن عطیہ (ج 4، ص 368)

 

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان:

 

📜 وما جعل أدعياءكم أبناءكم

📃 "اور اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے نہیں بنایا"

 

 اس کی وجہ زید بن حارثہ کا واقعہ ہے؛ لوگ اسے "زید بن محمد" کہا کرتے تھے۔

وہ حضرت خدیجہ کے غلام تھے تو انہوں نے انہیں رسول اللہ ﷺ کو ہبہ کر دیا۔ وہ کچھ عرصہ رسول اللہ ﷺ کے پاس رہے، پھر ان کے چچا اور والد آئے اور فدیہ دے کر واپس لینے کا ارادہ کیا۔

 

رسول اللہ ﷺ نے یہ بعثت سے پہلے کی بات ہے فرمایا: "زید کو اختیار دے دو؛ اگر وہ تمہیں اختیار کرے تو بغیر فدیہ کے لے جاؤ۔"

پھر انہوں نے زید کو اختیار دیا تو اس نے اپنی آزادی اور اپنے اہل خاندان پر محمد ﷺ کی غلامی کو ترجیح دی۔

 

پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 

📜 "اے قریش کے لوگو! گواہ رہو کہ یہ میرا بیٹا ہے؛ یہ میرا وارث ہوگا اور میں اس کا وارث ہوں۔"

 

۔

 

4️⃣ التسهیل لعلوم التنزیل دکتر عبداللہ خالد (ج 2، ص 145)

 

📜 "اس موقع پر نبی ﷺ نے اس سے فرمایا: ’زید آزاد ہے، اور وہ میرا بیٹا ہے؛ وہ مجھ سے وراثت پائے گا اور میں اس سے وراثت لوں گا‘۔

یہ بات زید کے والد کے لیے باعثِ تسلی بنی اور وہ راضی ہوکر واپس چلے گئے۔

 

📚 https://shamela.ws/book/23626/624#p5

 

۔

 

✅ یہ روایت صحیح ہے

 

✅✅ رسول ﷺ نے گود لیے بچے کیلئے اس لیے وصیت فرمائی کیوں کہ منہ بولی اولاد صرف وصیت یا ہبہ سے ایک حد تک میراث میں حصہ پا سکتے ہیں

 

✅✅✅ جو نبی ص منہ بولے بیٹے کی میراث کیلئے اتنے فکرمند ہوں کہ لوگوں کو گواہ بنائے تو کیسے ممکن ہے اپنی سگی بیٹی میراث کے معاملات سے بے خبر رکھا ہو؟ 

 

✅✅ حقیقی بیٹی کیلئے وصیت کی ضرورت اسی لئے محسوس نہیں کی کیوں کہ حقیقی اولاد تو بنص قرآن وراثت پاتی ہے جو زیادہ واضح حکم ہے

 

✅ آیت نے رسول ﷺ کی وصیت کو غلط نہیں کہا بلکہ یہ واضح کیا کہ منہ بولے بیٹے حقیقی اولاد نہیں

 

۔

 

🔴 اہل سنت حضرت ممکنہ سوالات کے جوابات 🔴

 

⭕ یہ زمانہ جاہلیت کا واقعہ ہے ، میراث کا نساب و معاملات تو اسلام آنے کے بعد اللّه نے واضح کئے ہیں

 

✅ اس سے رسول ﷺ کی وصیت پر فرق نہیں پڑتا

 

⭕ گود لیا بچہ وراثت نہیں پاتا

 

✅ تو عام اصول ہے آدمی وصیت کے ذریعے اپنا مال گود لیے بچے کو دے سکتا ہے۔ جیسے رسول ﷺ نے قریش کے سامنے وصیت فرمائی

 

⭕ زمانہ جاہلت میں جب وراثت کا نساب موجود نہیں تھا تو لوگ وصیت کرکے ہی وراثت تقسیم کرتے تھے

 

✅ اس سے ہمارا دعوی ہی درست ثابت ہوتا ہے کہ انبیا میراث چھوڑتے ہیں ۔ جیسا رسول ﷺ نے وصیتِ میراث کی۔ جو غیر حقیقی بیٹے کے لیے بطور وصیت جائز ہے 

 

⭕ آیت کے نازل ہونے کے بعد منہ بولے بیٹے زید کی میراث کا معاملہ بھی منسوخ ہو گیا 

 

✅ منہ بولے بیٹے کی وراثت کے منسوخ ہونے کے قانون میں کوئی شک نہیں

 

👈 مگر یہاں رسول ﷺ کا قریش کو گواہ بنا کر وصیت کرنا بتاتا یے کہ یہ میراث حقیقی بیٹے کے نساب کی طرح نہیں جس سے اسلام نے منع کیا 

 

👈👈 اور پھر سیدہ ص تو حقیقی اولاد تھیں جن کا حصہ سورہ نساء میں خود اللہ نے مقرر کیا ہے، 

 

⭕ رسول ﷺ کو اعلان نبوت سے پہلے میراث کا علم نہیں تھا تو وصیت کیسے کر سکتے ہیں

 

