Back to فدک

عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا

عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا
عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا
عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا
عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا
عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا
عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا
عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا
عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا
عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا
عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا
عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا
عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا
عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا
عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا
عثمان کا ابوبکر کے فیصلے کے خلاف چلنا

🔴 اہلِ سنّت کی روایات کے مطابق:

 

ابوبکر بن ابی قحافہ نے یہ دعویٰ کیا کہ پیغمبر الٰہی اپنی میراث نہیں چھوڑتے، اسی وجہ سے انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو ان کا ارث دینے سے انکار کیا، جس پر حضرت زہراءؑ نے ابوبکر پر غضب ظاہر کیا۔

 

👈 لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اہلِ سنّت کی صحیح روایت کے مطابق، عثمان بن عفان نے اپنی خلافت میں، ابوبکر کے فیصلے کے خلاف، حضرت فاطمہؑ کا ارث رسول ﷺ سے امیرالمؤمنین علیؑ کو واپس دے دیا۔

 

ابن عباس سے روایت:

 

📜 یحییٰ بن حماد نے ہمیں حدیث بیان کی، اور کہا:

ابو عوانہ نے ہمیں الاعمش سے، اسماعیل بن رجاء سے، عمیر مولا عباس سے، ابن عباس سے روایت کی، کہ انہوں نے کہا:

 

"جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا اور ابوبکر خلیفہ بنے، تو حضرت عباس (رسول ﷺ کے چچا) اور علیؑ کے درمیان رسول اللہ ﷺ کے چھوڑے ہوئے کچھ اموال پر اختلاف ہوا۔ ابوبکر نے کہا: 'جو چیز رسول اللہ ﷺ نے چھوڑ دی اور جس پر انہوں نے کوئی اقدام نہیں کیا، میں بھی اسے نہیں چھوؤں گا۔'

 

"جب عمر بن الخطاب خلیفہ بنے، تو دونوں اپنے اختلاف کو ان کے پاس لے گئے۔ عمر نے کہا: 'جو چیز ابوبکر نے نہیں چھوئی، میں بھی اسے نہیں چھوؤں گا۔'

 

"جب عثمان بن عفان خلیفہ بنے، تو دونوں اپنا اختلاف ان کے سامنے لے آئے۔ عثمان خاموش ہو گئے اور اپنا سر جھکا لیا۔"

 

ابن عباس کہتے ہیں:

"مجھے خوف ہوا کہ شاید حضرت عباس وہ تمام اموال لے لیں، لہذا میں نے اپنے ہاتھ سے حضرت عباس کے کندھوں کے درمیان دھکا دیا اور کہا: 'اے والد! میں آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ یہ اموال علیؑ کے حوالے کریں۔'

 

اور پھر حضرت عباس نے وہ تمام اموال امیرالمؤمنین علیؑ کے حوالے کر دیے۔

 

حوالہ جات:

 

📚 1. الشیبانی، احمد بن محمد بن حنبل، مسند امام احمد بن حنبل، ج1، ص238-239، حدیث 77، المحقق: شعیب الأرنؤوط و عادل مرشد، إشراف: د. عبد الله بن المحسن الترکی، الطبعة الأولى، 1421 هـ / 2001 م۔ (تعلیق المحقق: اسناد صحیح بر شرط مسلم)

 

📚 2. الشیبانی، احمد بن محمد بن حنبل، مسند امام احمد بن حنبل، ج1، ص197-198، حدیث 77، المحقق: احمد محمد شاكر، دار الحدیث – القاهرة، الطبعة الأولى، 1416 هـ / 1995 م۔ (تعلیق المحقق: اسناد صحیح)

 

📚 3. الطحاوی الحنفی، ابوجعفر احمد بن محمد بن سلامة، شرح مشکل الآثار، ج2، ص161، تحقیق: شعیب الأرنؤوط، مؤسسة الرسالة - لبنان، الطبعة الأولى، 1408 هـ / 1987 م۔ (تعلیق المحقق: اسناد صحیح بر شرط مسلم)

 

📚 4. الهیثمی، ابوالحسن علی بن ابی بکر، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج9، ص591-592، حدیث 7137، المحقق: حسین سلیم اسد الدارانی، دار المنهاج، الطبعة الأولى، 1436 هـ / 2015 م۔ (تعلیق المؤلف: رواه احمد و رجاله ثقات)

 

سوال ❓

 

ان میں کون سے صحابی کا فعل ٹھیک تھا اور کون سے صحابی کا فعل باطل تھا؟ 

 

بدر علی

 

invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15