✅ الحمد اللہ شیعہ و سنی کا اجماع کے کہ رسول ﷺ نے اعلان نبوت سے پہلے بھی کبھی کوئی غیر شرعی فعل انجام نہیں دیا ۔

کیوں کہ رسول ﷺ نہ صرف پیدائشی نبی بلکہ اس وقت بھی نبی تھے جب آدم روح و جسم کے درمیان تھے اور شرعی احکام کو جانتے تھے

 

/topic/1812

 

⭕ اگر کہا جائے کہ "یہ اعلانِ وصیتِ وراثت بعثت سے پہلے تھا، اس لیے شرعی حکم نہیں بنتا، 

 

✅ تو اگر بعثت سے پہلے وراثت جاری تھی تو “لانورث” کی حدیث کیسے "سنتِ انبیاء" کہلا سکتی ہے؟ 

 

✅ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول ﷺ بعثت سے پہلے بھی اسلام و شرعی احکامات کو جاننے والے تھے ، وہ جانتے تھے انبیاء میں میراث پائی جاتی ہے جیسا کہ ہم قرآن سے ثابت کر چکے ہیں۔ 

 

‼️ ممکن ہے اعتراض کیا جائے کہ یہ وراثت مادی نہیں، بلکہ علمی تھی!

 

❓ جواب: کون سا عاقل یہ مانے گا کہ اگر باپ کے پاس علم ہو تو لازمی ہے کہ اس کی اولاد بھی وہی علم وراثت میں لے؟

 

❓ کیا ہر عالم کا بیٹا لازماً عالم بنتا ہے؟

 

مزید یہ کہ روایت میں آیا ہے: "وأرثه" یعنی رسول اللہ ﷺ بھی زید سے وراثت لیں گے۔

 

❓ تو کیا نبی ﷺ زید سے علم وراثت میں لیں گے؟

 

⭕ ان نواسب کا اعتراض باطل ہے کیوں کہ خود انکے مفسرین س محدثین لکھتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کو 

👈 میراث میں سگے بیٹے کے برابر رکھتے تھے 👉

 

📜 وهو الذي يهدى السبيل. وقيل: كان الرجل في الجاهلية إذا أعجبه جلد الرجل وظرفه: ضمه إلى نفسه وجعل له مثل نصيب الذكر من أولاده من ميراثه

 

📚 الكشاف للزمخشري

 

📜 كانتِ العربُ تتبنّى الولدَ وتسمِّيهِ باسمِها، فيَنتسِبُ كأولادِهم مِن أصلابِهم، ويَرِثُونَ منهم كأبناءِ النَّسَبِ،

 

📚 أحكام القرآن للطريفي

 

📜 كان أهل الجاهليّة إذا أعجب أحدَهم جَلَدُ الرجل وظُرْفُه ضمَّه إلى نفسِهِ، وَجَعَل له مثلَ نصيب ذَكَر من ولده من ميراثه.

 

📚 معاني القرآن للفراء — أبو زكريا الفراء ٢٠٧ هـ

 

📜 أي ما جعل من تبنَّيتُموهُ واتَّخذتُموه ولداً، بمنزلة الولد في الميراث۔

 

📚 معانی قرآن کریم النحاس

 

۔

 

✅ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ایک آدمی اپنے منہ بولے بیٹے کے لیے وصیت کر سکتا ہے اسی طرح عاقل منہ بولا بیٹا بھی اپنے پالنے والے کیلئے وصیت کرسکتا ہے

 

💯 اور کیونکہ یہاں وصیتِ میراث کی گئی ہے تو لہذا ایک تو یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ حقیقی وارثان نہیں ہیں ، البتہ زید وصیت میراث ضرور پا سکتا ہے اور یہی اس روایت کا صحیح مطلب ہے کہ انبیا کی میراث ہوتی ہے یہاں تک کہ منہ بولے بیٹے کیلئے بھی

 

۔

 

⭕ جیسا کہ دیوبندی/وہابی/حنفی حضرات سب متفق ہیں کہ 

 

📜 منہ بولے بیٹے کے حق میں ایک تہائی ترکہ تک کی وصیت کی جاسکتی ہے۔

 

اسی طرح اسلام میں ہر بالغ، عاقل، آزاد شخص اپنے مال کا خاص حصہ کسی بھی شخص کو وصیت کر سکتا ہے

 

منہ بولا بیٹا بھی اسی اصول کے تحت وصیت کر سکتا ہے۔

اس کے ذریعے وہ اپنے پالنے والے کو مال دے سکتا ہے

 

✅ اسلئے رسول ﷺ نے منہ بولے بیٹے کی میراث کی وصیت کرکے اعلان نبوت سے پہلے ہی اپنے عمل اسلام قانون جاری کیا ، کیوں کہ رسول ﷺ اپنے علم نبوت سے اعلان نبوت سے پہلے ہی جانتے تھے کہ منہ بولا بیٹا صرف وصیت سے میراث پائے گا ✅

 

بدر علی

فرمان علی ابو مہدی معصومی

سید علی حیدر شیرازی

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9